fbpx

ہوا کا رخ دیکھ کر خاموش ہوں ،تحریر:صوفیہ صدیقی

15 اگست2021 سے صرف میرے لیے بلکہ بہت سے پاکستانیوں کے لیے اہم تھا اس لیے کیونکہ اس سے ایک دن قبل ہم نے اپنی آزادی کا جشن بہت دھوم دھام سے منایا تھا ۔ کہنے کو یہ دن اکھنڈ بھارت کا یوم آزادی ہے یعنی بھارتی عوام اپنے ملک کابرطانوی راج سے آزادی پر جشن مناتی ہے۔
تو گویا یہ دن جنوبی ایشیا میں پاکستان اور بھارت دونوں کے لیے بہت اہمیت کا حامل ہے۔ ابھی ہمارا 14اگست خمار ٹھیک سے اترا نہیں تھا کہ افغانستان میں ایک نئی تبدیلی آگئی تھی۔ میں افغانستان میں ہونے والی کسی بھی صورت حال سے غافل نہیں تھی۔ اخبارات ٹیلی ویژن سوشل میڈیا سب کچھ ” شبیر” کی طرح دیکھ رہی تھیں۔ یہاں تک کہ افغانستان کے مختلف شہروں میں بسنے والے میر دوست اور صحافی ساتھی، جن سے میں گاہے بگاہے رابطے میں بھی تھیں۔لیکن خاموش تھی کیونکہ منتظر تھی کہ دیکھوں اب اونٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے؟
یہاں تو لمحہ بہ لمحہ صورتحال بدل رہی تھی۔ اونٹ کی کروٹ تو ابھی بھی سمجھ سے باہر ہیں لیکن مجھ سمیت دنیا نے بہت سے "کھلے راز” عیاں ہوتے دیکھیں۔
وہ باتیں اور تحریریں جن کو جھوٹ ثابت کرنے میں تیس سال گزر گئے ان پر پوری دنیا کی نظریں مرکوز ہو گئی۔ آپ اسے پڑوسی دشمنوں کی کامیاب جال سازی کہیں یا بے وقوفی۔۔۔ ہم ظاہر ہو چکے تھے، ہماری سوچ سب نے دیکھ لی تھی۔ ہم چودہ اگست کے بعد پندرہ اگست منا رہے تھے۔ کھلے عام۔

اگر آپ یہ سمجھ بیٹھے ہیں کہ میں حکومت پر تنقید کرنے لگی ہوں یا اپنے اداروں کے بارے میں کچھ لکھنے لگی ہوں تو آپ غلط ہیں۔

بقول قتیل شفائی

ﻣﺤﺒﺖ ﻣﯿﮟ ﻏﻠﻂ ﻓﮩﻤﯽ ﺍﮔﺮ ﺍﻟﺰﺍﻡ ﺗﮏ ﭘﮩﻨﭽﮯ
ﮐﺴﮯ ﻣﻌﻠﻮﻡ ﮐﺲ ﮐﺎ ﻧﺎﻡ ﮐﺲ ﮐﮯ ﻧﺎﻡ ﺗﮏ ﭘﮩﻨﭽﮯ

ﺳﺒﮭﯽ ﺭﺳﺘﻮﮞ ﭘﮧ ﺗﮭﮯ ﺷﻌﻠﮧ ﻓﺸﺎﮞ ﺣﺎﻻﺕ ﮐﮯ ﺳﻮﺭﺝ
ﺑﮩﺖ ﻣﺸﮑﻞ ﺳﮯ ﮨﻢ ﺍﻥ ﮔﯿﺴﻮﺅﮞ ﮐﯽ ﺷﺎﻡ ﺗﮏ ﭘﮩﻨﭽﮯ

ﺳﺠﺎ ﮐﺮ ﺁﺋﯿﮟ ﺟﺐ ﺳﻮﻧﮯ ﮐﺎ ﭼﺸﻤﮧ ﺍﭘﻨﯽ ﺁﻧﮑﮭﻮﮞ ﭘﺮ
ﻧﻈﺮ ﮨﻢ ﻣﻔﻠﺴﻮﮞ ﮐﯽ ﺗﺐ ﮐﮩﺎﮞ ﺍﺱ ﺑﺎﻡ ﺗﮏ ﭘﮩﻨﭽﮯ

