fbpx

بطل حریت ،حامی پاکستان سید علی شاہ گیلانی رحمتہ اللہ علیہ ازقلم :غنی محمود قصوری

بطل حریت ،حامی پاکستان سید علی شاہ گیلانی رحمتہ اللہ علیہ

ازقلم غنی محمود قصوری

تحریک حریت کے سربراہ سید علی شاہ گیلانی کل 1 اگست 2021 کو اس دار فانی سے کوچ کر گئے اناللہ وانا الیہ راجعون اللھم اغفرلہ و ارحم

سید علی شاہ گیلانی الحاق پاکستان کے سب سے بڑے حامی تھے اور کشمیریوں سمیت پاکستانیوں کے دلوں کی ڈھرکن تھے آپ مقبوضہ کشمیر کے قصبہ سوپور کے نواحی گاؤں ذورمنز میں 29 ستمبر 1929 کو پیدا ہوئے بچپن سے ہی شاہ صاحب غیرت و حمیت کے پاسباں تھےآپ کی اولاد میں ایک بیٹی فرحت گیلانی اور تین بیٹے نعیم گیلانی،نسیم گیلانی اور ظہور گیلانی شامل ہیں-

شاہ صاحب نے اپنی ساری زندگی ہندوستان کے خلاف لڑتے ہوئے گزاری آپ کا واضع اور دو ٹوک موقف تھا کہ مقبوضہ کشمیر پر ہندوستان ناجائز قابض ہے ہندوستان اپنی فوجیں کشمیر سے نکالے اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق ریفرنڈم کرائے تاہم ہندو بنیا جانتا ہے کہ آپ الحاق پاکستان کی سب سے مضبوط آواز ہیں اور ریفرنڈم کروانے کا مطلب الحاق پاکستان کا پیغام کھلے عام ساری دنیا کے سامنے رکھنا ہے سو ہندو نے ہر ظلم و جبر آپ پر کیا اور آپ کو بے بحا آفرز کرکے اپنے مؤقف سے دستبردار ہونے کی پیشکش کی تاہم ہندو بنئیے کو ناکامی کے سوا کچھ نا حاصل ہوا آپ کی تقریبآ ساری زندگی جیلوں میں گزری شاہ صاحب گزشتہ 13 سالوں کے دوران اپنے گھر میں نظر بند رہے ہیں-

وفات کے وقت آپ کی عمر 92 سال تھی اور دوران اسیری ہی آپ کا ایک گردہ کینسر کی بدولت نکالا جا چکا تھا اور دل کی سرجری بھی ہو چکی تھی مگر اس کے باوجود بھی آپ کے عزم و حوصلے میں کوئی کمی نا آئی اور آپکا نعرہ وہی رہا –

کشمیر بنے گا پاکستان
تیرا میرا رشتہ کیا ؟
لا الہ الااللہ
عام کشمیری تو کجا مقبوضہ سادی کشمیر کی تمام عسکری تنظیموں کے قائدین و مجاھدین سید علی شاہ گیلانی صاحب کی بے انتہاہ عزت کرتے ہیں

سید علی شاہ گیلانی کی خدمات پر ان کو پاکستان گورنمنٹ کی طرف سے نشان پاکستان سے نوازہ گیا تھا

آپ نے جماعت اسلامی جموں و کشمیر کے پلیٹ فارم سے 1972,1977 اور 1987 میں میں الیکشن جیتا اور اسمبلی میں کھل کر الحاق پاکستان کی صدا لگائی اور کشمیر کے غاصبانہ قبضے کے خلاف اپنی آواز بلند کی

آپ نے جماعت اسلامی سے 2003 میں علیحدگی اختیار کی اور اپنی جماعت تحریک حریت کی بنیاد رکھی مذید آپ نے کشمیر کی آزادی کی خاطر چوبیس سے زائد جماعتوں کے اتحاد سے آل پارٹیز کانفرنس کی بنیاد رکھی

مرحوم سید علی شاہ گیلانی نے اپنی زندگی میں ہی سرینگر قبرستان شہدا میں اپنی تدفین کی نصیحت کی تھی کل رات ان کی وفات کی خبر کے بعد انڈین فوج نے پورے علاقے کو اپنے گھیرے میں لے لیا ہے اور اعلان کیا ہے کہ کوئی بھی شحض اپنے گھر سے نہیں نکل سکتا تاہم کشمیری اپنی جانوں کا نذرانہ تو دے سکتے ہیں مگر اپنے محبوب لیڈر کا دیدار کئے بنا نہیں رہ سکتے-

اسی صورتحال کو بھانپتے ہوئے انڈین فوج نے پوری وادی میں کرفیو لگا دیا ہے اور موبائل و انٹرنیٹ سروس بند کر دی ہے انڈیا جو مرضی کر لے کشمیری قوم بابائے حریت سید علی شاہ گیلانی کے نقش قدم پر ہی چلے گی اور الحاق کشمیر کرکے ہی دم لے گی –

اللہ تعالی مرد مجاھد سید علی شاہ گیلانی کے درجات بلند فرمائے آمین