fbpx

ہمارے صدقہ کے معیار بہت ہی عجیب ہیں: تحریر فاطمہ بلوچ

‏اللہ کی راہ میں صدقہ صرف یہ نہیں کہ صرف مانگنے والے فقیروں کی مدد کر دی جائے. بہت سے ایسے سفید پوش ضرورت مند لوگ ہیں جو مانگ نہیں سکتے. جن کو کوئی ادھار بھی اس لیے نہیں دیتا کہ واپس کہاں سے کریں گے. ایسے لوگ بہت زیادہ محتاج ہوتے ہیں مگر عزت دار ہونے کی وجہ سے کھُل کر کسی کے آگے اپنی محتاجی بیان نہیں کر سکتے. جب مہینہ ختم ہو رہا ہو گھر میں راشن بھی ختم ہو ابھی تنخواہ آنے میں دس دن رہتے ہوں اوپر سے بجلی کا بل آ جائے. جو اگر نہ دیا گیا تو میٹر کٹ جائے گا.
‏اگر کوئی اس وجہ سے ادھار مانگنے آئے کہ دوائیاں لینے جانا ہے، بجلی کا بل دینا ہے. بچے کی فیس دینی ہے. فوتگی پہ جانا ہے. گھر کا راشن لینا ہے. وائف کا آپریشن ہے. بیٹی کی شادی ہے. دو مہینے سے تنخواہ نہیں ملی دودھ اور کریانہ والے کے پیسے دینے ہیں. عید پہ بچوں کے کپڑے لینے ہیں. کوئی اچانک بیمار ہو گیا اسے ہاسپیٹل لے کر جانا ہے. ایسے لوگوں کو کبھی یہ سوچ کر انکار نہ کیا کرو کہ یہ تو واپس ہی نہیں دیتا یا یہ کہاں سے واپس کرے گا. بلکہ جتنا زیادہ ہو سکے انھیں دی دیا کریں کیونکہ وہ اس وقت بہت مجبور ہوتا ہے. اور یہ سوچ لیا کرو کہ یہ اگر واپس نہ بھی کرے تو میری طرف سے صدقہ ہو گیا. یقین کرو اللہ بندے کی ایسی نیکی کو کبھی ضائع نہیں جانے دیتا اور کئی گناہ بڑھا کر بندے کو لوٹاتا ہے.
‏ہمارے صدقہ کے معیار بہت ہی عجیب ہیں. ہم مسجد کے مینار کے لیے بڑے فخر سے پچاس ہزار دے دیتے ہیں مگر 10 غریب خاندانوں کو پانچ ، پانچ ہزار نہیں دیں گے. ہم یہ نہیں دیکھتے کہ کس کا اجر زیادہ ہے. کہاں اس کا فائدہ زیادہ لوگوں کو پہنچے گا. ہم یہ دیکھتے ہیں کہاں خرچ کروں کہ لوگوں میں میرا نام اونچا ہو. جبکہ اللہ بندے کی نیت دیکھ رہا ہوتا ہے کہ یہ چاہتا کیا ہے.

@FLSARM