شیر خدا، حضرت علی رضی اللہ عنہ ۔۔۔ ملک صداقت فرحان

بے حب علی قلب میں ایماں نہیں ہوتا کلمے کے بغیر جیسے مسلماں نہیں ہوتا

کچھ لکھنے کا دل کیا تو اٹھایا قلم اور ایک ایسی ہستی پر لکھنا شروع کیا جس ہستی کو لے کر تمام فرقے اپس میں لڑتے نظر اتے ہیں جی ہاں اس ہستی کا نام حضرت علی رضی اللہ عنہ ہے۔ کیا لکھتا ان کی شان پر؟ جن کی شان پر تاریخ دانوں نے کٸی کتب لکھ ڈالیں لیکن خیر پھر بھی کوشش کی ذہن پر زور دیا تو الفاظ سے الفاظ ملتے گئے اور دیکھتے ہی دیکھتے ایک تحریر کی شکل اختیار کرگئے۔
دنیا نے بہت سے خوش نصیبوں، بہادروں، عظیم حکمرانوں اور وفاداروں کو دیکھا مگر حضرت علی رضی اللہ عنہ جیسا کوٸی نہیں دیکھا۔ خوش نصیبی بہادری عظمت اور وفاداری جیسی نعمتیں بہت کم لوگ لے کر پیدا ہوتے ہیں انہیں کم لوگوں میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کا بھی شمار ہوتا ہے۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ مکہ مکرمہ میں پیدا ہوۓ۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے والد کا نام ابو طالب اور والدہ کا نام فاطمہ تھا۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے 8 سال کی عمر میں اسلام قبول کیا۔ اسلام قبول کرنے کہ بعد حضرت علی رضی اللہ عنہ رسول اللہ ﷺ کے جانثاروں کی صف میں شامل ہوۓ۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ کا لقب اسد اللہ یعنی اللہ کا شیر اور کنیت ابو تراب تھی۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ تقریبا ہر وقت رسول اللہ ﷺ کے ساتھ رہا کرتے تھے۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ کو کئی غزوات اور جنگوں میں شریک ہونے کا موقع ملا۔ حضرت علی رضی اللہ نے تقریبا تمام غزوات اور جنگوں میں کامیابی حاصل کی اور فاتح کہلاۓ۔ ان تمام غزوات میں سے سب سے اہم غزوہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے لیے غزوہ خیبر رہا جس میں رسول اللہ ﷺ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو جھنڈا پکڑایا۔ جھنڈا پکڑنے کے بعد حضرت علی رضی اللہ عنہ لشکر کے ساتھ میدان جنگ میں اترے تو اتنے میں کفار کے لشکر میں سے ایک شخص جو کہ پہلوان تھا جس کا نام مرحب تھا آگے بڑھا اور لشکر جرار کو مخاطب کرکے کہنے لگا
”سارا خیبر مجھے جانتا ہے کہ میں مرہب ہوں پوری طرح ہتھیار بند، بہادر آزمودہ کار جب لڑاٸیاں شعلے اڑاتی ہوٸی آتی ہیں“
مقابلے میں حضرت علی رضی اللہ عنہ تھے حضرت علی رضی اللہ عنہ آگے بڑھے اور مرحب کو للکار کر کہنے لگے
”کہ میں وہ ہوں کہ میری ماں نے میرا نام حیدر رکھا ہے، کچھار کے شیر کی طرح ہوں، جسے دیکھنے سے لرزہ طاری ہوجاتا ہے۔ میں انہیں (اپنے دشمنوں کو) ایک صاع (برابر حملے) کے بدلے میں تیروں کا پورا درخت ماپ کر دیتا ہوں (یعنی میں اینٹ کا جواب پتھر سے دیتا ہوں)“۔
یہ کہہ کر حضرت علی رضی اللہ عنہ نے تلوار مرحب کے سر پر ماری۔ مرحب زمین پر گرا اور واصل جہنم ہوگیا۔ آخر کار اس طرح حضرت علی رضی اللہ عنہ کو للکارنے والا ابو جہل کا پیروکار اپنے انجام کو پہنچا۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ وہ ہستی ہیں کہ جن پہ خلیفہ دوم امیر المومنین حضرت عمر فارق رضی اللہ عنہ بھی رشک کیا کرتے تھے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کہا کرتے تھے کہ ”اگر میرے پاس یہ تین چیزیں ہوتیں جو حضرت علی رضی اللہ کے پاس ہیں تو میرے لیے یہ سرخ اونٹوں سے بہتر ہوتیں۔
1-حضرت علی رضی اللہ عنہ سے رسول اللہ ﷺ کی بیٹی کی شادی اور پھر ان میں سے اولاد کا ہونا۔
2-غزوہ خیبر کے موقع پر رسول اللہ ﷺ کا جھنڈا حضرت علی رضی اللہ عنہ کو پکڑانا۔
3-ان کے دروازے کے علاوہ مسجد کی طرف کھلنے والے باقی سب دروازوں کو بند کردینا“۔
حضرت علی رضی اللہ عنہ بہت سادہ طبیعت کے انسان تھے عید کا دن تھا حضرت علی رضی اللہ عنہ سوکھی روٹی پانی میں بھگو کر کھا رہے تھے ایک صحابی رسول ﷺ نے پوچھا کہ ”اے خلیفہ وقت حضرت علی رضی اللہ عنہ یہ آپ کیا کررہے ہیں؟ اور پھر کہا کہ عید کے دن سوکھی روٹی کھا رہے ہیں“ تو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے جواب دیا کہ ”عید کا دن اس کے لیے ہے جس کی عبادتیں قبول ہوٸیں۔۔۔
حضرت علی رضی اللہ عنہ تمام صحابہ سے زیادہ علم رکھتے تھے اور ان سے کٸی احادیث بھی روایت کردہ ہیں۔
علم کے لحاظ سےسیدنا علی رضی اللہ عنہ اتنے اونچے مقام پر فاٸز تھے کہ سعید بن مسیب رحمة اللہ علیہ بیان کرتے ہیں:
”سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے علاوہ کوٸی بھی ایسا نہیں تھا کہ جو کہتا ہو کہ مجھ سے سوال کرو“
حضرت علی رضی اللہ عنہ چوتھے خلیفہ بنے اور جب وہ خلیفہ بنے حضرت علی رضی اللہ عنہ نے خلافت سنبھالنے کے بعد انصاف کیا۔ سیدنا علی حضرت علی رضی اللہ عنہ کو 40 ہجری 24 رمضان المبارک جمعہ کے دن صبح کے وقت کوفہ میں عبدالرحمن بن ملجم نے شہید کردیا۔
إِنَّا لِلّهِ وَإِنَّـا إِلَيْهِ رَاجِعونَ
حضرت علی رضی اللہ عنہ کے بیٹے سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہ نے ان کا جنازہ پڑھایا۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.