ﻗﺘﯿﻞؔ ﺁﺋﯿﻨﮧ ﺑﻦ ﺟﺎﺅ ﺯﻣﺎﻧﮯ ﻣﯿﮟ ﻣﺤﺒﺖ ﮐﺎ
ﺍﮔﺮ ﺗﻢ ﭼﺎﮨﺘﮯ ﮨﻮ ﺷﺎﻋﺮﯼ ﺍِﻟﮩﺎﻡ ﺗﮏ ﭘﮩﻨﭽﮯ۔

پہلا مصرا ہمارے احباب اور بہادر امریکہ کے نام کیوں کہ افغانستان میں رچائی جانے والی جنگ کا وہ سب سے بڑا زمہ دار اور دنیا کہ امن کا ٹھیکہ دار بنتا ہے۔ اتحادیوں کو شک کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔ دیکھنا بھی چاہیے کیوں کہ "جس کا پیسہ جاتا ہے اس کا ایمان جاتا ہے”.
مانا کہ عالمی طاقتوں کے لیے معنی نہیں رکھتا۔ وہ کبھی بھی غریب فقیر صفت لوگوں کو دہشت گرد بنا کر وہاں جنگیں نافذ کر سکتی ہیں کیونکہ انھوں نے جتانا ہوتا ہے کہ وہ عالمی طاقت ہیں ۔

ان باتوں سے ہٹ کے مطلب کی بات پہ آتی ہوں۔ یہ میری غلطی ہے کہ میں کمیونیکیشن یا ابلاغ کو سمجھتی ہوں اتنا نہیں سمجھنا چاہیئے تھا۔ access of anything is bad. یعنی زیادہ جاننا کوئی فن نہیں ۔

نہ افغانستان کے لوگ ہمارے دشمن نہ حکومت۔ پھر بھی ہمیں طالبان کے بہت سے جانباز سوشل میڈیا پہ نظر آئے۔ جو جا بجا بھارت کی کٹ لگانے اور طالبان کو آسمان پر چڑھانے میں مصروف دیکھے ۔ بہت سے پاکستانی اپنا آزادی پلس منانے میں اتنا آگے چلے گئے کہ انھیں تہذیب کے دائرہ بھول گئے۔
کئیوں کو یہ یاد نہ رہا کہ ہماری افغانستان میں کوئی سرمایہ کاری ہے بھی کہ نہیں ۔۔
میرے پیارے سوشل میڈیا کے سپاہیوں، تاریخ کا حصہ بننے کے لیے صرف دوسروں کی توہین نہیں کی جاتی، محنت بھی درکار ہے۔ طالبان بنا لڑے کابل پر آ گئے یہ افغانستان کے لوگوں کے لیے اچھی بات ہے۔ مگر ان کا آنا کوئی اتنی بھی اچھی بات نہیں۔
اب تو حد کی آخری حد آگئی ہے شاید، کیونکہ طالبان کی اس آمد کو مولانا اسرار کے غزوہ ہند کے سپاہی بنا ڈالا گیا ہے۔ وہ سپاہی جو دجال کے خروج کا مقابلہ کریں گے۔
خدا کا نام لو صاحب! ہم جو خاموش ہیں تو رہنے دیں اور یہ بھی سمجھے کہ ہوا کا رخ ایک جیسا نہیں رہتا۔ یہ بدلے گا کبھی نہ کبھی۔ تب تک کیوں نہ اپنی اصلاح کے لیے علم کا دامن پکڑے۔ ہدایت مانگے اور اس کی جد وجہد کریں اور یاد رکھیں کہ اقرا سے شروع ہو نے والے قرآن میں قلم کی قسم بھی ہے۔ جو ہم سب کو پڑھنے لکھنے کے بعد تحقیقات کی دعوت دیتی ہے۔
خاموشی کی ایک بڑی وجہ ان فتووں سے اجتناب بھی ہے جو کسی پر محب وطن نہ ہونے یا مذہب سے دوری پر ہو سکتا ہے۔ اور یقینا یہ صرف میرے ساتھ نہیں بلکہ بہت سے مسلمان پاکستانیوں کے ساتھ ہو رہا یے ۔ پاکستان کو اسلام کا قلعہ ضرور سمجھیں لیکن طالبان کا اس قلعے سے بلاوجہ کا تعلق تو نہ بنائے کہ عام پاکستانی مسلمان گمراہ ہو جائے۔

Facebook Notice for EU! You need to login to view and post FB Comments!