fbpx

سعد رضوی کے خلاف بغاوت تیار، بڑوں بڑوں کی خفیہ میٹنگ ، سنیے مبشر لقمان کے انکشافات

سعد رضوی کے خلاف بغاوت تیار، بڑوں بڑوں کی خفیہ میٹنگ ، سنیے مبشر لقمان کے انکشافات

باغی ٹی وی : سینئر اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ تحریک لبیک کے امیر سعد رضوی کے خلاف اہل سنت والجماعت کا ایک بہت بڑا طبقہ متحرک ہو گیا ہے . اگلے دن سعد رضوی کے لیے مشکل ہونے جا رہے ہیں. ان کا کہنا تھا کہ سنی علما جن میں خاص علما اور گدی نشین سعد رضوی کو ہٹانا چاہتے ہیں .

مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ تحریک لیبک کا مسئلہ حکومت کے لیے کافی گھمبیر ہے اس دن عمران خان نے اپنی تقریر میں کہا کہ 40 گاڑیاں نظر آتش ہوئی. آج وزیر داخلہ نے اپنی پریس کانفرنس میں کہا کہ 30 گاڑیاں جلائیں گئیں . وزیر اعظم اور وزیر داخلہ کی اپنی بات مل رہی . ان کا کہنا تھا کہ تحریکل لبیک کے پاس دس دن ہیں اس میں وہ اپیل کرسکتی ہے اور پابندی اٹھ سکتی ہے اور نہ اٹھی تو عدالت میں جا سکتے ہیں جہاں ان سے پابندی اٹھائی جاسکتی ہے .


مبشرلقمان کا کہنا تھا کہ اب انڈیا کےلیے کافی اہم بات مل چکی ہے کہ وہ اس کو فیٹف میں پیش کرے گا اور کہے گا کہ دیکھو پاکستان میں ایک ایسی تنظیم ہے جو پاکستان میں فرانس کے خلاف ایسا کچھ کرنے جار رہی ہے . اور جس سے پاکستان کے خلاف عالمی برادری میں کو گمراہ کرنے کا موقع ملے گا. حکومت ایک مذہبی تنظیم کے سامنے بے بس نظر آئی اور اس کے سامنے معاہدہ کرنا پڑا اور پھراس کے مطابق ایک پرائیویٹ ممبر کے ذریعے اسمبلی میں قرارداد پیش کی گئی . جس میں فرانس کے سفیر کو باہر بھیجنے کا مطالبہ کیا گیا .

مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ یہ کافی مضبوط کیس بنتا ہے . اور اس کو پاکستان کے خلاف پیش کیا جائے گا. ان کا کہنا تھا کہ جس طرح تحریک لیبیک کے ساتھ پاکستان بھر سے سنی علما جن مفتی منیب ، پیر ثروت قادری ، اسی طرح گدی نشین اور پیر حضرات کھڑے ہوئے . ادھر مولانا فضل الرحمن نے بھی حمایت کا اعلان کردیا تاجر برادری بھی ہڑتال کے لیے تیار ہوگئی تواس سے سعد رضوی کا قد بڑھا اور تمام بڑے بڑے قائدین ان سے پیچھے رہ گئے ہیں .

سعد رضوی اگرچہ ستائیس سال کے ہیں لیکن ان کے والد ساحب جو کہ اس تحریک کے بانی ہیں اور ان کی وجہ سے اتنی بڑی تحریک بنی ان کی قبر ان کے گھر ہے اور اب سعد رضوی کا گھر ایک مرکز بن گیا ہے اور نگاہ اس طرف ہی مرکوز ہوتی ہے . ان کا کہنا تھا کہ سعدی رضوی کے والد کی تدفین ان کے گھر ہونے کے بعد اب ان کے لیے وہ مسئلہ بھی حل ہوگیا جس میں ان کے امیر بننے کی مخالفت تھی اب پیر خانے والوں‌ نے کہا کہ وہ سمجھتے ہیں وہ تو زیرو ہوگئے .

