fbpx

هیجان تحریر: سیدہ بشری

دو شدید انتہاؤں کے درمیان اعتدال ہے ۔۔اسکے آر پار دونوں اطراف پر موجود سوچ کو ہم نے لبرل یا قدامت پسند میں تقسیم کر دیا معاشرہ جنکو شدت پسند کہتا وجہ ہے ا نکے سخت خیالات چاہے وہ مذہبی ہوں ثقافتی ہوں تہذیبی ہوں یا تمدنی ۔ وہیں ایک دوسرا گروہ ہے جنکو لبرل کہا جاتا ۔ لفظ لبرل کی تعریف تو یہ ہے کے دوسروں کو انکے خیالات احساسات اور انکی روایات کے مطابق آزاد چھوڑ دو ۔۔پر ایسا ہے نہیں لبرل بھی شدت پسندوں کی ضد نہیں بلکہ دوسرے حصے کے شد ت پسند ہیں ۔کیونکہ یہ بھی دوسرے کے خیالات احساسات نظر یات یا جذبات کے احترام کے شدید منکر ۔کیونکہ وہ اس لفظ کی تعریف کے برعکس وہ چاہتے جو انکا عقیدہ سوچ یا نظریہ ہے ۔۔اس دو انتہاؤ ں کی جنگ نے ایک هیجان پیدا کر کے رکھ دیا ۔
ہر کوئی اپنی حد پر ایک سرحد بنا کر اس پر مسلح پہرہ دے رہا ادھر منشا کے خلاف بات ہوئی ادھر حملہ آور تیار ۔ایک جنگ کا سماں بن چکا جہاں سوچ سمجھ کو تالا لگا کر ضد پر ڈٹ جانے کا نام انکے نظریہ کی حفاظت ہے ۔اگر نظر انداز ہوا تو وہ اعتدل ہوا ۔۔اعتدال ہی وہ واحد حل ہے جو ان دو حدوں کے بین بین سہی راستہ ہے ۔جو سكهاتا ہے کے سنو احترام سے سنو ۔قایل کرو اگر نہیں کر سکتے تو چھوڑ دو ۔پر یہ حق کسی کو نہیں کے کسی کو لٹھ کے زور بازو پر کچھ منوا لو۔کسی کو کسی کی جان لینے کا حق نہیں ۔ہم نے ایک سوچ بنا لی کسی کی داڑھی دیکھی قمیض شلوار پہنا دیکھا اور اس نے کوئی جرم کیا فورا مذھب کو گا لی دو ۔
یا کوئی جرم ہوا اور جسکے ساتھ ظلم ہوا وہ اگر آزاد ہے تو آزادی کو جرم ۔
نہ ہی مذھب غلط ہوتا نہ آزادی غلط وہ فرد ہوتا جو جرم کرتا ۔یہ تفریق ہمیں سمجھنا ہو گی ۔
مذھب کسی پر جبر نہیں کرتا ۔نا جرم کی تبلیغ کرتا ۔پھر دین پر سوال کیوں ؟
کسی بھی معاشرے میں جب اعتدال کی جگہ انتہا لے لے پھر وہاں اخلاقی تباہی مقدر بن جاتی ہے ۔
ایک دوسرے کو برداشت کرنا سیکھو ۔بردآشت واحد اکائ ہے جو سبکو جوڑ کر رکھتی ہے ۔
آزادی کی تعریف کو سمجھو اور اسکی حد تجاوز کرنے سے پرہیز کرو ۔جہاں اپنی آزادی سے نکلے سمجھو دوسرے کی حد پر حملہ اور ہوا ۔۔
جنسی تفریق کا راگ الاپ کر ہم نے مرد عورت کو دو الگ مخلوقا ت بنا دیا ۔برابری کی بات کریں تو تو برابری کی حدوں کی جانکاری لینا لازم ۔تعلیم، انصاف، جائیداد، نوکری، شادی ، کاروبار کی آزادی یہ وہ معاملات ہیں جن پر ایک برابر حق ہے کسی کو حق نہیں کے کوئی ان پر مرضی مسلط کرے ۔پر وہیں ہمارےہاں خاندانی نظام کے تحت سبکے اپنے طور طریقے ہوتے جنکے افراد پاپند ہوتے بلا تفریق جنس ۔اپنی روايات کو اگر مانتے ہو تو ٹھیک اگر غلط لگے تو انکو بدلو ۔۔سڑک پر نکل کر باجا بجا کر کچھ نہیں بدلے گا ۔۔اس سے سوآئے اضطراب کے کچھ نہیں ملے گا۔۔وہ لوگ جو عورت کے نام پر عورت مارچ کا حصہ بنے انہی میں سے ایسے ابلیس بھی نکلے جن نے سر تن سے جدا کر کے بے رحمی سے قتل کیا عورت کو وہ جو خود کو سو آزاد خیال کہتے انہی نے گھروں میں عورتوں پر ظلم ڈھائے ۔پھر کس کا بھروسا ۔یہ آزادی کے نام پر منافقت ہے جو ہم کرتے ۔ہمارے ہاں ظلم ہوتے دیکھ کر سب تماشائ ہوتے اور جب ظلم ہو جاتا پھر دھڑے بازی وہی عورت کارڈ مذھب کارڈ آزادی کارڈ زندہ ہو جاتا ۔ہیش ٹیگ ٹرینڈ بنتے ۔پھر چار، دس روز بعد نیا قصہ نئی کہانی ۔ان كارڈز سے نکل کر انسان بن کر انسانیت کے لئے سوچو اور اقدام کرو ۔اپنے گھر قبیلے سے سٹارٹ کرو خود تبدیلی نظر آئے گی ۔منبر کو حق کے لئے استعما ل کرو اپنے قلم کو سچ کے لئے اٹھاؤ قانون کا نفاذ اور انصاف کے فروغ کے لئے آواز اٹھاؤ سسٹم بدلنا ہو گا ۔جسکی لاٹھی اسکی بھینس جیسے محاورے کو جسکی بهینس اسکی لاٹھی کرنا ہو گا ۔اگر کوئی آواز اٹھانا بنتی ہے وہ اس عدالتی اور پولیس کے نظام کے لئے ہے سارا گھن چکر ان دو اداروں کی وجہ سے ہے ۔جہاں طاقتور آزاد ہے ہر ظلم کے ساتھ جہاں کمزور کا مقدر دھکے ہیں ۔۔باغی ہونے سے کچھ نہیں ملتا کیونکہ طغیانی سے فصلیں سیراب نہیں ہوتی بلکہ چمن اجڑ جاتے ایسے ہی شدت پسندی سے نسلیں فیض یاپ نہیں ہوتی ۔حد پكڑ نا سیکھو ۔علم اور نمبر کی ووڑ میں تربیت کو سب سے اہم مقام دو ۔اپنی نسلوں کو جنونی اور پاگل ہونے سے بچا و ۔۔https://twitter.com/SyedaBushraSha3?s=08