fbpx

ہائیکورٹ حملہ کیس میں مزید گرفتاریوں کا امکان

ہائیکورٹ حملہ کیس میں مزید گرفتاریوں کا امکان

باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق اسلام آباد ہائیکورٹ میں ہائیکورٹ حملہ کیس کی سماعت ہوئی

گرفتاروکلا تصدق حنیف،نصیرکیانی اورحماد سعید ڈارکی ضمانت درخواستوں پرفیصلہ محفوظ کر لیا گیا،اسلام آباد ہائی کورٹ کے سامنے جے آئی ٹی کی رپورٹ پیش کر دی گئی ہائیکورٹ حملہ کیس میں پولیس نے 18 مزید وکلا کی گرفتاری کا عندیہ دے دیا ہائیکورٹ نے اسلام آبادبار،ڈسٹرکٹ بار اور اسلام آباد بارکونسل کے صدور کے بیان قلمبند کرنے کی ہدایت کر دی ایس ایس پی انویسٹی گیشن عطاء الرحمان عدالت میں پیش ہوئے ،ایس ایس پی نے عدالت میں کہا کہ دوران تفتیش ہائیکورٹ حملہ کیس میں ملوث مزید کچھ وکلا کے نام سامنے آئے جسٹس محسن اختر کیانی نے کہا کہ جن کا کردار نہیں بنتا اور آپ مطمئن ہیں تو ان کو کلیئر کردیں، شروع میں آپ نے غیرمتعلقہ لوگوں کو گرفتار کیا، جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ بعض اوقات ایف آئی آر کے اندراج میں ہی کوتاہی کی جاتی ہے ، ہائیکورٹ بارکے صدرحسیب چودھری،ڈسٹرکٹ بارکے صدرفرید کیف موقع پروکلا کو روک رہے تھے،بار کونسل کے ممبر راجا علیم عباسی بھی موقع پر موجود تھے، پولیس کل ہی راجا علیم عباسی، بار کونسل اورڈسٹرکٹ بارکے ممبران کے بھی بیان قلمبند کرے،

جوڈیشل ریمانڈ پرجیل میں موجود وکلا سے تفتیش کیلئے جسمانی ریمانڈ کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کرلیا گیا، سرکاری وکیل نے انسداد دہشت گردی عدالت سے جسمانی ریمانڈ کی استدعا مسترد کرنےکا فیصلہ چیلنج کیا تھا جسٹس عامر فاروق اور جسٹس محسن اختر کیانی پر مشتمل ڈویژن بینچ نے سماعت کی

چینی کی قیمتوں میں اضافے پر سینیٹ میں بھی تحقیقات کا مطالبہ

جہانگیر ترین کے حق میں تحریک انصاف کی کونسی شخصیت کھل کر سامنے آ گئی، بڑا مطالبہ کر دیا

چینی بحران رپورٹ، وزیراعظم کیخلاف تحریک عدم اعتماد آ سکتی ہے یا نہیں؟ شیخ رشید نے بتا دیا

چینی بحران رپورٹ ، جہانگیر ترین پھر میدان میں آ گئے ،بڑا دعویٰ کر دیا

چینی بحران رپورٹ، جہانگیر ترین کے خلاف بڑا ایکشن،سب حیران، ترین نے کی تصدیق

جہانگیر ترین کو عدالت سے بڑی خوشخبری مل گئی

لاہور ہائیکورٹ نے جہانگیر ترین اور شریف فیملی کو دیا ایک ساتھ بڑا جھٹکا

جسٹس عامر فاروق نے اسٹیٹ کونسل دانیال حسن سے استفسار کیا کہ اب جسمانی ریمانڈ کیوں مانگ رہے ہیں؟ جوڈیشل ہوئے ایک ماہ سے زائد عرصہ ہوگیا آپ نے ابھی درخواست دائر کی،22 مارچ کو ریمانڈ کی استدعا مسترد کی، آپ ابھی آئے ہیں سرکاری وکیل نے کہا کہ کمشنر آفس سے 31 مارچ کو منظوری کے بعد درخواست دائر کی،چیف جسٹس کے گارڈ نے بیان میں کہا کہ وکلا تصدق حنیف اور حماد ڈارنے گن چھیننے کی کوشش کی،تفتیشی افسر نے کہا کہ پہلے گارڈ فیاض اور پھر شفیق سے گن  چھیننے کی کوشش کی گئی، ریمانڈ دیا جائے کیونکہ ان ملزمان سے برآمدگی کرائی جانی مقصود ہے  سردار لطیف کھوسہ ایڈوکیٹ نے کہا کہ یہ کیس ہی نہیں کہ کوئی بھی وکیل مسلح تھا اتنا عرصہ ہوگیا وکلا جیل میں ہیں کسی نے روکا تونہیں کہ یہ ان سے تفتیش کریں،عدالت نے ملزمان وکلا کا جسمانی ریمانڈ دینے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کرلیا

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.