fbpx

ہمارا پیارا پاکستان اور ہم تحریر: شمسہ بتول

پاکستان صرف ایک مملکت ہی نہیں بلکہ یہ تو ایک نعمت ہے ۔پاکستان اللہ کا احسان ہے ہمارے اوپر۔ مگر افسوس ہم اس نعمت کی قدر کرنے سے گریزاں ہیں۔
پاکستان یونہی بیٹھے بیٹھے معرض وجود میں نہیں آگیا تھا اس کے لیے ہمارے آباواجداد نے بے پناہ قربانیاں دیں ۔ماٶں نے اپنے دودھ پیتے بچوں کے گلے دبا دیے کہ کہیں ان کے رونے کی آواز سن کر دشمن حملہ آور نہ ہو جاۓ قافلے والوں پر عورتوں نے عصمت دری سے بچنے کے لیے نہروں میں چھلانگیں لگا دیں۔ انہوں نے اپنا گھر اپنی زمینیں سب چھوڑ دیا جوانوں کو ذبح کر دیا گیا تب جا کر پاکستان وجود میں آیا مگر ہم نے اپنے بڑوں کی تمام تر قربانیوں کو فراموش کر دیا۔
محمد صلى الله عليه واله وسلم نے فرمایا : وطن سے محبت ایمان کا حصہ ہے ۔ اور ایک اور جگہ ہجرت کے وقت فرمایا کہ اے مکہ اگر تیرے بیٹے مجھے نہ نکالتے تو میں کبھی تجھے نہ چھوڑتا۔مگر ان احادیث کو پڑھنے کے بعد بھی اپنے وطن سے حقیقی معنوں میں محبت نہ کر سکے۔ ہم میں سے کوٸ اپنی غلطی تسلیم نہیں کرتا بلکہ ہم یہ کہہ کر بات ہی ختم کر دیتے کہ دوسرے بھی تو ایسا کر رے تو ہم ہی کیوں سوچیں ۔ ہم یہ بات نہیں سمجھتے کہ ہمارا ملک ہمارا گھر ہے اور گھر کا خیال رکھنا تو سب کا فرض اور ذمہ داری ہوتی اور اگر گھر کا کوٸ ایک فرد لاپرواہ ہو تو گھر دوسرے مل کر گھر کی دیکھ بھال کرتے اس کی حفاظت کرتے بلکل اسی طرح ہمیں اپنے پیارے وطن کا بھی مل جل کر خیال رکھنا ہے اسکی فلاح و بہبود کے لیے محنت کرنی ہے۔ مگر ہم کہتے ہیں یہ تو حکومت کا کام ہے وہ اسکی صفاٸی کا خیال رکھیں وہ اس کی ترقی کے بارے میں سوچیں ۔ یہ خیال بلکل غلط ہے پاکستان ہم سب کا ہے ہم سب کو انفرادی طور پر اسکی فلاح وترقی کے لیے اپنا اپنا کردار ادا کرنا ہو گا
جب بچہ گھر میں کچرا پھینکتا تو ماں اسے ڈانٹتی ہے کہ تم نے کچرا پھیلا دیا گھر گندا کر دیا مگر مجھے تعجب ہوتا وہی بچہ جب کسی پبلک پلیس پہ کوڑا پھینکتے تو والدین کچھ نہیں کہتے اگر ہم سب کو یہ بات سمجھ آجاۓ اس ملک کا ہر حصہ ہمارا گھر ہے اس لیے مہربانی کر کے نٸ نسل کو ترغیب دیں کیونکہ بچے وہی کرتے جو وہ اپنے بڑوں کو کرتا دیکھتے
: باہر کے ملک اگر آپ چلے جاٸیں تو آپ وہاں کا ایک پتہ نہیں توڑتے ایک کاغذ تک زمین پہ نہیں پھینکتے کہ آپ کو جرمانہ ہو گا اور یہاں آکر تعریفوں کے پل باندھ دیتے اور اپنے ملک میں اپنے گھرکا کوڑا سڑک پر پھینک دیتے۔ ٹریفک قوانین کی خلاف ورزیاں کرتے اور پھر اپنے ہی ملک کی براٸیاں کرتے کہ یہاں فلاں فلاں مسٸلے ہیں درحقیقت ان مسٸلوں کی وجہ کہیں نہ کہیں ہمارا غیر سنجیدہ اور غیر اخلاقی رویہ بھی ہوتا اور پھر ہم کہہ رے ہوتے کہ فلاں ملک تو بہت صاف ہے وہاں کے لوگ تو قانون کا بہت احترام کرتے وغیرہ وغیرہ سیاستدان کہتے عوام نہیں سمجھتی اور عوام کہتی کہ سیاستدان اپنا کام نہیں کر رہے غرض کوٸی بھی اپنی غلطی تسلیم کرنے کو تیار نہیں۔ مہربانی کر کہ تیرے میرے کا راگ الاپنا چھوڑ دیں پاکستان ہم سب کا ہے اسکی تعمیر و ترقی ہم سب کا فرض و ذمہ داری ہے۔
جن سے محبت ہوتی نہ ان میں نقص نہیں نکالے جاتے بلکہ انکی بہتری کی خاطر محنت کی جاتی اسلیے پاکستان سے شکوے کرنے کی بجاۓ اسکی بہتری کے لیے کردار ادا کریں کیونکہ پاکستان نے تو آپکو مذہب کی کلچر کی آزادی دی آپکو ایک پہچان دی مگر آپ نے اسے کیا دیا کچھ بھی نہیں الٹا آپکی لاپرواہیوں کی وجہ سے پاکستان مساٸل کا شکار ہوا ۔ ہمارے بڑوں نے بہت مشکلات و مصاٸب کے بعد اسے حاصل کیا خدارا اسکی قدر کریں اور اگر واقع ہی آپکو اس سے محبت ہے تو اسکا خیال ویسے ہی رکھیں جیسے آپ اپنے گھر کا رکھتے ہیں۔ ملک پاکستان ہمارا گھر ہے اور ہم سب اس گھر کے فرد ہیں لہذا ہمیں مل جل کر اپنے پیارے گھر پاکستان کی تعمیرو ترقی کے لیے اپنا کردار ادا کرنا ہے

@b786_s