fbpx

ہماری ایک ہی کہانی ہے — ریاض علی خٹک

جہاز اپنے سفر کے اختتام پر لینڈ ہوا. پونے تین سو سواریاں بے چینی سے سیٹ بیلٹ کھولنے کو بے تاب اس کے رکنے کا انتظار کر رہی ہیں. ابھی جہاز کھڑا نہیں ہوا لیکن کچھ لوگوں نے اپنا دستی سامان نکالنا شروع کر دیا ہے. ابھی دروازے نہیں کھلے لیکن لوگ کھڑے ہوگئے ہیں. سب کو جلدی ہے. سب کو اپنی اپنی جلدی ہے.

دروازہ کھلا لوگ بے چینی سے نکلنا شروع ہوئے دروازے پر ایک دو ائیر ہوسٹس ٹافیوں کی ٹوکری ہاتھ میں لئے کھڑی ہیں. لوگ اس میں سے ایک دو ٹافیاں اٹھا کر نکل رہے ہیں. لوگوں کی ہزار کہانیاں ہوں گی. جہاز کی ایک ہی کہانی ہے. اس نے اپنے چند افراد ایک بڑی مشین فضا کے پل پل بدلتے غیر متوقع موسم میں ان پونے تین سو افراد سے کرایہ لے کر منزل پر پہنچایا. آپ لاکھ کوشش کر لیں سہولیات دے دیں آپ نہ سب کو مطمئن کر سکتے ہیں نہ سو فیصد بہترین دے سکتے ہیں.

البتہ آپ رخصت کرتے ان کو مسکرا کر الوداع کہہ سکتے ہیں. آپ بھلے ایک ٹافی ہی ہو کچھ میٹھی یادیں دے سکتے ہیں جو منہ میں ڈالے جانے کیلئے بے تاب اس فرد کو اپنی مٹھاس سے بتائے گی یار اتنا بھی برا سفر نہ تھا. سفر میں اونچ نیچ تو ہوتی ہی رہتی ہے. یہ دنیا لین دین پر کھڑی ہے. ہم ہر رشتے ہر تعلق اور زندگی کے ہر میدان میں کچھ دیتے اور کچھ لیتے ہیں. جب یہ لین دین یکطرفہ ہو جائے تو کھاتہ بند ہو جاتا ہے.

ٹوکیو شہر خوش اخلاقی ایمانداری میں پہلے نمبر پر کیوں آگیا.؟ کیونکہ وہاں یہ باہمی لین دین اچھا ہے. وہاں ٹرین پر آپ سے کچھ گم ہو جائے تو ستر فیصد چانس ہیں وہ آپ کو واپس مل جائے گا. کیا ہمارے کسی شہر میں آپ یہ توقع رکھ سکتے ہیں؟ اگر ہمیں خود یہ توقع نہیں تو ہم اس قطار میں پھر شمار ہی کیسے ہو سکتے ہیں.

سب کی ہزاروں کہانیاں ہوں گی ہزاروں وجوہات ہوں گی. لیکن اپنی ذات پر ہماری ایک ہی کہانی ہے. ہمارا اپنا لین دین کیسا ہے؟ کیا ہم صرف لینا جانتے ہیں یا معاشرے کو کچھ دینے کی بھی ہمت ہے.؟ بھلے ایک ٹافی کی سکت نہ ہو تو کیا ہم خوش اخلاقی کی مسکراہٹ بھی نہیں دے سکتے.؟ کیوں ہم لینا تو حق سمجھ لیتے ہیں لیکن کچھ دیتے آنکھیں چراتے ہیں؟جبکہ دینے والا ہاتھ ہمیشہ اوپر ہوتا ہے. جیسے ٹوکیو شہر کے لوگ آج اوپر ہیں.