fbpx

حضرت ابراہیم خلیل اللہ علیہ السلام:- تحریر:از عمرہ خان

حضرت ابرہیم وہ نبی جو خود ایک بت فروش کے بیٹے تھے اور انسے نبیوں کی نسلیں چلیں ۔۔۔وہ نبی علیہ السلام جنکی نسل سے سرور کائنات رحمت دو عالم صلی اللّٰہ علیہ وسلم تھے ۔۔جنکی قربانیاں ابد تک کیلئے قرآن پاک میں رقم کردئیے گئے جو ہمیشہ آنے والی نسلوں کی زبانوں اور دلوں میں رہینگے ۔۔۔
یہ وہ وقت تھا جب ایک بت فروش آذر کے بیٹے نے اس سے کہا کہ
اَتَتَّخِذُ اَصۡنَامًا اٰلِهَةً ‌ ۚ اِنِّىۡۤ اَرٰٮكَ وَقَوۡمَكَ فِىۡ ضَلٰلٍ مُّبِيۡنٍ ۞
کیا آپ بتوں کو خدا بنائے بیٹھے ہیں؟ میں دیکھ رہا ہوں کہ آپ اور آپ کی قوم کھلی گمراہی میں مبتلا ہیں ۔۔۔
وہ بیٹا زمین و آسمان کا نظارہ کرتا اور اس رب کو ڈھونڈتا جس نے اس کائنات کو تخلیق کیا ۔۔۔۔
فَلَمَّا جَنَّ عَلَيۡهِ الَّيۡلُ رَاٰ كَوۡكَبًا ‌ۚ قَالَ هٰذَا رَبِّىۡ‌ ۚ فَلَمَّاۤ اَفَلَ قَالَ لَاۤ اُحِبُّ الۡاٰفِلِيۡنَ ۞
چنانچہ جب ان پر رات چھائی تو انہوں نے ایک ستارہ دیکھا کہنے لگے کہ یہ میرا رب ہے ۔۔پھر جب وہ ستارہ ڈوبا تو فرمانے لگے نہیں یہ میرا رب نہیں میں ڈوبنے والوں کو پسند نہیں کرتا ۔۔۔۔
پھر انہوں نے چاند کو دیکھا تو کہا کہ یہ میرا رب ہے۔۔۔
جب وہ بھی ڈوب گیا تو فرمایا
اگر میرا رب مجھے ہدایت نہ دیتا تو میں یقیناً گمراہ لوگوں میں شامل ہوجاتا

