fbpx

حضور اکرم ﷺ بحیثیت شوہر | تحریر : عدنان یوسفزئی 

اسلام نے نکاح کو مرد و عورت کے لیے خیر و برکت کا سبب قرار دیا ہے۔ 

اللہ تعالی کا ارشاد ہے: ” تم میں سے جن (مردوں یا عورتوں ) کا اس وقت نکاح نہ ہو، ان کا بھی نکاح کراو اور تمہارے غلاموں اور باندیوں میں سے جو نکاح کے قابل ہوں ان کا بھی ۔ 

اگر وہ تنگ دست ہوں تو اللہ تعالی اپنے فضل سے انہیں بے نیاز کردے گا اور اللہ بہت وسعت والا ہے ، سب کچھ جانتا ہے۔”

نکاح کو خیر و برکت کا سبب قرار دینے کے ساتھ ساتھ، شخصی مسرت کی تکمیل میں کسی رفیق حیات کی رفاقت، میاں بیوی کی باہمی موافقت اور میل جول کو اسلام نے بہت اہمیت دی ہے۔ میاں بیوی کی باہمی محبت ورحمت کو اپنی نشانیوں میں سے ایک قرار دیا ہے۔ سورہ روم میں ارشاد باری تعالی ہے: ” اور اس کی ایک نشانی یہ ہے کہ اس نے تمہارے لیے تم ہی میں سے بیویاں پیدا کیں، تاکہ تم ان کے پاس جاکر سکون حاصل کرو، اور تمہارے درمیان محبت و رحمت کے جذبات رکھ دئیے ، یقینا اس میں ان لوگوں کے لیے بڑی نشانیاں ہیں جو غور و فکر سے کام لیتے ہیں ۔” اور ان لوگوں کی سخت برائی کی ہے جو شوہر اور بیوی کے باہمی میل جول، محبت و اخلاص میں تفرقہ ڈالیں۔ 

سورہ بقرہ میں ارشاد ربانی ہے: پھر بھی یہ لوگ ان سے وہ چیزیں سیکھتے تھے جس کے ذریعے مرد اور اس کی بیوی میں جدائی پیدا کردیں۔ ویسے یہ واضح رہے کہ وہ اس کے ذریعے کسی کو اللہ کی مشیت کے بغیر کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتے تھے ۔ مگر  وہ ایسی باتیں سیکھتے تھے جو ان کے لیے نقصان دہ تھیں اور فائدہ مند نہ تھیں اور وہ یہ بھی خوب جانتے تھے کہ جو شخص ان چیزوں کا خریدار بنے گا آخرت میں اس کا کوئی حصہ نہیں ہوگا۔” 

میاں بیوی کی باہمی میل جول، آپس کی محبت والفت کس طرح قائم رہ سکتا ہے؟ ازدواجی زندگی پر لطف اور خوشگوار کیسے بنتی ہے؟ اس کے لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مبارک زندگی کو پڑھنا، سمجھنا اور اس پر عمل کرنا ہوگا۔ بیوی کو شوہر کی فرمانبرداری اور شوہر کو بیوی کی دلجوئی کرنا ہوگی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قولی و عملی زندگی کو اپنے لیے نمونہ بنانا ہوگی۔

آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قول و فعل سے ازدواجی زندگی کے بارے میں ہمیں جو تعلیمات ملتی ہیں ذیل میں چند ذکر کیے جاتے ہیں: گھر والوں کے ساتھ بہترین سلوک کے حوالے سے ارشاد فرمایا: "تم میں سب سے بہتر وہ ہے جو اپنی بیویوں کے لیے سب سے بہتر ہے”۔ 

بیوی کے حقوق کے سلسلے میں ایک عابد و زاہد صحابی کو بلوا کر فرمایا: ” اور تیری بیوی کا بھی تجھ پر حق ہے "۔ حجة الوداع کے موقع پر فرمایا: "عورتوں کے بارے میں خدا سے ڈرو”۔ 

آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی عملی زندگی میں اپنی ازدواج مطہرات کے ساتھ محبت فرماتے تھے، چنانچہ حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: ”یارسول اللہ! آپ کو سب سے زیادہ کون محبوب ہے؟ فرمایا:

