fbpx

حق و سچ کی فتح تحریر : حادیہ سرور

یہ بات ہے 9 ستمبر 2001 ایک کی, جب اسامہ بن لادن کے 4 جہادیوں نے امریکی چار مسافر برادر ہوائی جہازوں کو اغوا کر لیا ۔
اس کے بعد ایک ان میں سے دو کو ولڈ ٹریڈ سنٹر جبکہ ایک کو پینٹاگون سے ٹکرا دیا گیا جس کے بعد سے لاکھوں امریکی جہنم کی بستی میں جا بسے اس کے ساتھ ساتھ امریکہ کا اربوں ڈالر کا نقصان الگ ہوا ۔۔۔
یہ امریکہ جو کہ سپر پاور تھا اس کےلیے نہایت ہی بے عزتی اور جگ ہنسائی کی بات تھی کہ یوں امریکہ کہ جہاز ہائی جیک ہوئے اور پھر ورلڈ ٹریڈ سنٹر سے ٹکراۓ اور ایک پینٹا گون سے ۔۔
یوں پوری دنیا میں امریکہ کو شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا ۔۔۔امریکہ بھی یہ سوچنے پر مجبور تھا کہ کوئی کیسے اس پر اس قدر بڑا حملہ کرنے کی جرآت کر سکتا ہے ۔لیکن امریکہ نہیں جانتا تھا کہ جزبہ ایمان کی طاقت لیے یہ مجاہد اللہ کے علاوہ کسی کا خوف نہیں رکھتے۔۔
9/11 کے بعد اس وقت کے امریکہ کے صدر جارج بش نے انتقام کا فیصلہ کیا اور افغان طالبان کو ریزہ ریزہ اور جڑ سے ختم کرنے کی ٹھان لی ۔۔یوں اس نے افغانستان میں اپنے فوجی بھیجے جدید ٹیکنالوجی کا استعمال کیا ۔۔اور یوں امریکہ نے افغانستان میں ایک طویل جنگ شروع کر دی ۔۔
امریکہ جو صرف افغانستان پر قبضہ کرنے نہیں آیا تھا بلکہ اس کی گندی نظریں پاکستان اور پاکستان کے ایٹمی ہتھیاروں پر تھیں ۔۔کیونکہ باطل یہ جانتا تھا کہ اسلامی ممالک میں صرف واحد پاکستان ہی ہے جو ایٹمی پاور ہے جس کے وجہ سے بڑے بڑے دشمن پاکستان کی طرف میلی آنکھ سے دیکھتے ہوۓ گھبراتے ہیں ۔۔
خیر امریکہ نے افغانستان میں اپنے اربوں ڈالرز ضائع کیے اپنی جدید ٹیکنالوجی کو استعمال کیا اپنا جدید اسلحہ استعمال کیا اپنے ساتھ چالیس نیٹو کے ممالک کے ساتھ ساتھ انڈیا کی مدد لی اور اس کے ساتھ ساتھ اسرائیل کی مدد بھی لی ۔۔یوں یہ را ،این ڈی ایس ،سی آئی اے ، ایس آئی ایس سمیت 42 ممالک اور ان کی ایجنسیاں طالبان کو شکست دینے کےلیے اپنی ایڑھی چوٹی کا زور لگانا شروع کر دیا ۔۔دوسری جانب طالبان جہادی جو سادہ اسلحے, پٹھے کپڑے اور بغیر جوتوں کے جن کے ساتھ صرف سپورٹ تھی تو یا اللہ کی تھی یا پھر مارخور کی ۔
دشمن نہیں جانتے تھے کہ افغانستان میں جس مارخور کے ساتھ وہ پنگا لے رہے ہیں اس نے افغانستان میں سویت یونین کو پہلے ہی ٹکڑوں ٹکڑوں میں تقسیم کر چکا تھا تو امریکہ کس کھیت کی مولی ۔۔
خیر ان بیس سال کے عرصے میں امریکہ اور اسے کے اتحادی اپنا زور لگاتے رہے لیکن مجاہدین جو اللہ کا نام بلند کے میدان جنگ میں اترے تھے جو اسلام کےلیے جہاد کر رہے تھے بھلا ایسے کیسے ہو سکتا تھا وہ باطل سے ڈر جاتے ۔۔انہوں نے باطل کا بھرپور طریقے سے مقابلہ کیا ۔یوں صرف چند ہزار افغان مجاہدین نے چالیس ممالک کی افواج کو بیس سال کی طویل جنگ کے بعد دھول چٹا دی ۔
یہ طالبان اور امریکہ کی جنگ نہیں تھی بلکہ یہ حق و باطل کی جنگ تھی کفار اور اسلام کی جنگ تھی جس کا شرف اللہ تعالی نے مارخور اور طالبان کو بخشا تھا اور اللہ کے فضل سے آج افغان مجاہدین افغانستان کے حکمران ہیں ۔
افغانستان طالبان نے اپنے سے کہیں گناہ بڑے دشمن کو ناکوں چنے چبوا کر یہ ثابت کیا کہ جنگیں اصلحے ٹیکنالوجی جدید آلات سے نہیں لڑی جاتی بلکہ جیت اسی کی ہوتی ہے جو بہادر ہوتا ہے جس کے اندر ایمان کی طاقت ہوتی جو اسلام اور اللہ کےلیے لڑتا ہے ۔۔
آج طالبان کی جیت بے شک کشمیری مجاہدین اور حماس کے مجاہدین کےلیے مشعل راہ ہے جس طرح افغان طالبان نے باطل کو شکست دی اسی طرح کشمیری اور حماسی مجاہدین بھی اپنی آزادی کی تحریک کو تیز کریں اللہ پاک افغان مجاہدین کی طرح کشمیر اور فلسطین کو بھی آزادی نصیب فرماۓ آمین

@iitx_Hadii