fbpx

ہوس اقتدار اور شریف خاندان تحریر-سید لعل بُخاری

اقتدار تو آنی جانی چیز ہے،اسکی وجہ سے ملک کے ساتھ کھلواڑ کرنے والے لوگ ہوس اقتدار میں اندھے ہو کر اپنے ہی ملک کے خلاف سازشیں شروع کر دیتے ہیں۔وہ بھول جاتے ہیں کہ وہ جو کچھ ہیں اسی ملک کی بدولت ہیں۔
اس مُلک نے جتنا شریف خاندان کو نوازا،ملکی تاریخ میں اسکی مثال نہیں ملتی
فوج نے انہیں گود میں پالا
اسٹیبلش منٹ کی آنکھ کا یہ تارہ رہے
مگر اقتدار چھن جانے کے بعد زخمی بھیڑیے کی طرح یہ ملک پر ٹوٹ پڑے ہیں۔
اقتدار بھی کسی اور نے نہیں چھینا،بلکہ انہیں اپنے کرتوتوں کی وجہ سے اس سے محروم ہونا پڑا
نہ یہ کرپشن میں پکڑے جاتے اور نہ ہی انکی موجیں کبھی ختم ہوتیں
مگر وہ کہتے ہیں کہ سو دن چور کے ایک دن شاہ کا
چور جتنا بھی ہوشیار ہو ایک دن اپنے منطقی انجام کو ضرور پہچتا ہے۔
یہی کچھ شریفوں کے ساتھ ہوا۔
پانامہ کیس نے انکا بھانڈہ پھوڑنے میں اہم کردار ادا کیا۔اب
کشمیر الیکشن میں شکست انہیں بلکل بھی ہضم نہیں ہو رہی
مریم کی سربراہی میں اس وقت ایک ایسا گھناونا کھیل کھیلنے کی کوشش کی جارہی ہے،جس کے ملک کے لئے تباہ کُن اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
جھوٹے پروپیگنڈے سے اداروں کو لڑانے کے لئے ایک ایسا کھیل کھیلا جا رہا ہے جو کشمیر اورپاکستان کو خدانخواستہ خانہ جنگی کی طرف سے دھکیل سکتا ہے
مگر ان کی بلا سے،
اگر خاکم بدہن ایسا کچھ ہوا تو ان کی صحت پر کیا اثر پڑے گا۔
پوارا خاندان پہلے ہی لندن میں قوم کے پیسے پر عیش وعشرت کی زندگی بسر کر رہا ہے۔
ضرورت پڑی تو مریم بی بی بھی گلاسی اُٹھاۓ رفو چکر ہو جاۓ گی۔
ان کے لئے عدالتوں سے مرضی کے فیصلے لینا بھی کوئ مشکل کام نہیں۔
جس کی مثال نواز شریف کا 50روپے کے اسٹامپ پر ملک سے فرار ہے۔
کیا نواز شریف کو باہر بھجوانے والے ججز نے کبھی سوچا ہے کہ جس بیمارکی زندگی کی گارنٹی وہ عمران خان سے مانگ رہے تھے،اس نے وہاں جا کے علاج کے بجاۓ پاکستان کے خلاف سازشیں شروع کر رکھی ہیں۔وہ یا توجاگنگ کرتا ہے یا پاکستان کے دشمنوں سے ملاقاتیں۔
بات یہاں تک بھی نہیں رُکتی کہ یہ خاندان اقتدار سے دوری کا بدلہ پاکستان سے لے رہا ہے،یہ خاندان تو اتنا احسان فراموش ،کم ظرف اور بے فیض ہے کہ اقتدار میں رہتے ہوۓ بھی وطن عزیز کی جڑیں کاٹنے میں لگا رہتا تھا
کون بھول سکتا ہے ان کی وہ سازشیں جو یہ اقتدار میں موجود رہتے ہوۓ اپنی ہی فوج کو بدنام کرنے کے لئے کرتے تھے۔ڈان لیکس جیسے متعدد واقعات ہیں ،جہاں سے پتہ چلتا ہے کہ یہ لوگ اپنی ہی فوج کے بھارت سے زیادہ مخالف تھے اور ہیں-
ان کے کرتوت کئی دفعہ سامنےآۓ،مگر انہیں کچھ نہ کہا گیا
پرویز رشید اور مشاہداللہ مرحوم جیسے غلامان کو قربانی کا بکرہ بنا کے انہیں پھر معاف کر دیا گیا
یہ کہتے ہوۓ ہوۓ کہ چلو خیر ہے ، یہ بچی ہے
اب وہی بچی ایک بار پھرملک کی جڑیں کاٹنے میں مصروف ہے۔
چلیں خیر جانے دیں،اُس کا زکر ہی کیا
وہ تو بچی ہے ! #

تحریر سید لعل بُخاری
@lalbukhari