fbpx

حلقہ این اے 249 میں پیپلز پارٹی کی کامیابی دراصل سیاسی کارکنان کی محنت کا نتیجہ ہے : سعیدغنی

وزیر تعلیم و محنت سندھ و صدر پیپلز پارٹی کراچی ڈویژن سعید غنی نے کہا کہ حلقہ این اے 249 میں پیپلز پارٹی کی کامیابی دراصل سیاسی کارکنان کی محنت کا نتیجہ ہے۔ اس ملک میں جب بھی صاف و شفاف انتخابات ہوئے ہیں پیپلز پارٹی نے بھاری اکثریت سے کامیابی حاصل کی ہے۔ مسلم لیگ نون سمیت تمام سیاسی جماعتوں کو کھلے دل سے اپنی شکست کو تسلیم کرنا چاہیے اور انتخابات کو متنازعہ نہیں بنانا چاہیے۔
آئندہ آنے والے بلدیاتی انتخابات اور 2023 کے عام انتخابات میں بھی پیپلز پارٹی انشاء اللہ بھاری اکثریت سے کامیاب ہوگی۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے گذشتہ روز حلقہ این اے 249 کے نتائج آنے کے بعد پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا۔
اس موقع پر صوبائی وزیر سہیل انور سیال، پیپلز پارٹی سندھ کے جنرل سیکرٹری وقار مہدی، حلقہ این اے 249 سے کامیاب امیدوار قادر خان مندوخیل اور دیگر بھی ان کے ہمراہ موجود تھے۔
سعید غنی نے کہا کہ ہم نے ہمیشہ کہا ہے کہ کراچی کے شہریوں کو ان کی مرضی سے ووٹ کا حق دیا جائے اور جب جب ایسا ہوا ہے اور جب جب انتخابات میں دھاندلی اور نتائج تبدیل نہیں کئے گئے ہیں، تب تب پیپلز پارٹی بھاری اکثریت سے کامیاب ہوئی ہے اور آج کے نتائج اس کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ سعید غنی نے کہا کہ آج صبح جب پولنگ شروع ہوئی تو ٹرن آئوٹ کم تھا، جس کی وجہ گرمی اور رمضان کے روزے تھا۔
انہوں نے کہا کہ صبح سے جب تک پولنگ کا اختتام ہوا اس وقت تک کسی بھی سیاسی جماعت نے کسی قسم کی دھاندلی، جعلی ووٹنگ، ان کے پولنگ ایجنٹس کو باہر نکالنے یا ان کو فارم 45 فراہم نہ کرنے کی کوئی شکایت نہیں کی۔ انہوںنے کہا کہ اچانک مسلم لیگ نون کی جانب سے کیوں اپنی جیت کا اعلان کردیا گیا حالانکہ پہلے فارم 45 سے لے کر آخری 45 فارم کے حصول تک کسی ایک موقع پر بھی وہ پیپلز پارٹی سے آگے نہیں رہی۔
سعید غنی نے کہا کہ شاید وہ اس غلط فہمی میں مبتلا تھے کہ یہ سیٹ ان کی وراثت ہے یا ان کو یہاں سے کوئی ہرا نہیں سکتا تو یہ ان کی زیادتی ہے۔ انہوںنے کہا کہ حلقہ این اے 249 میں ہونے والے ضمنی انتخابات صاف و شفاف اور غیر جانبدارانہ ہوئے ہیں۔ اس انتخابات میں صوبائی حکومت کا کوئی عمل دخل نہیں رہا اور ہم نے الیکشن کمیشن کے قواعد و ضوابط کی مکمل پاسداری کرتے ہوئے یہ الیکشن لڑا ہے اور جیتا ہے۔
سعید غنی نے کہا کہ میں کراچی ڈویژن کا صدر ہوں اور میری یہ ذمہ داری تھی کہ میں اس انتخابات کو مکمل مانیٹر کروں، اپنے کارکنان کو موبیلائیز کروں اور پارٹی کے چیئرمین کے پیغام کو ان تک پہنچائوں اور میں نے یہ کام اس حلقہ سے باہر راہ کر کئے۔ سعید غنی نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ مسلم لیگ (ن) سمیت تمام ہارنے والی سیاسی جماعتوں کو کھلے دل سے اپنی شکست کو تسلیم کرنا چاہیے۔
کیونکہ ایک صاف و شفاف انتخابات اور اس کے نتائج کو متنازعہ بنانا کوئی اچھی بات نہیں ہے۔ ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ ہمیں پہلے سے یقین تھا کہ ہم یہ الیکشن جیت جائیں گے کیونکہ شاید دیگر سیاسی جماعتوں کو ٹی وی کے پول پر اعتماد تھا لیکن ہمیں اپنے کارکنوں اور جیالوں پر مکمل اعتماد تھا اور انہوں نے اس انتخابات کے لئے جس طرح محنت اور تیاری کی تھی اس کے بعد ہماری فتح یقینی تھی۔ سعید غنی نے کہا کہ یہ انتخاب سیاسی کارکنوں کی محنت کا نتیجہ ہے اور اس کو سب کو تسلیم کرنا ہوگا۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.