fbpx

ہمارے خود ساختہ معیارات تحریر: صبیحہ ابراہیم

ٹیلی ویژن دیکھیں یا اخبارات سوشل میڈیا کھولیں تو سامنے ایک جیسی خبریں گردش کرتی ہوئی نظر آتی ہیں۔جنسی تشدد ،جسمانی تشدد ،قتل اور ایسی بہت سی خبر رونگٹے کھڑے کرنے کے لیے کافی ہیں۔۔ایسا کیوں ہے؟ کون سی چیز ہے جس نے انسان کو انسان کے مرتبے سے گرا دیا اور حیوان بننے پر مجبور کر دیا ہے؟بہت سی وجوہات ہو سکتی ہیں لیکن ان میں سے ایک وجہ ہمارا خودساختہ معیار ہے۔جس کے ذمہ دار بھی ہم خود ہیں اور اس چیز کا شکار بھی ہو خود ہیں۔ہم ایک ایسا معاشرہ بن چکے ہیں جہاں انسانوں کا رہنا مشکل ہے۔جہاں لوگ روٹی کپڑے سے تنگ اور پریشان تھے اب اس بات سے پریشان ہیں کہ باہر جائیں گے تو باعزت زندہ واپس آئیں گے بھی کہ نہیں۔۔جہاں بچے ماؤں کے ساتھ محفوظ محسوس کرتے تھے اب ماٸیں ہی قومی شاہراہ پر محفوظ نہیں ہیں۔یہ اتنی شرم ناک بات ہے کہ لکھتے ہوئے قلم بھی لرز جاۓ۔۔ان سب کی وجہ ہمارا خودساختہ معیار ہے ہم نے خود کو brandsاورstandard میں اس قدر الجھا لیا ہے کہ اب ہم اس کے شکنجے میں جکڑے جاچکے ہیں۔ نکاح سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہیں اور ہم نے اس سنت کو خود سے گلے کا پھندا بنا لیا ہے۔آج کے دور میں سب سے آسان چیز زنا اور سب سے مشکل چیز نکاح ہے اور اس حقیقت سے جتنی بھی نظریں چرائی جائیں حقیقت تو یہی ہے اور نکاح کو مشکل بنانے والے بھی ہم خود ہیں ہم نے نکاح کے نام سے اتنے لوازمات جوڑ لئے ہیں کہ جب تک لاکھوں جمع نہ ہوں تو سنت پوری نہیں کر سکتے۔اور دوسری وجہ تربیت ہے والدین زمانے کی بھاگ دوڑ میں اس قدر مصروف ہو چکے ہیں کہ انہیں اولاد کی پرواہ ہی نہیں ہے۔ایسے گھروں سے نکلے ہوئے بچے جنہیں اچھے برے کی تمیز نہ سکھائی جائے حلال اور حرام میں فرق نہ سکھایا جائے تو ان کے لئے کوئی بھی گناہ ، گناہ ہی نہیں ہوتا۔انہیں رشتوں کے تقدس کا پتہ ہی نہیں ہوتا بچے کی سب سے پہلی درسگاہ ماں کی گود ہوتی ہے جب درسگاہ میں وہ گرم جوشی ہی نہیں اور وقت کی قلت ہوگئی تو بچے بھی معاشرے کے لیے ناسور ہوں گے۔۔اور تیسری وجہ ہماری بے وجہ کی خواہشات ہیں ہم نے اپنی خواہشات کو بے لگام کیا ہوا ہے کہ خواہشات کے سامنے حلال اور حرام کا فرق نہیں کر پاتے۔کہاوت ہے کہ” چادر دیکھ کر پاؤں پھیلانے چاہئیں“لیکن اب ہمیں چادر کے چھوٹے اور بڑے ہونے سے کوئی سروکار ہی نہیں ہے اس کی سب سے بڑی وجہ ہیں گھر کی خواتین۔جنہیں پتہ ہونے کے باوجود کے گھر کے سربراہ کی کمائ اتنی نہیں ہے کہ وہ بے جا خواہشات پوری کرسکیں لیکن پھر بھی وہ سب چاہیے جو امیر لوگ بآسانی خرید سکتے ہیں۔مڈل کلاس طبقے نے خود کو brandsاورstandard کی دوڑ میں خود شامل کیا ہے سارا دن کام کرکے شام کو تھکا ہارا گھر آنے والا مزدور جب حالات کا رونا روتی اور غربت کو کوستی عورت کو دیکھے گا تو دماغی بے سکونی کا مریض بنے گا۔جس کے نتیجے میں پھر ان کی درندگی کی خبریں ہم روز سنتے ہیں۔ہمیں بحیثیت مسلمان رب کی رضا پر راضی رہنا چاہیے۔بہتری کی کوشش کرتے رہنا چاہیے لیکن حلال اور حرام کی تمیز کے ساتھ۔اور دوسری طرف بچوں کی تربیت پر توجہ کی ضرورت ہے خدارا اپنے بچوں کو انسان بنائیں۔انہیں انسان کی مکمل تعریف عملی طور پر کرکے بتائیں۔انہیں عورت کا مرتبہ سمجھاٸیں۔انہیں مردکا وقار بتائیں۔اچھا انسان بنائیں۔اور والدین سے گزارش ہے کہ ذات پات امیری غریبی کے دوہرے معیار سے نکل آئیں۔دوسری ذات میں یا غریب گھر میں شادی کرنا زنا سے بہت افضل ہے۔۔ذات پات کے چکر میں بچوں کو پنکھے سے لٹکنےاور حرام موت مرنے سے بچائیں۔نکاح کو عام کریں رزق کا وعدہ میرے رب کا ہے۔اس بات پر یقین رکھیں وہ بھوکا نہیں سونے دے گاہم لوگ ہی اب اس معاشرے کو پھر سے انسانی معاشرہ بنا سکتے ہیں ورنہ رب کی پکڑ بہت سخت ہے۔

(سٹی: صادق آباد)