ہتھنی کی موت پر مسلمانوں کیخلاف بیان پر بی جے پی رکن پارلیمنٹ کیخلاف مقدمہ درج

باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق بھارت میں حاملہ ہتھنی کی ہلاکت پر مسلمانوں کے خلاف بیان دینے والی بی جے پی کی رکن اسمبلی مانیکا گاندھی کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا ہے

بھارتی کیرالہ کے ملپورم میں بی جے پی رکن پارلیمنٹ مانیکا گاندھی کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ یہ ایف آئی آر تعزیرات ہند کی دفعہ 153 کے تحت درج کی گئی ہے جو مذہب، ذات، مقام پیدائش، رہائش، زبان وغیرہ کی بنیاد پر مختلف گروپوں کے درمیان نفرت کو فروغ دینے کے حؤالہ سے ہے

مانیکا گاندھی نے ہتھنی کی موت پر اس واقعہ میں مسلمانوں کو ذمہ دار ٹھہرایا تھا اس کے اسی بیان کی وجہ سے مقدمہ درج کیا گیا ہے،مانیکا کے خلاف پولیس سٹیشن میں اسکے بیان کو لے کر سات سے زائد درخواستیں موصول ہوئی تھیں جس کے بعد پولیس نے مقدمہ درج کیا ہے لیکن تاحال مانیکا کی گرفتاری نہیں ہوئی.

بھارت میں حاملہ ہتھنی کے منہ میں کریکر ڈال کر اسے مار دیا گیا

اسلاموفوبیا ، حاملہ ہتھنی کی کریکر دھماکوں سے ہلاکت کا الزام بی جے پی رہنما نے مسلمانوں کے سر دھر دیا

مودی کے بھارت میں مسلم خاتون سے ہتھنی کی اہمیت زیادہ

حاملہ ہتھنی کی پوسٹ مارٹم رپورٹ بھی سامنے آئی گئی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ دھماکہ کی وجہ سے ہتھنی کے منہ پر زخم بن گئے تھے۔ ہتھنی کئی دنوں سے بھوکی رہی اور 10 سے 12 دنوں سے کافی تکلیف میں تھی۔ اس درد کی وجہ سے وہ کچھ کھا پی بھی نہیں سکی اور کافی کمزور ہو گئی تھی۔ آخر میں وہ پانی میں گر گئی تھی اور ڈوبنے لگی تھی۔

پوسٹ مارٹم رپورٹ کے مطابق پانی میں ڈوبنے کی وجہ سے ہتھنی کے جسم کے اندر کافی پانی چلا گیا تھا اور پھیپھڑوں نے کام کرنا بند کر دیا تھا جس کی وجہ سے اسکی موت ہوئی

بھارت میں حاملہ ہتھنی کے قاتل گرفتار،مسلمانوں کے قاتل ہندو انتہا پسند آزاد

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.