ہمارے بچے کہاں غائب ہوتے ہیں؟

ہمارے بچے کہاں غائب ہوتے ہیں؟
کبھی یہ سوال ہمارے دل و دماغ میں کیوں نہیں آتا؟

اگر آتا بھی ہے تو شاید اپنے ہی مسائل میں الجھا ہوا انسان اس کو نظر انداز (ignore) کر دیتا ہے؟

آج،
ہم یہ جاننے اور سمجھنے کی کوشش کریں گے کہ ہمارے بچے کہاں غائب ہوتے ہیں؟

بچوں کے غائب (missing) ہونے کا آغاز پیدا ہوتے ہی زچگی خانہ ( maternity hospital ) سے ہی شروع ہو جاتا ہے _
غریب والدین کی غربت و افلاس کا فائدہ اٹھاکر چند ہزار روپے میں بچہ کو خریدا جاتا ہے __
اس میں عیسائی مشینریز اور بچوں کے کاروبار کرنے والی ٹولیاں ہو تی ہیں _
جو،
بہت ہوشیاری اور خاموشی سے گدھ (vulture) کی طرح دواخانوں میں منڈلاتے رہتی ہیں.

عیسائی طبقہ
کی آبادی صرف دو فیصد ہے _ جو،
اپنے یتیم خانوں کو بھرنے کے لئے غریب بچوں کو خریدتے ہیں. _
اس طرح ،
ہمارے بچے عیسائی ہوجاتے ہیں.

بچوں کے غائب ہونے کی دوسری بڑی وجہ یہ ہے کہ پورے ملک میں بچوں کو اغواء کرنے والی ٹولیاں گھومتے رہتی ہیں ،
جو۔۔۔،
امیر غریب کسی کے بھی بچوں کا اغواء کرتے رہتی ہیں_
اس میں بھی ہمارے بچوں کی قابل لحاظ تعداد ہوتی ہے _
اس بارے میں بھی آج تک کسی کو غور کرنے کی بھی توفیق نہیں ہوئی.

کسی بھی سماج (society)کا تقریباً تیس فیصد حصہ نفسیاتی مریضوں ( psychiatric patients ) پر مشتمل ہوتا ہے _
جس کی غالب اکثریت بغیر کسی علاج کے زندگی گزارتے رہتی ہے.

یہ نفسیاتی مریض شادی بھی کرتے ہیں.
بچے بھی پیدا کرتے ہیں _
پھر یہی بچے ان نفسیاتی مریضوں کے مظالم کا شکار بنتے ہیں.
نفسیاتی مریض کا سب سے بڑا مسلہ یہ ہو تا ہے کہ یہ بہت غیر ذمہ دار ہوتے ہیں _
یہ ملازمت ، نوکری ، تجارت ، محنت مزدوری کسی معاملے میں سنجیدہ نہیں ہوتے _
بلکہ،
ان کی بڑی تعداد شراب ، چرس، گانجہ، جوا یا کم از کم بیکاری اور رضاکارانہ بیروزگاری کی عادی ہوتی ہے _

ایسے گھروں کے بچے باپ کے مظالم کا شکار ہو تے ہیں _

آخرکار باپ کے مظالم ، غربت و افلاس اور بھوک سے تنگ آکر گھر سے بھاگ جاتے ہیں __

گھر سے بھاگے ہوئے یہ مظلوم بچے انسانی درندوں اور گدھوں کا شکار ہوجاتے ہیں _

جو بڑے ہوکر عادی مجرم بن جاتے ہیں.

حسب روایت،
ہم حکومت کو اس کا ذمہ دار قرار دے کر اپنی ذمہ داریوں سے فرار ہو گئے.

کسی بھی اخبار میں اس کے اسباب پر کوئی ایک تحریر بھی نہیں آئی اور نہ ہی اس کے تدارک پر غور کیا گیا.

سوشیل میڈیا کے ذریعہ اپنی قوم کے شعور اور ضمیر کو بیدار کرنا ضروری ہے _
پہلے،
یہ تو سمجھنا چاہیے کہ ہمارے مسائل کیا ہیں؟
اور ان کا حل کیا ہے.؟

ہر شہر ، ٹاؤن اور گاؤں میں مسلم یتیم خانہ ہونا بہت ضروری ہے _
جہاں یتیم اور بےسہارا غریب بچوں کو پناہ مل سکے _
ہماری قوم کا کوئی بچہ یتیم اور بے سہارا ہو جائے تو سب سے پہلے اسے سر چھپانے کے لئے محفوظ پناہ گاہ ہونا انتہائی ضروری ہے __
جہاں اس کا معصوم بچپن محفوظ اور سلامت رہے.
ایک یتیم اور بے سہارا بچہ کے لئے کھانے سے بڑھ کر رات کی پرسکون نیند ہوتی ہے_
جسے فراہم کرنا ملت کی اولین ذمہ داری ہے.

ہر شہر ، ٹاؤن ، اور گاؤں میں ایسے چھوٹے چھوٹے ہی سہی ادارے ضرور قائم کریں _
اگر آپ کا بجٹ بہت کم بھی ہوتو مسلہ نہیں ہے.
بچوں کو سرکاری اسکول میں داخل کریں _
باقی آپ حسب استطاعت کچھ کریں _
قوم کے صاحب حیثیت لوگوں سے رجوع ہوں ،
ہمت کریں،
معاون اور مددگار مل جائیں گی.
انشاء اللہ۔۔

یہ بچے۔۔۔
جن کا بچپن گدھوں اور بھیڑیوں نے نوچ نوچ کر چھین لیا تھا_
بڑے ہو کر جیلوں میں ہی زندگی گزار تے ہیں _
جیل کی زندگی کیا ہوتی ہے _
سارے مجرم ایک جگہ جمع ہوتے ہیں
__ چرس ، گانجہ اور بدفعلی جیل کی زندگی کا خلاصہ ہے.

جس سے عادی مجرم ایسے مانوس ہوجاتے ہیں،
کہ
تاحیات جیل ان کا گھر آنگن بن جاتا ہے.

اگر ہم چاہتے ہیں کہ جیل میں ہمارا گراف کم ہو،
تو،
اس کا حل صرف یہی ہے کہ اپنی قوم کے بچوں سے محبت کرو.
ان کے معصوم بچپن کا تحفظ کریں __
ان شاء اللہ۔۔۔۔
بڑے ہوکر وہ جیل جانے کے بجائے خیر امت کا کردار ادا کریں گے.

اگر ہم مسلمان باعزت اور باوقار زندگی گزارنا چاہتے ہیں،
تو کرپشن اور بدعنوانی سے پاک یتیم خانے قائم کرکے اس مسلہ کا حل تلاش کریں.

قاضی : محمد قاسم اعوان

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.