fbpx

حقیقت سے کب تک آنکھیں چرا کر سلگھتے موضوعات پر بننے والی فلموں‌پر پابندی لگاتے رہیں گے؟‌فصیح باری خنا

معروف مصنف فصیح باری خان نے اپنے حالیہ انٹرویو میں کہا ہے کہ ہمارے ہاں بننے والی فلموں‌کو سپورٹ کئے جانے کی ضرورت ہے . ہم کب تک انہی معاملات میں پڑے رہیں گے کہ فلاں موضوع ٹھیک نہیں فلاں پہ بات ہو اور فلاں پہ نہ ہو. کب تک ہم نے کبوتر کی طرح‌آنکھیں بند کرکے رکھنی ہیں؟ کیا ٹرانسجینڈر ہماری سوسائٹی کا حصہ نہیں ہیں؟ کیسے انکار کر سکتے ہیں ہم ؟ فصیح باری خان نے کہا کہ ایک منٹ سے پہلے یہ فتوی لگا دینا کہ فلاں

مواد فحش ہے فلاں دین سے متصادم ہے اس سوچ اور رویے کو تبدیل کیاجانا چاہیے . انہوں نے مزید یہ بھی کہا کہ جوائے لینڈ سمجھدار لوگوں نے بنائی ہے یہ فلم کسی قسم کی ذہنی عیاشی کے لئے نہیں بنائی گئی. میں نے اس فلم کو اپنے سوشل میڈیا پر مکمل سپورٹ کیا . ہمارے سنسر سے ایسے ایسے ڈانس پاس ہو چکے ہیں جو شاید فیملیوں‌کے ساتھ بیٹھ کر دیکھے نہیں جا سکتے . میرا جس قسم کا سکول آف تھاٹ ہے میں بھی سمجھتا ہوں کہ کل کو میں بھی کسی سلگھتے موضوپر فلم بنائوں گا تو میرے سامنے بھی ایسی ہی مشکلات ہوں گی. ہمارے ہاں چند ایک لوگ ایسے ہیں جو صرف گھستے پٹے موضوعات دیکھنا چاہتے ہیں. انہیں سنجیدہ موضوعات پر ننے والی فلمز نہیں دیکھنی شاید .