fbpx

حسد اور انسانی رویے .تحریر : ریحانہ بی بی

رویے کا تعلق نفسیات سے ہے اور علم نفسیات کے مطابق رویے سے مُراد انسان کی شخصیت کاایسا گہرا عنصر ہے جو خاص طور پر سوچنے, محسوس کرنے اور اس پر عمل کرنے پر آ مادہ ہوتا ہے تو یہ اسکا رویہ کہلاتا ہے.

حسد :
دوسرے کی اچھی قسمت کی وجہ سے تکلیف ہو یا اسکے اچھے کاموں سے جلن ہو, اسے حسد کہہ سکتے…
حسد کے معنی ہے کسی دوسرے شخص کی نعمت یا خوبی کا زوال چاہنا یا اسکے نقصان کے درپے ہونا.
کسی کی ترقی سے دل میں گھٹن محسوس ہونا اور ناخوش ہونا وغیرہ یا اسکا زوال چاہنا…
حسد کا بنیادی سبب تو یہی ہے کہ حاسد اس نعمت سے محروم ہے جو دوسرے کو مل گئی ہے.

اب آ تے ہیں حسد اور انسانی رویوں پر
موجودہ دور میں لوگوں کو دیکھ کر یہ اندازہ ہوتا ہے کہ زیادہ تر کے رویے منفی ہیں اور اکثر لوگ منفی سوچ کے ساتھ زندگی گزارتے ہیں اور اسی منفی سوچ اور رویے کی وجہ سے ایسے لوگوں سے دوسروں کی کامیابی برداشت نہیں ہوتی اور برداشت نہ ہونے کی صورت میں نوبت حسد تک پہنچ جاتی ہے.

مزے کی بات ہے کہ بظاہر ایسے لوگوں کا رویہ دوستانہ اور ہمدردانہ ہوتا ہے. جب ان سے کوئی اپنی کامیابی کا ذکر کرتا ہے تو ظاہری طور پر اسکا دل رکھنے کے لئے بہت خوشی کا اظہار بھی کرتے ہیں لیکن باطنی طور پر جلن محسوس کرتے ہیں.
یاد رکھیں دوسروں کی خوشی میں خوش رہنا سیکھنا ہوگا ورنہ حسد دشمنی اور دشمنی فساد کی طرف لے جاسکتی ہے. جس سے نہ صرف گھر بلکہ معاشرے میں بھی بگاڑ پیدا ہوسکتا ہے. اور حسد آ خرت میں اللہ کی ناراضگی کا موجب ہے.
اللہ تعالیٰ اپنی حکمت کے پیش نظر کسی ایک کو نعمت عطا کرتا ہے تو دوسرے کو وہ نعمت عطا نہیں کرتا. ایسی صورت میں اللہ قرآن پاک کی سورۃ النساء میں فرماتا ہے.. اور اس فضیلت کی تمنا نہ کرو جو اللہ نے تم میں سے بعض کو بعض پر دی ہے.

سورۃ الفلق میں ہے کہ, میں اپنے پروردگار سے پناہ مانگتا ہوں خاص کر حاسد کے شر اور بُرائی سے جب وہ حسد کرنے لگے.
رسول پاک ص نے حسد سے بچنے کیلئے یوں تلقین فرمائی
حسد کرنے سے بچو کیونکہ حسد نیکیوں کو ایسے کھا جاتا ہے جیسے آ گ لکڑی کو کھا جاتی ہے.
اگر ہم قرآن و سیرت نبوی اور صوفیاء کے حالات زندگی پڑھیں تو یقیناً یہ مرض ختم ہوجائے گا.
اس بات پ پختہ یقین کرلیں کہ نعمتیں عطا کرنے والی ذات صرف اللہ کی ہے جو اپنے بندوں کو نعمتوں سے نوازتی ہے. بندہ مومن ہونے کے ناطے ہمیں اللہ کے فیصلے اور تقسیم پر راضی ہونا چاہیے.
کسی کی کامیابی پر یا اسکی اس نعمت پر ( جو اللہ نے عطا کی) دل سے اسی طرح خوشی کا اظہار کریں جیسے بظاہر آ پ ان سے دوستانہ رویے سے کرتے ہیں.
رویے میں منافقت تو نہ کریں, بظاہر اچھا رویہ اور اندر سے اسکی نعمت کے زوال کی خواہش….
یہ منافقت آ پ اپنے ساتھ کرکے کسی اور کا نقصان کریں نہ کریں مگر اپنا ضرور کردیں گے کیونکہ حاسد سکون اور قناعت کی دولت سے محروم رہتا ہے. اپنے حسد کی بھڑکتی آ گ میں جلتا رہتا ہے اور مایوسی اسکا مقدر بن جاتی ہے.
اس لئے اپنی سوچ مثبت رکھئیے. جب آ پکی سوچ مثبت ہوگی آ پکے رویے اچھے ہونگے ( ظاہری اور باطنی دونوں)
یاد رکھیں رویے انسانوں کی پہچان ہوتے ہیں اور مثبت رویوں سے ہی مثبت تبدیلی آتی ہے.