fbpx

ہماری نوجوان نسل اور موبائل فون تحریر: محمد مصطفی

‏”بســم اللّٰـہ الرحمٰـن الرحـیم”
میری یہ تحریر اپ میں سے کس کس کو پہنچے گی یہ تو مجھے پتا نہیں کیونکہ کوئی ویڈیوز دیکھ رہا ہوگا کوئی گیم میں مصروف ہوگا تو کوئی دوستوں سے چیٹ میں مصروف ہوگا تو کوئی کمنٹوں میں مصروف ہوگا مگر پھر بھی جنکو یہ مضمون ملے تو ایک بار ضرور پڑھیں کیونکہ اس مضمون کا تعلق براہ راست اپ کی زندگی سے ہے اج ہمارے معاشرے میں موبائل فون نے نوجوانوں کے مستقبل کو داؤ پر لگا دیا۔
جی ہاں!ہم پاکستان کی وہ پہلی نوجوان نسل ہیں جن کو اسمارٹ فون اور سستا انٹرنیٹ ملا ہوا ہے ہم سے پہلے لوگوں میں نا اتنے موبائل فون تھے اور نا اتنا انٹرنیٹ تھا۔
اِس موبائل فون پر ہم روانہ گھنٹوں صرف کرتے ہیں۔ہم سے بیشتر اگر موبائل فون کے سکرین پر صرف کیے جانے والے وقت کا جائزہ لیں تو روزانہ کے حساب سے تقریباً ہر جوان پانچ سے سات گھنٹے موبائل کا استعمال کرتا ہوگا یہ انتہائی قیمتی وقت ہماری حالت بیداری کا ایک تہائی حصہ ہم موبائل کی سکرین پر لگا لیتے ہیں ۔کسی بھی دوسری منشیات کی طرف یہ موبائل کی لت بھی ہماری زندگی کت کافی حصہ کو کھاتی جارہی ہے۔
اگر ہم اسکو اوسطاً ساٹھ سال کے ادمی کی زندگی پر حساب جر تو تقریباً اٹھارہ سال اس کی زندگی سے وہ موبائل فون نے کھالیں ۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ موبائل ہماری زندگی کا حصہ بن چکا ہے چاہ کر بھی ہم اسے خود سے جدا نہیں کر سکتے مگر اصل مسئلہ تب ہے جب یہ ہماری رادت بن جائے اسکا پہلہ نقصان تو وقت کی بربادی ہے اگر یہ وقت ہم بچا کر کسی دوسرے نفع بخش کاموں میں لگا لیں مسئلہ مطالعہ میں ورزش میں یا کوئی ہنر سیکھنے میں تلاوت میں یا اِس اور کسی فائدے والے کام میں۔ یا کوئی علم سیکھنے میں تو ہم کہاں سے کہاں پہنچ جاتے۔
دوسرا بڑا نقصان اسکا یہ ہے۔کہ موبائل فون پر بیکار اشیاء کے دیکھنے سے اپکی قوت مدرکہ(حافظہ) بڑی متاثر ہوتی ہے ہمارے دماغ کے دو حصے ہیں ایک جذباتی دوسرا ادراکی- صحت مند دماغ وہی ہوتا ہے جس کے دونوں حصے کام کرنے میں تیز ہو ۔لیکن جب ہم بیکار اشیاء دیکھتے ہیں تو اس سے ہماری قوت مدرکہ متاثر ہوتی ہیں اور پھر رفتہ رفتہ وہ بہت کمزور ہوجاتی ہے جس کی وجہ سے پھر ہم مختلف نقطہ نگاہ کو نہیں سمجھ پاتے۔زندگی میں پیش انے والے مختلف حالات کو سمجھنے اور برتنے کی طاقت پھر ہم میں نہیں ہوگی مختلف حالات کی درست تشخص اور حالات کے مطابق فیصلہ کرنے کی صلاحیت پھر ہم میں نہیں ہوگی
یہی موبائل کے وہ نقصانات ہے جو ہماری زندگی کو دیمک کی طرح ختم کئے جارہی ہے۔
ایک نقصان دینی بھی ہے۔ اور وہ دنیاوی نقصان سے بھی بڑھ کر ہے۔ روز مرہ کے دینی امور میں سب سے اہم نماز ہے مگر اج ہماری نمازیں بے رونق جسکا بڑا سبب یہی نحوست ہے موبائل نے ذوقِ تلاوت چھڑوادی موبائل نے نماز کی لذت چھڑوادی
یاد رکھئے یہ موبائل محض ایک اوزار ہے زندگی کا اپنایا ہوا سٹائل ہر گز نہیں بہتر ہے کہ ہم کسی وقت بیٹھ کر حساب کرے کہ ہم موبائل کے استعمال سے فائدہ زیادہ لے رہے ہیں یا نقصان۔۔۔

@Muhmmadi786