عائشہؓ ۔ انہوں نے عرض کیا: ”مردوں میں کون پسند ہے۔ فرمایا: ”عائشہؓ کا والد”۔ اظہار محبت کرتےاورخوبصورت نام سے بلاتے تھے۔

 ایک مرتبہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا پیالے میں پانی پی رہیں تھیں، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا تو فرمایا:حمیرہ! میرے لیے بھی پانی بچا لینا، چنانچہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے پانی بچایا توآپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پیالہ اپنے ہاتھ میں لیا اور فرمایا: عائشہ! تم نے کہاں پر لب لگا کے پیا؟ امی عائشہ رضی اللہ عنہا نے جگہ بتائی کہ یہاں سے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پیالے کا رخ پھیرا اور جہاں سے زوجہ محترمہ نے پانی پیا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اپنے لب مبارک اسی جگہ لگا کے پانی نوش فرمایا۔”

آپ صلی اللہ علیہ وسلم امہات المومینین کے ساتھ نرمی کا برتاؤ کرتے، ان کی دلجوئی فرماتے اور خوش طبعی کرتے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم گھر میں زیادہ ہنسنے والے، تبسم فرمانے والے تھے۔ 

آپ صلی اللہ علیہ وسلم گھر والوں کی سیر و تفریح کا خیال رکھتے تھے۔ ایک سفر میں حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ تھیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے فرمایا کہ تم آگے چلو، اور خود اپنی زوجہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ پیچھے رہ گئے اور ان سے فرمایا:

”اے عائشہ! کیا میرے ساتھ دوڑ کا مقابلہ کروگی؟” انہوں نے کہا: ”ہاں”۔ چونکہ اُس وقت حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی عمر کم تھی اور جسم ہلکا تھا تو مقابلہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے جیت لیا۔ 

کچھ عرصے بعد جب کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کا جسم بھاری تھا ان کے درمیان پھر دوڑ کا مقابلہ ہوا اس دفعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جیت گئے اور فرمایا: ”اے عائشہ یہ اُس پہلے مقابلے کا بدلہ ہے”۔ 

گھر والوں کے ساتھ وفاداری کا یہ عالم تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کی موجودگی میں کوئی دوسرا نکاح نہیں کیا، اور ان کو ہمیشہ یاد رکھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کی سہیلیوں کا خیال رکھتے۔

آپ صلی اللہ علیہ وسلم گھر کے کام کاج میں ازواج مطہرات کا ہاتھ بٹاتے تھے،کپڑے پر پیوند لگا لیتے، جوتے کی اصلاح فرما دیتے، پھٹا ہوا ڈول مرمت فرما لیتے تھے۔حضرت اسود کہتے ہیں کہ میں نے ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے گھر کے اندر کیا کرتے تھے؟ تو انہوں نے کہا کہ:آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے کام کاج کرتے اور جب نماز کا وقت ہوتا تو آپ مسجد تشریف لے جاتے۔

آپ صلی اللہ علیہ وسلم گھر والوں کی عزت واحترام کرتے۔ایک سفر میں اپنی اہلیہ حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا کے لیے اونٹ کے قریب بیٹھے اور اپنا گھٹنا مبارک یوں رکھا کہ حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا اس پر پاؤں رکھ کر اونٹ پر سوار ہوں۔ سو آپ ﷺ کی اہلیہ امی صفیہ رضی اللہ عنہا نے مبارک زینے پر پاؤں رکھا اور اونٹ پر سوار ہوگئیں۔ 

اپنی بیوی کے ساتھ محبت، نرمی کا برتاؤ، خوش طبعی، بے تکلفی، اس کی دلجوئی اور حقوق کی ادائیگی گھر کو جنت بنا سکتا ہے۔ اس کے لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی قولی و عملی تعلیمات پر عمل کرنا اور سیرت مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے لیے مشعل راہ بنانا ضروری ہے ، اسی سے ازدواجی زندگی خوشگوار اور پر لطف ہوسکتی ہے ۔

Twitter

| @AdnaniYousafzai

Facebook Notice for EU! You need to login to view and post FB Comments!