fbpx

حمل کے دوران کورونا ویکسین لگوانا محفوظ ہے یا نہیں؟،نئی تحقیق کے نتائج سامنے آگئے

برطانیہ کی جانب سے جاری ڈیٹا کے مطابق دوران حمل کوویڈ 19 سے بچاؤ کے لیے ویکسینیشن کرانے والی خواتین کو کسی قسم کے منفی اثرات کا سامنا نہیں ہوتا اور بچے کی پیدائش میں مسائل نہیں ہوتے۔

باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق یوکے ہیلتھ سیکیورٹی ایجنسی کی اس تحقیق میں جنوری سے اگست 2021 کے دوران بچوں کو جنم دینے والی 3 لاکھ 55 ہزار 299 خواتین کے ڈیٹا کی جانچ پڑتال کی گئی۔ان میں سے 24 ہزار 759 خواتین نے کم از کم کووڈ ویکسین کی ایک خوراک بچے کی پیدائش سے قبل استعمال کی تھی۔

نتائج متعدد دیگر تحقیقی رپورٹس سے مطابقت رکھتے ہیں جن سے تصدیق ہوتی ہے کہ حمل کے دوران ویکسین کا استعمال ماں اور بچے دونوں کے لیے محفوظ ہے۔

ڈیٹا سے ثابت ہوتا ہے کہ مردہ بچوں کی پیدائش کی شرح ویکسینیشن اور ویکسینیز استعمال نہ کرنے والی خواتین میں لگ بھگ یکساں تھی۔یہی مماثلت کم پیدائشی وزن کے ساتھ پیدا ہونے والے بچوں کی شرح میں بھی دریافت ہوئی۔

کرونا کی نئی قسم، اسد عمر نے خطرے سے آگاہ کر دیا

دوسری جانب کورونا کے نئے ویریئنٹ ’اومیکرون‘ کے پھیلاؤ کے متعلق سب سے پہلے خبردار کرنے والوں میں سے ایک افریقی ڈاکٹر کا کہنا ہے ’او می کرون‘ کی علامات بہت ہی معمولی ہیں اور یہ وائرس 40 سال یا اس سے کم عمر کے افراد کو متاثر کر رہا ہے۔

ساؤتھ ایفریقن میڈیکل ایسوسی ایشن کی سربراہ ڈاکٹر اینجلیک کوئیٹزی نے کہا ہے کہ انہوں نے اپنے کلینک میں سات ایسے مریض دیکھے جن کی علامات ڈیلٹا سے مختلف تھیں مریضوں کے پٹھوں میں ہلکا درد، خشک کھانسی اور گلے میں خراش تھی۔

"اومی کرون” تشویش کا باعث تو ہے لیکن بے چینی کی وجہ نہیں،امریکی صدر