پنجاب کابینہ کمیٹی برائے سی پیک کے اجلاس میں‌ اہم فیصلے

کابینہ کمیٹی برائے سی پیک کے اجلاس میں‌ اہم فیصلے
باغی ٹی وی : پنجاب میں پاک چائنا اقتصادی راہداری کے تحت منصوبہ جات میں چائنا سے سرمایہ کاری کی بجائے تحقیق اور تکنیک کا حصول کو سر فہرست رکھا جائے گا۔ صنعت اور زراعت  کے شعبہ میں چین کے تجربات اور جدیدٹیکنالوجی پیداوار میں اضافے کو یقینی بنائیں گے۔ محکمہ توانائی قومی سطح کے پاور پلانٹس کی بجائے صوبے میں توانائی کی ضرورت کو پورا کرنے پر توجہ دے۔ صنعتی زونز، تعلیمی اداروں، ہسپتالوں اور واساز کو مناسب نرخوں پر بجلی کی فراہمی محکمے کا اصل وظیفہ ہے۔ ٹیرف سے متعلقہ مسائل کے حل کے لیے وفاق کے ساتھ موزوں پلیٹ فارم کی تشکیل وقت کی اہم ضرورت ہے۔سی پیک کے تحت سماجی و اقتصادی منصوبہ جات میں پبلک ہیلتھ انجینئرنگ کو بھی نمائندگی دی جائے گی۔ تمام محکمے سی پیک کے لیے مجوزہ منصوبہ جات کی افادیت کو نمایاں طور پر اجاگر کریں۔ ترقیاتی شراکت داروں پر واضح کیا جائے کہ پنجاب حکومت کو ان سے کس نوعیت کی معاونت درکار ہے تا کہ مستقبل میں منصوبہ جات کو بلاتعطل جاری رکھا جا سکے۔  


ان خیا لات کا اظہار وزیر خزانہ پنجاب مخدوم ہاشم جواں بخت نے پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ بورڈ میں پاک چائنا اقتصادی راہداری منصوبہ جات پر وزیر اعلیٰ کی تشکیل کردہ کابینہ کمیٹی کے پہلے اجلاس کی صدارت کے دوران کیا۔ اجلاس میں صوبائی وزیر برائے صنعت و تجارت  میاں اسلم اقبال، صوبائی وزیر برائے توانائی ڈاکٹر اختر ملک، صوبائی وزیر برائے ٹرانسپورٹ جہانزیب خان کھچی، چیئرمین پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ بورڈ شیخ حامد یعقوب، چیف اکانومسٹ ڈاکٹر امان اللہ اور متعلقہ محکموں کے سیکرٹری صاحبان نے شرکت کی۔ اجلاس کا مقصد پنجاب میں سی پیک کے تحت جاری منصوبہ جات میں پیش رفت کا جائزہ اورسی پیک وفاقی سطح پر تشکیل شدہ جوائنٹ ورکنگ گروپ کے اجلاس کے لیے نئے تجویز کردہ منصوبہ جات کی حتمی تشکیل تھا۔ چئیرمن پلاننگ اینڈ بورڈ کی جانب سے چیف اکانومسٹ نبیل طاہر نے اجلاس کو کابینہ کمیٹی برائے پاک چائنا اقتصادی راہداری منصوبہ جات کےاغراض و مقاصد سے آ گاہ کرتے ہوئے بتایا کہ کمیٹی سی پیک کے پروجیکٹس کی منصوبہ بندی ، اطلاق اور نگرانی کے لیے حکمت عملی کا تعین کرے گی اس کے علاؤہ سی پیک کے لیے منصوبہ جات کی منظوری اور منصوبہ جات پر عملدرآمد سمیت تمام متعلقہ سرگرمیوں کی نگرانی کے فرائض سر انجام دے گی۔ اجلاس میں سی پیک کمیٹی کو محکمہ صنعت، زراعت، ٹرانسپورٹ ، توانائی اور لائیو سٹاک کے جاری اور مجوزہ منصوبہ پر تفصیلی بریفننگ دی گئی۔ کمیٹی کی مشترکہ رائے سے تونسہ ہائیڈرو پاور پراجیکٹ تونسہ بیراج، محکمہ مواصلات کے رابطہ سڑکوں کی تعمیر کے دو منصوبوں کی منظوری دی گئی۔ جاری منصوبہ جات کی پیش رفت کے جائزہ کے دوران ومصوبائی وزیر نے سیکرٹری ٹرانسپورٹ کو ہدایت کی کہ اورنج لائن میٹرو ٹرین میں سواریوں کی تعداد میں اضافے کے لیے جامع منصوبہ بندی کی جائے۔ انرجی ڈیپارٹمنٹ صنعتی زونز میں بجلی کی فراہمی کے لیے وفاق کے ساتھ رابطہ سازی کو یقینی بنائے۔ تمام منصوبہ جات کی فزیبیلٹی رپورٹس تیار کی جائیں اور ان کی افادیت کو نمایاں طور پر اجاگر کیا جائے ۔
آ ئند ہ اجلاس میں چئیرمن سی پیک اتھارٹی اور جوائنٹ ورکنگ گروپ کے نمائندہ کو بھی دعوت دی جائے۔ پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ بورڈ سی پیک اتھارٹی کے ساتھ کوارڈینیشن کو بہتر بنائے۔ چئیرمن پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ بورڈ شیخ حامد یعقوب نے تمام متعلقہ محکموں کو ہدایت کی کہ وہ کمیٹی میں منظور شدہ منصوبہ جات کی فزیبیلٹی رپورٹس اور جاری منصوبہ جات پر کام کی رفتار تیز کریں پی اینڈ ڈی بورڈ فنڈز کی فراہمی کو یقینی بنائے گا۔شیخ حامد یعقوب نے محکمہ صنعت کی جانب سے بزنس پارکس کے لیے بزنس ماڈل کی تیاری اور اراضی کے حصول سے متعلقہ معاملات پر وضاحت کی ضرورت پر بھی زور دیا ۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.