اب انہوں‌ نے یہ سوجا کہ یہ بچہ اتنا بڑا امیر بن گیا اور یہ عالم نہیں ہے . اب ہوا کیا کہ سعد رضوی کے خلاف ایک مجلس ہوئی . اس مجلس یا میٹنگ کو علما مشائخ کانفرنس کہا گیا . ان کہنا تھا کہ یہ قومی علما مشائخ کانفرنس نہیں تھی صرف چھ گھنٹے کے نوٹس پر بلائی گئی . اس کا انتظام کیا . یہ دیوان آف پاکپتن حامد محمود چشتی کے زیرا ہتمام منعقد ہوئی . پیر فرید الدین گنچ شکر کے سائے تلے منعقد ہوئی . اس میں شرکت کرنے والے تھے فاروقی زیب سجادہ نشین ، خواجہ محمد عامر گوریجہ ، سابق مشیر وزیر اعظم پاکستان سجادہ نشین کوٹ مٹھن شریف ، خواجہ محمد تونسوی تونسہ شریف ، پیر سید عمران شاہ ولی ایم این اے ساہیوال سے . پیر سید عمران شاہ ولی ، پیر سید حیدر امام ، سید احسان الحق ، پیر سید محمد نبیل الرحمن شاہ ،

ان کا کہنا تھا کہ آپ نے جو یہ ویڈیو دیکھی ہے یہ صرف میرے پاس ہے اور میری چڑیل وہاں سے لے کر آئی ہے . سعد رضوی کے‌خلاف وہاں بڑے بڑے کھڑپینچ جمع ہوئے ہیں . اور وہ تحریک لبیک کے اندر پھوٹ ڈالنے کے لیے جعع ہیں. ان کا یہاں مقصد یہ ہے کہ وہ حکومت کے ساتھ دوبارہ گٹھ جوڑ کرنا چاہتے ہیں . یہاں یہ کہیں گے کہ توہین رسالت پر حکومت کا موقف یہ غلط یہ غلط ہے اب وہ ہولڈ کرے اور ہمارے ساتھ مذاکرات کرے اور پہلی شرط ہم یہ رکھتے ہیں کہ وہ شیخ رشید کو بلی کابکرا بنائے .

مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ یہ کسی کا استعفیٰ لینا مقصد نہیں ہے . نہ شیخ رشید کا ، نہ عثمان بزدار کوبلکہ اصل مسئلہ یہ ہے کہ خادم حسین رضوی کی گدی پر قبضہ کیسے کرنا ہے اور سعد رضوی کو جو اتنی عزت ملی ہے وہ ان کو بردشت نہیں ہے . اور وہ اس گدی کو لینا چاہتے ہیں. ان کا کہنا تھا کہ ہزاروں لوگ ان کی کال پر لبیک کہتے ہوئے سامنے آئے ہیں . اور ان کا قد بہت بڑا بڑھ گیا ہے لوگ ان کی کال پر قربانی دینے آگئے ہیں .

ان کہنا تھا کہ اتنے لوگ خادم حسین رضوی کی کال پر نہیں آئے تھے . ہاں ان کے جنازے پر ضرور آئے تھے. لیکن ان زندگی میں اتنے لوگ ونہں تھے . اب جبکہ پہلے ہی لبیک کے پاس سیٹین ہں اور وہ اگلے الیکشن میں 30 سیٹیں لینے کی پوزیشن میں ہیں . ان کا کہنا تھا کہ یا تو یہ لوگ سار ے ووٹ اپنے ساتھ لے کر آئے یا سعد رضوی کے ساتھ لگے رہیں . اب یہ سفید بالوں ، داڑیوں والے اکابرین ایسے لگے رہیں.اور اتنا ووٹ بینک اپنی طرف لے کر آئیں . آج کی افطاری میں یہ کچھ بات چیت ہوئی .، اور کئی.لوگ یہاں نہیں آئے ان کا ماننا ہے کہ حکومت پے درپے بیوقوفیاں کررہی ہیں. اور اس سے لبیک بہت مضوط ہو رہی ہے لیکن وہ چاہتے ہں کہ سنیوں میں تفرقہ نہ ہو.اور جو جمع تھے وہ تحریک لبیک کو تقسیم کرنے کی بات کررہے ہی.

ان کا کہنا تھا کہ مظاہر ے میں سعد رضوی نے اپنا قد اس لیے بلند کیا کہ انہوں نے اپنی رہائی نہیں مانگی اور نہ کسی کارکن کی بس اپنے مقصد پر ڈٹے رہے .
اب جتنے بھی مذاکرات ہوئے اس میں کسی قسم کے اکابر مفتی یا گدی نشین کا نام نہیں آیا صرف سعد رضوی کا آیا ہے تو یہ بات ان سے برداشت نہیں ہے اور وہ اس کو تقسیم کرنا چاہتے ہیں.

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.