fbpx

حسین ہیرو سنتوش کمار کی چالیسیویں برسی

سنتوش کمار جن کا اصل نام موسی رضا تھا وہ اپنی ساتھی اداکارہ صبیحہ خانم کی زلفوں کے اسیر ہوئے اورانیس سو اٹھاون میں صبیحہ سے شادی کر لی۔ سنتوش کمار کی صبیحہ سے دوسری شادی تھی اور کہا جاتا ہے کہ سنتوش کمار کے پہلے سے شادی شدہ ہونے پہ صبیحہ کے والد کو بہت اعتراض تھا، لیکن صبیحہ خانم کہتی تھیں کہ سنتوش کمار کے ساتھ شادی کرنا ان کی زندگی کا بہترین فیصلہ تھا۔ سنتوش کمار نےاپنا فلمی کیرئیر بھارتی فلم سے شروع کیا انہوں نے دو بھارتی فلموں میں کام کرنے کے بعد پاکستان میں پہلی فلم ’’بیلی‘‘ کی جو کہ انیس سو انچاس میں ریلیز ہوئی۔اس کے بعد ان کی فلم دو آنسو ریلیز ہوئی یہ پاکستان کی پہلی اردو سلور جوبلی فلم تھی جسے انور کمال پاشا نے بنایا تھا اسی فلم کا ری میک بعد میں دلاں دے سودے اور انجمن کے نام سے بنا۔
سنتوش کمار نے کئی سپر ہٹ فلموں میں کام کیا۔ فلم شہری بابو میں انہوں نے سورن لتا کے ساتھ کام کیا ،پھر فلم پتن میں کام کیا یہ ایسی فلم تھی جو پنجابی سینما کے ماتھے کا جھومر ہے۔ پتن ،حمیدہ ،انتظار، قسمت اور سرفروش سنتوش کمار کے کیرئیر کی یادگار ترین فلمیں ہیں ۔ سنتوش کمار فلموں کے معاملے میں بہت زیادہ چُوزی تھے ان کے دل کو کوئی کہانی لگتی تو وہ کرتے ورنہ منع کر دیتے تھے یہی وجہ ہے کہ ان کی فلموں کی تعداد کافی کم ہے انہوں نے اتنے لمبے کیرئیر میں صرف بانوے ترانوے فلموں میں کام کیا ۔
سنتوش کمار کی فلم موسیقار نے اُن وقتوں میں دھوم مچا دی تھی یہ کسی بھی موسیقار کی زندگی پر بننے والی پہلی فلم تھی۔
عشق لیلی، وعدہ ،سات لاکھ ، نائلہ ، کنیز، گھونگھٹ، رشتہ، دامن، سیما، سفید خون، بیس دن، آزاد، چنگاری، حویلی اور فیشن نے سنتوش کمار کے عروج کو مزید تقویت دی۔ فلم ہمراہی گولڈن جوبلی تھی۔

ستر کی دہائی میں سنتوش نے معاون اداکار کے طور پر کام کرنا شروع کر دیا ان کی بطور ہیرو آخری فلم انیس سو تہتر میں شرابی کے نام سے ریلیز ہوئی۔
سنتوش بلا کے ذہین تھے انہوں نے طارق عزیز کے شو نیلام گھر سے کار بھی جیتی۔ انہوں نے انٹرنیشنل کمپنی میں بطور سیلز مین کام بھی کام کیا ۔انہیں پہلا نگار ایوارڈ بھی ملا۔ان کی آخری فلم دیوانے دو ان کی وفات کے تین سال کے بعد ریلیز ہوئی۔ سنتوش کمار گیاراں جون انیس سو بیاسی کو خالق حقیقی سے جا ملے۔