حساس ادارے کے نامزد افسر کو کال ٹریس کرنے کا اختیار دینے کی منظوری

0
125
mobile

وفاقی حکومت نے آئی ایس آئی کے نامزد افسر کو کال ٹریس کرنے کا اختیار دے دیا

وفاقی کابینہ نے حساس ادارے کے نامزد افسر کو کال ٹریس کرنےکا اختیار دینے کی منظوری دی،منظوری سرکولیشن کے ذریعے دی گئی ہے، اس ضمن میں اعلامیہ جاری کیا گیا ہے جس کے مطابق کال ٹریس کے کی منظوری قومی سلامتی کے مفاد میں کسی جرم کے خدشے کے پیش نظر دی گئی ،کابینہ نے یہ اختیار پاکستان ٹیلی کمیو نیکیشن ایکٹ 1996 کے سیکشن 54 کے تحت دیا ہے، ‎ایجنسی جس افسر کو نامزد کرے گی وہ گریڈ 18 سے کم درجے کا نہیں ہوگا۔

آئی ایس آئی کسی بھی ٹیلی کمیونیکیشن سسٹم کی ریکارڈنگ کر سکے گی، ایجنسی کو کال ریکارڈ،میسجز اور کال ٹریس کرنے کا اختیار ہو گا،موبائل کال ،واٹس آپ کال میسجز اور دیگر اپلیکیشنز کی ریکارڈنگ ہو سکے گی ،

کال ٹریسنگ کا اختیار دینے والے سب عدالتوں میں پھرتے نظر آئیں گے، عمر ایوب
قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر عمر ایوب کا کہنا ہے کہ حساس ادارے کو کال ٹریسنگ کا اختیار دینے والے کل خود کال ٹریسنگ کی زد میں آئیں گے،کال ٹریسنگ کا اختیار دینے والے جیل جائیں گے، اسی قانون کے ذریعے آصف زرداری، نواز شریف ، شہباز شریف، بلاول اور مریم جیل جائیں گے کال ٹریسنگ کا اختیار دینے والے سب عدالتوں میں پھرتے نظر آئیں گے، فارم 47 کے وزیراعظم شہباز شریف اور اس کی حکومت نے خود اپنا بلیڈ لے کر اپنی شہ رگ کاٹی ہے،بجلی کا یونٹ پی ٹی آئی کے دور میں 17 کا تھا آج 85 کا تھا،ڈالر کی قیمت مصنوعی رکھی گئی ہے، بجٹ میں 30 ارب کی پرائیوٹائزیشن ہے حالانکہ ان اداروں کی قیمت ہزار ارب ہے، 970 ارب کہاں گیا، بین الاقوامی دنیا میں تیل کی قیمت بڑھے گی تو یہ پھر قیمت بڑھائیں گے، لوگ سڑکیں پر نکلیں گے، عمران خان پر سب مقدمے ختم ہونے والے ہیں، عدت کا کیس بھونڈا کیس ہے.

عمر ایوب کا حساس ادارے کو فون ٹیپنگ کی اجازت کا نوٹیفکیشن عدالت میں چیلنج کرنے اعلان
قائد حزب اختلاف قومی اسمبلی عمر ایوب نے آئی ایس آئی کو فون ٹیپنگ کی اجازت کا نوٹیفکیشن عدالت میں چیلنج کرنے اعلان کر دیا ،عمر ایوب کا کہنا تھا کہ فارم 47 والی حکومت کی طرف سے ایس آر او 1005 (I)/2024 نوٹیفکیشن جاری کیا گیا ہے، اس نوٹیفکیشن میں آئی ایس آئی کو قومی سلامتی کو جواز بناکر کسی بھی شخص کی فون پر گفتگو کو ٹیپ کرنے کا اختیار دے دیا گیا ہے، ایک فاشسٹ حکومت کی جانب سے ہی کسی انٹیلی جنس ایجنسی کو شہریوں کی فون ٹیپنگ کا مکمل اختیار دیا جاسکتا ہے،یہ ایس آر او وہ آلہ ہوگا جسے آئی ایس آئی بلاول بھٹو، آصف زرداری، مریم نواز سمیت تمام سیاستدانوں اور میڈیا سے وابستہ افراد کو بلیک میل اور مغلوب کرنے کے لیے استعمال کرے گی،میں اس غیر قانونی نوٹیفکیشن کو اپنے وکیل ڈاکٹر بابر اعوان صاحب کے توسط سے عدالت میں چیلنج کروں گا، یہ ایس آر او غیر آئینی اور آئین میں درج بنیادی حقوق کے خلاف ہے،

کچھ ججز دانا ہوں گے، میں اتنا دانا نہیں، پاکستان کو ایک بار آئین کے راستے پر چلنے دیں، چیف جسٹس

نشان نہ ملنے پر کسی امیدوار کا کیسے کسی پارٹی سے تعلق ٹوٹ سکتا؟ چیف جسٹس

انتخابات بارے کیا کیا شکایات تھیں الیکشن کمیشن مکمل ریکارڈ دے، جسٹس اطہر من اللہ

سنی اتحادکونسل کی مخصوص نشستوں سے متعلق اپیل پر سماعت 24 جون تک ملتوی

سپریم کورٹ، سنی اتحاد کونسل کو مخصوص نشستیں نہ ملنے کیخلاف کیس کی سماعت ملتوی

مخصوص نشستیں، فیصلہ پی ٹی آئی کے حق میں نظر نہیں آ رہا، مبشر لقمان

Leave a reply