fbpx

‏ہمارا ضلع اور اس کے مسائل تحریر: علی رضا بخاری

ہمارا ضلع راجن پور جس کی بنیاد مخدوم شیخ راجن شاہ نے 1732 میں رکھی، 1982 میں راجن پور کو ضلع کا درجہ دیا گیا، ضلع کا کل رقبہ 1238 اسکوائر کلو میٹر ہے اور آبادی 20 سے 21 لاکھ پر مشتمل ہے۔

ضلع راجن پور عظیم سرائیکی شاعر حضرت خواجہ غلام فرید کی دھرتی ہے، ضلع راجن پور کی آبادی كا تقریباً 76 فیصد حصہ دیہات میں آباد ہے، فیکٹریاں نہ ہونے کی وجہ سے زیادہ تر لوگوں کا پیشہ کاشت کاری ہے۔

اس ضلع کو درپیش مسائل میں اہم مسئلہ تعلیم کا ہے، تعلیمی لحاظ سے یہ ضلع پاکستان کے پانچ پسماندہ علاقوں میں سے ایک ہے، یونیورسٹی کا نہ ہونا بھی ایک بہت بڑا مسئلہ ہے جس سے بہت سے غریب سٹوڈنٹس باہر کسی بڑے شہر میں جانا افورڈ نہیں کر سکتے وہ رہ جاتے ہیں، کیا اعلیٰ تعلیم حاصل کرنا غریب کا حق نہیں ہے؟ اس علاقے سے تعلق رکھنے والے سابق وزیر اعظم میر بلخ شیر مزاری اور بہت سی اہم شخصیات کے بڑے بڑے عہدوں پر رہنے کے باوجود یہ ضلع بنیادی سہولیات سے محروم رہا ہے۔

ضلع راجن پور کے اکثر علاقے کوہ سلیمان کے پہاڑوں سے آئے سیلابی پانی اور دریائے سندھ میں طغیانی کے باعث تباہ کاریوں کا سبب بنتے ہیں، اس سیلاب کی وجہ سے غریب کسانوں کی فصلیں تباہ ہو جاتی ہیں اور بہت سے لوگ نقل مکانی پر مجبور ہو جاتے ہیں۔

اس ضلع میں لا اینڈ آرڈر کا مسئلہ رہا ہے، ٹرائیبل ایریا اور کچے کے علاقے میں بہت سی وارداتیں ہوتی رہی ہیں، کچے کے علاقے میں چھوٹو گینگ جس کی وجہ سے راجن پور کافی سرخیوں میں رہا ہے اب سیکیورٹی فورسز کی مدد سے ان پر قابو پا لیا گیا ہے۔

‎@aliraza_rp