پھر جب انہوں نے سورج کو چمکتا دیکھا تو کہا یہ میرا رب ہے یہ زیادہ بڑا ہے پھر جب وہ غروب ہوا تو کہا کہ
اے میری قوم جن جن چیزوں کو تم الله کی خدائی میں شریک قرار دیتے ہو میں ان سب سے بے زار ہوں ۔۔۔۔۔
اور یوں اللّٰہ تعالٰی نے انہیں حق اور سچ کی طرف رہنمائی فرمائی اور انکا رخ دین حنیف کی طرف موڑ دیا ۔۔۔۔
مگر صرف دین حق کو قبول کردینا ہی کافی نہ تھا انہیں
انبیاء کا جد امجد بننے کیلئے امتحانات مقصود تھے جس میں پورا اترنا شرط تھا۔۔۔۔۔
اور وہ پورا اترے یہاں تک کہ خلیل اللہ کا لقب پایا ۔۔۔۔
وہایک تہوار کا دن تھا اور قوم تہوار منانے نکلی ہوئی تھی ۔۔۔۔۔ اپنے دل کی اس بیماری( جو لوگوں کو گمراہی میں پڑا دیکھ کر آشکار ہوئی تھی ) کی وجہ سے آپ علیہ السلام وہیں ٹھیر گئے اور قوم کے پیچھے انکے بتوں کو توڑ ڈالا اور ہتھوڑا بڑے بت کی گردن میں لٹکا دیا ۔۔۔۔۔۔۔ قوم آئی اور بت خانے میں توڑ پھوڑ دیکھی تو پہلا شک انکا آپ علیہ السلام پر گیا ۔۔۔۔انسے بت خانے کی بابت پوچھا تو فرمانے لگے کہ اس بڑے بت سے پوچھو۔۔۔۔ کہا کہ یہ تو بول نہیں سکتا یہ کیسے بتائے گا
انکی عقلوں میں یہ نہ سمایا کہ جب یہ ان ساتھی چھوٹے بتوں کو بچا نہیں سکتا وہ کیسے رب ہوسکتا ہے ۔۔۔۔اور یوں وہ اس نوجوان پر آگ بگولا ہوگئے تو ایک بڑی آگ جلائی گئی جس میں اس سچے حق پرست اور نیک نوجوان ابرہیم علیہ السلام کو ڈالا گیا ۔۔۔۔۔ادھر انھیں آگ میں ڈالا گیا تو رب العالمین کا آگ کو حکم ہوا
يٰنار كوني بردا وسلاما على ابراهيم
اے آگ ٹھنڈک ہوجا اور ابرہیم علیہ السلام کیلئے سلامتی والی ہوجا
اور یوں تین دن آگ میں رہنے کے باوجود صحیح سالم آگ سے نکلے اور اپنے اس امتحان میں آپ ثابت قدم رہے۔۔۔
اپنی قوم اور باپ کو چھوڑ کر اپنی زوجہ کو لئے نکل کھڑے ہوئے
اس امتحان کے بعد نمرود کے دربار سے بھی بھی سرفراز لوٹے ۔۔۔ جو ہر خوبصورت عورت کو بیوی بنا لیا کرتا تھا ۔۔۔۔ پھر لوٹے بھی تو ایسے کہ اس بادشاہ نے ان پر اکرام کیا اور انھیں باندی سے نوازا۔ ۔۔۔۔۔
ابھی امتحان ختم نہ ہوئے تھے انکے ابھی بڑے بڑے کام باقی تھے !!! ۔۔۔۔۔ بڑھاپے میں اولاد کی خوشخبری ہوئی ۔۔۔۔اور وہ باندی جو آنھیں تحفے میں عطا ہوئی تھیں انھوں نے بھی ایک وارث جنا ۔۔۔۔۔۔ بڑھاپے میں ملی وہ اولاد جو اولاد نرینہ بھی تھی ۔۔۔اس ہی کہ ذریعے پروردگار نے انھیں آزمایا اور حکم ہوا کہ اسکے قربان کردیں بیٹا وہی تھا جسکی اولاد میں رحمت للعالمین صلی اللہ علیہ وسلم نے تشریف لانا تھی۔۔۔۔دونوں باپ بیٹا کچھ اس طرح ثابت قدم رہے کہ عرش لرز اٹھا اور دونوں سرخرو ہوئے ۔۔۔۔ اورآج تک انکی یہ قربانی یاد رکھی گئی ہے اور ابد تک رکھی جائے گی اس قربانی کی سنت کو ہر 10 تا 12 ذی الحجہ امت محمدیہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم زندہ کرتی رہی ہے اور کرتی رہے گی ۔۔۔۔۔ پھر اگلا امتحان کچھ یوں ہوا کہ اس جگر کے ٹکڑے کو ایسی سرزمین پر چھوڑنے کا حکم ہوا جہاں دور دور تک کسی نباتات کا نام و نشاں نہ تھا۔۔۔۔۔۔ اپنے رب کیلئے وہ اس امتحان سے بھی گزر گئے
اور رب العالمین نے ان پر ان امتحانات میں کامیابی کا کچھ اس طرح انعام کیا کہ ’’مَیں آپ ؑ کو لوگوں کا امام (یعنی پیشوا) بنانے والا ہوں۔‘‘ (سورۃ البقرہ، آیت124)۔

جب سالوں بعد اس مقام پر پہنچے جہاں بیوی بچے کو چھوڑا تھا تو وہ جگہ عجب منظر پیش کر رہی تھی ۔۔۔۔۔۔ ایک پورا شہر آباد تھا وہاں۔۔۔۔
پھر بیت اللہ کی دوبارہ تعمیر کا حکم ہوا تو باپ بیٹا ایک بار پھر حکم خداوندی کو پورا کرنے کیلئے جت گئے باپ حضرت ابرہیم علیہ السلام کے لئے جنت سے پتھر آیا جو خود آونچا نیچا ہوجاتا تھا ۔۔۔۔ بیٹا باپ کو پتھر پکڑاتا جاتا اور والد دعا کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ کا گھر تعمیر کرتے جاتے ۔۔۔
اور یہ تعمیر نو مکمل تو دعا فرمائی کہ
’’ الٰہی! مَیں نے اس لَق و دَق صحرا اور اس بے آب و گیاہ بیابان میں، تیرے گھر کے پڑوس میں اپنی اولاد کو اِس لیے بسایا ہے کہ وہ تیری عبادت کرتے رہیں۔الٰہی! لوگوں کے دِلوں میں ان کی محبّت اور لگن پیدا کر دے تاکہ وہ ان کے پاس کِھنچ کِھنچ کر چلے آئیں۔یہ وادی، جہاں سرسبزی و شادابی کا دُور دُور تک نشان نہیں، اِس میں رہنے والوں کو کھانے کے لیے تازہ پھل عطا فرما
اور یوں مسلسل امتحانات کے بعد انکا اکرام کرنے میں بھی میرے رب ے کوئی کسر نہ چھوڑی اور وہ نبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم جنکے لئے کائنات وجود میں آئی انکے ابرہیم علیہ السلام کے بیٹے اسماعیل کی نسل سے فرمادیا۔۔۔۔

Twitter handle: @Amk_20k