حویلیاں 2016 اے ٹی آر طیارہ حادثہ کیس:سماعت کیا دکھ بھری کہانی:سندھ ہائی کورٹ کے جج بھی دہل گئے

کراچی :حویلیاں 2016 اے ٹی آر طیارہ حادثہ کیس:سماعت کیا دکھ بھری کہانی:سندھ ہائی کورٹ کے جج بھی دہل گئے،اطلاعات کے مطابق آج سندھ ہائی کورٹ میں حویلیاں میں 2016 میں ہونے والے اے ٹی آر طیارہ حادثہ کیس کی سماعت ہوئی

ذرائع کے مطابق آج ہونے والی اس سماعت میں سول ایوی ایشن حکام عدالت میں پیش ہوگئے ، اس سماعت میں درخواست گزار اقبال کاظمی وہیل چئیر پرآکسیجن سیلنڈر کے ہمراہ عدالت میں پیش ہوئے جنہیں دیکھ کرجج صاحبان بھی پریشان ہوگئے

درخواست گزار اقبال کاظمی نے کہا کہ میں تحریری دلائل جمع کرانا چاہتا ہوں ، جس پر عدالت نے کہا کہ تحریری دلائل کی کاپی مدعا علہیاں کو فراہم کردیں تاکہ وہ پڑھ سکیں

درخواست گزار اقبال کاظمی نے آہ بھرتے ہوئے کہا کہ پتہ نہیں ہے آئندہ سماعت تک پیش ہو سکوں یا نہیں ،جس پرعدالت نے پوچھا کہ آپ کو کیا ہوا ہے کرونا وائرس تو نہیں ہوا

درخواست گزار اقبال کاظمی نے جواب دیا کہ مجھے کینسر کا مرض لاحق ہوگیا ہے سانس لینے میں دشواری کا سامنا ہے

ذرائع کے مطابق اس موقع پر درخواست گزار کے تحریری دلائل کے بعد سول ایوی ایشن و دیگر کو عدالت کی طرف سے ہدایت جاری کردی گئیں‌

اس دوران سول ایوی ایشن کے وکیل نے جواب دیا کہ ہمارا ہیڈ آفس اسلام آباد منتقل ہورہا ہے میں نہ آسکا تو میرا نائب پیش ہوجائے گا ، عدالتی احکامات کے بعد کیا اقدامات کئے گئے ہیں ، عدالت کا استفسار

جسٹس محمد علی مظہر نے پوچھا کہ حادثے کا شکار جہاز کس نے چیک کیا تھا ،جواب میں بتایا گیا کہ پی آئی اے کی ذمہ داری ہوتی ہے کہ وہ طیارے کو چیک کرے ،

وکیل پی آئی نے جواب دیا کہ رپورٹ میں لکھا ہوا ہے طیارے کی خرابی انجن کے اندرونی تھی ،وکیل پی آئی اے نے مزید بتایا کہ اے ٹی آر طیارے کا اٹھارہ سال میں پہلی مرتبہ اس طرح کا حادثہ ہوا تھا ،

اس کے ساتھ ہی حویلیاں حادثے کے شہید پائلٹ کی ماں عدالت میں پیش ہوئیں اوراپنی دکھ بھری داستان بیان کی ، اس موقع پروالدہ پائلٹ منصور جنجوعہ نے کہ اکہ جہاز کو چیک ہی نہیں کرتے ہیں میرے بیٹے کو خراب جہاز پر بھیج دیا گیا ہے

عدالت نے مزید سماعت 18 مارچ تک ملتوی کردی گئی آئندہ سماعت پر درخواست گزار کی جانب سے تحریری دلائل کی تیاری کرکہ آئیں عدالت کی تمام فریقین کو ہدایت کی گئی ہے

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.