ہمارے ملک میں صحت اور تعلیم کی سہولیات نہیں ہوں گی تو بیماریوں کا سلسلہ ایسے ہی چلتا رہے گارمضان لائیو ٹرانسمیشن رحمت ہی رحمت میں ڈاکٹر سہیل چغتائی اور ڈاکٹر سمیع ممتاز کی خصوصی گفتگو

رمضان المبارک کے مقدس اور بابرکت مہینے میں پاکستان کی تاریخ کی سب سے بڑی ویب ٹرانسمیشن رحمت ہی رحمت کی لائیو ٹرانسمیشن میں عنوان ہمارا اللہ کے ساتھ رابطہ میں پروفیسر ڈاکٹر سہیل چغتائی کا کہنا ہے کہ ہمیں کورونا جیسی وبا سے نجات حاصل کرنے کے لئے اپنا زندگی گزارنے کا طریقہ بدلنا پڑے گا اس ملک میں جب تک تعلیم اور صحت کی سہولیات نہیں ہوں گی تو وائرل انفیکشن آتے رہیں گے

باغی ٹی وی : رحمت ہی رحمت کی لائیو ٹرنسمیشن میں باغی ٹی وی کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے ڈاکٹر سہیل چغتائی کا رمضان اور موجودہ حالات کے بارے میں کہنا تھا کہ یہ وبا عذاب ہے یا آزمائش یہ اللہ جانتا ہے ہمیں بیدار ہونے کی ضرورت ہے یہ ہمیں خبردار کرنے کی ایک کال ہے جو ہمارے لئے اور ہماری قوم کے لئے ہے باقی قوموں نے کیا کرنا ہے یہ ان کا مسئلہ ہے

پروفیسر ڈاکٹر سہیل چغتائی نے مزید کہا کہ اس وبا سے ہم نے جو سیکھا ہے وہ یہ ہے کہ ہمیں اپنا لائف سٹائل بدلنا پڑے گا اس میں سب سے پہلی بات یہ ہے جکہ جب تک ہمارے ملک میں صحت اور تعلیم کی سہولیات نہیں ہوں گی کبھی ڈینگی ‌آجائے گاکبھی فلو کبھی کوئی اور انفیکشن تو اب کورونا یہ سلسلہ رکنے والا نہیں نئے سے نئے وائرس اور بیماریاں آتی رہیں گی

انہوں نے کہا کہ اس ملک کو تعلیم فہم اور تربیت کی ضرورت ہے ہم نی ان پر بحثیت ایک قوم توجہ نہیں دی ہمیں نہ صرف تعلیم بلکہ تربیت پر بھی توجہ دینی ہو گی

ڈاکٹر سمیع ممتاز نے رمضان اور کورونا کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ اس وبا کے اثرات شروع ہی کھانس بخار نزلہ اور گلا خراب سے ہوتے ہیں آج کل جس کو تھوری کھناسی ہو جائے کہتے ہیں کورونا ہو گیا ہے حلانکہ ہمارے ملک میں گلہ خراب اور زکام اکثر ہی رہتا ہے ہم اس کو کورونا کیوں کہتے ہیں

انہوں نے کہا کہ رمضان میں ہم ٹھنڈے مشروبات لیں گے تو گلا خراب ہونے کے چانسز زیادہ ہوتے ہیں لہذا بہت ٹھندے مشروبات سے پرہیز کریں گرم پانی پئیں ہم نے اس وبا سے کیا سیکھا اور آگے ہمیں زندگی کس طرح گزارنی ہے انہوں نے کہا پچھلے دو مہینے سے زیادہ کورونا کو ہوگئے ہیں اس کی احتیاطی تدابیرسوشل میڈیا پر بتائی جاتی ہیں کہ سماجی دوری اختیار کرو ہاتھ دھوئیں وغیرہ ہمارا اسلام بھی کہتا ہے کہ صفائی نصف ایمان ہے میانہ روی کا درس دیا گیا ہے پیٹ بھر کر مت کھائیں سماجی دوری اختیار کریں اور ٹھنڈے سے پرہیز کریں احتیاط بہت ضروری ہے

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.