fbpx

ہائی کورٹ نےشریف فمیلی کی جُرم تفصیلات جاری نہ کرنےکی درخواست مستردکردی:شریف فیملی پریشان

لندن: ہائی کورٹ نےشریف فمیلی کی جُرم کی تفصیلات جاری نہ کرنےکی درخواست مسترد کردی:شریف فیملی کوسخت پریشانی ،اطلاعات کے مطابق شہباز شریف خاندان کا مبینہ منی لانڈرنگ کیس میں دستاویز روکنے سے متعلق ایک اور حربہ ناکام ہوگیا ہے۔برطانوی ہائی کورٹ کے فیصلے نے شریف خاندان کی تمام چالوں کو تہس نہس کرکے رکھ دیا ہے

ذرائع کے مطابق شہباز شریف خاندان کی مبینہ منی لانڈرنگ کیس کی دستاویز روکنے کی ایک اور کوشش ناکام ہوگئی ہے، برطانوی عدالتی حکم پر نیشنل کرائم ایجنسی نے شہباز شریف کی دستاویز ریلیز کردیں ہیں۔جن کی تفصیلات جلد منظرعام پرآسکتی ہیں ، اس حوالے سے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ شریف فمیلی نیشنل کرائم ایجسنی سے بارگیننگ کرنے کی کوشش بھی کررہا ہے

برطانوی ہائیکورٹ نے سلیمان شہباز کی دستاویز جاری نہ کرنے کی اپیل خارج کردی ہے، عدالتی فیصلے میں کہا گیا کہ شہباز شریف مبینہ منی لانڈرنگ کیس کی دستاویز اے آر (یوکے) کے حوالے کی جائیں۔

اس سے قبل عدالت نے این سی اے کو کیس کی دستاویز8 فروری تک جاری کرنے کاحکم دیا تھا تاہم شہباز شریف خاندان کی جانب سے دستاویزات کو روکنے کے خلاف اپیل کی گئی تھی جواب مسترد ہوگئی ہے۔برطانوی عدالت نےآج کیس سے متعلق دستاویزات جاری کرنے کا حکم برقرار رکھا۔

واضح رہے کہ ویسٹ منسٹر مجسٹریٹ نے10جنوری 2022 کو اے آر یو کی درخواست پر حکم جاری کیا تھا۔

گذشتہ سال ستمبر میں بھی برطانوی عدالت کے آرڈر کی کاپی نے شہبازشریف کی بریت سےمتعلق مسلم لیگ ن کا دعویٰ غلط ثابت کیا تھا، آرڈر میں شہبازشریف کانام اور بریت کاکوئی ذکر نہیں تھا۔

یاد رہے کہ اس کیس پر قانونی رائے دیتے ہوئے وزیراعظم کے سابق مشیر احتساب شہزاد اکبر نے کہا تھا کہ ایک چینل نے شہباز شریف اور بیٹے سلیمان کی بریت کی خبریں چلائیں، ایسی خبریں چلانا فیک نیوز کے زمرےمیں آتاہے۔