fbpx

حضرت بلال حبشی رضی اللہ تعالی عنہ.تحریر: مزمل مسعود دیو

بلال تجھ پر نثار جاؤں کہ خود نبی نے تجھے خریدا
نصیب ھو تونصیب ایسا غلام ھو تو غلا م ایسا

آپ کا پیدائشی نام بلال، کنیت ابوعبداللہ تھی۔ والد کا نام رباح اوروالدہ کانام حمامہ تھا، آپ حبشی نژاد غلام تھے اور آپ کی پیدائش مکہ ہی میں پیدا ہوئے، بنی جمح کے غلام تھے۔ آپ کا قد نہایت طویل، جسم چست، رنگ نہایت گندم گوں بلکہ سیاہی مائل، سر کے بال نہایت گھنے خمدار اور اکثر سفید تھے۔

حضرت بلال رضی اللہ تعالی عنہ نے اس وقت اسلام قبول کیا جب صرف سات آدمیوں کو اس کے اعلان کی توفیق ہوئی تھی جس کی وجہ سے طرح طرح کے مظالم سے ان کے استقلال واستقامت کی آزمائش ہوئی، کبھی تپتی ہوئی ریت پر ننگے بدن لٹایا گیا تو کبھی جلتے ہوئے سنگریزوں اوردہکتے ہوئے انگاروں پر لٹائے گئے۔ ابوجہل ان کو منہ کے بل سنگریزوں پر لٹا کر اوپر سے پتھر کی چکی رکھ دیتا اورجب آفتاب کی تمازت بیقرار کردیتی تو کہتا، بلال اب بھی محمد ﷺ کے خدا سے بازآجا لیکن اس وقت بھی دہن مبارک سے یہی کلمہ احد احد نکلتا۔

ایک دن بلال کو ایسی ہی اذیتیں دی جا رہی تھیں کہ ادھر سے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا گذر ہوااور حضرت بلال کی قسمت کا ستارہ چمک گیا۔ آپ سیدنا بلال رضی اللہ تعالی عنہ پر یہ ظلم برداشت نہ کرسکے۔ لہذا سیدنا ابوبکر سے کہا کہ وہ بلال کو اس مصیبت سے نجات دلائیں۔ چنانچہ سیدنا ابوبکر نے امیہ بن خلف کو بلال کی منہ مانگی قیمت ادا کرکے خریدا، پھر آزاد کر دیا۔ ایک روایت کے مطابق یہ قیمت ایک کلو سے زائد چاندی تھی۔اس آزادی کے بعد پھر حضرت بلال نے نبی پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے در کی غلامی کرلی اور اتنا اعلی مقام پایا کہ اللہ کے حبیب نے کہا کہ جب میں معراج پر گیا تو میں نے بلال کے قدموں کی آہٹ جنت میں سنی۔جب ہجرت ہوئی تو مکہ سے نبی پاک کے ساتھ مدینہ چلے گئے۔

حضرت بلال رضی اللہ تعالی عنہ تمام مشہور غزوات میں شریک تھے، غزوۂ بدر میں انہوں نے امیہ کو تہِہ تیغ کیا جو اسلام کا بہت بڑا دشمن تھا اورخود ان کی ایذارسانی میں بھی اس کا ہاتھ سب سے پیش پیش تھا۔

اسلام کے پہلے مُؤذن کا اعزاز بھی حضرت بلال کے پاس ہے۔حضرت بلال سب سے پہلے شخص ہیں جو اذان دینے پر مامور ہوئے۔سفر میں حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے کھانے پینے کا انتظام بلال کے سپرد ہوتا تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے بعد ایک بار حضرت عمر کے اصرار پر جب بیت المقدس فتح کیا تو اذان کہی۔ اس روز اذان میں جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا نام آیا تو غش کھا کر گر پڑے۔ حضرت بلال کی آواز نہایت بلند وبالا ودلکش تھی، ان کی ایک صدا توحید کے متوالوں تک پہنچتی، مرد اپنا کاروبار، اوربچے کھیل کود چھوڑ کرمسجد میں جمع ہوجاتے تو نہایت ادب کے ساتھ آستانہ نبوت پر کھڑے ہوکر کہتے یارسول اللہ نماز تیار ہے، غرض آپ تشریف لاتے اوربلال اقامت کہتے اہل ایمان سربسجود ہونے کے لیے صف بصف کھڑے ہو جاتے۔
فتح مکہ کے دن نبی پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت بلال سے کہا کہ کعبہ کی چھت پر کھڑے ہوکر اذان پڑھو۔ حضرت بلال نے عرض کی یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم منہ کس طرف کروں تو
نبی پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا جدھر جدھر میں جاؤں تم بھی اسی طرف گھوم جانا اس طرح اذان مکمل کی۔

نبی پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پردہ پوشی کے بعد شام کے شہر حلب چلے گئے، کہتے تھے اب مدینہ میں دل نہیں لگتا۔ ایک رات خواب میں نبی پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زیارت ہوئی اور آپ نے فرمایا بلال ایسی بھی کیا بے رخی ہمیں ملنے کیوں نہیں آتے۔ صبح ہوتے ہی شہر نبی کی جانب روانہ ہو گئے جونہی حضرت بلال کی اونٹنی مدینہ شریف داخل ہوئی شہر بھر میں شور مچ گیا مؤذن رسول آگئے۔ آپ سیدھے قبر رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر گئے لپٹ کر زارو قطار روئے اور کہنے لگے یارسول اللہ میں آگیا۔
نماز کاوقت ہوا تو صحابہ نے اصرار کیا کہ اذان دیں تو آپ نے منع کردیا آخرکار حسنین کریمین کے اصرار پر راضی ہوئے اور اذان شروع کی۔ حضرت بلال نے اللہ اکبر کہا تو مدینہ شریف میں کہرام مچ گیا لوگ گلیوں میں روتے ہوئے مسجد نبوی کی جانب چلنے لگے۔ جب اشہد ان محمد رسول اللہ کہا تو منبر رسول کی جانب نگاہ کی ۔ منبر رسول خالی دیکھا تو غش کھا کر گر گئے۔ یہ حضرت بلال کی زندگی کی آخری اذان تھی۔

کہتے ہیں کہ جب آپکے وصال کا وقت قریب آیا تو نئے کپڑے سلوائے اور سرمہ لگایا۔ لوگوں نے پوچھا آج کیا بات ہے تو کہنے لگے کہ نبی پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ملاقات کا وقت جو آگیا ہے۔ 20 محرم سن 20 ہجری کو یہ ماہتاب عشق نبوی غروب ہوگیا۔دمشق کے محلہ باب الصغیر میں آپ ؓ نے وفات پائی، اس وقت عمر تقریبا تریسٹھ برس تھی۔ آپ کا مزار دمشق میں ہے۔