fbpx

حلقہ بندیوں پر الیکشن کمیشن جو فیصلہ کرے گا اسے ہم قبول کریں گے. وزیراعلیٰ سندھ

حلقہ بندیوں پر الیکشن کمیشن جو فیصلہ کرے گا قبول کریں گے: وزیراعلیٰ سندھ

وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کہا ہےکہ حلقہ بندیوں پر ایم کیو ایم کا مؤقف الیکشن کمیشن کے سامنے رکھا ہے اس پر جو الیکشن کمیشن فیصلہ کرے گا عمل کریں گے۔ سیہون ائیرپورٹ پر میڈیا سے گفتگو میں مراد علی شاہ نے کہا کہ سب کو اپنا مؤقف پیش کرنے کا حق ہے اور حلقہ بندیوں سے متعلق ایم کیو ایم کا اپنا مؤقف ہے البتہ اس حوالے سے خالد مقبول صدیقی اور گورنر کا بیان نہیں سنا، ایم کیو ایم کا موقف الیکشن کمیشن کے سامنے رکھا ہے، اب الیکشن کمیشن جو فیصلہ کرےگا اس پر عمل کریں گے۔

وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ آج صدر آصف زرداری کی صدارت میں اجلاس ہے، ایاز صادق سمیت جو بھی ہمارےاتحادی ہیں وہ سب اجلاس میں شرکت کریں گے، صدر زرداری کے ساتھ ملکی صورتحال کے بارے میں صلاح مشورے کریں گے۔ مراد علی شاہ کا کہنا تھا کہ معیشت میں مسائل ہیں اور ہمیں مشکل فیصلےکرنے پڑیں گے، ہمارا امپورٹ بل ہمارا بہت بڑھ گیا ہے، ہم سب کو اپنی کمر کسنی ہوگی، وزیراعظم کی طرف سےکچھ وفاقی وزرا کراچی آئے تھے جن سے ہماری میٹنگ ہوئی، مجھے یقین کے کہ وزیراعظم کے پاس تجربہ کار ٹیم ہے، معیشت کی بہتری میں صوبوں سے جو مدد چاہیے ہم بالکل حاضر ہیں۔
مزید یہ بھی پڑھیں؛
دوسرا ٹیسٹ؛ نیوزی لینڈ کا پاکستان کیخلاف بیٹنگ کا فیصلہ
متنازع ٹوئٹ کیس؛ اعظم خان سواتی کے بیٹے نے چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ کے خلاف عدم اعتماد کا خط واپس لے لیا۔
ڈومیسٹک کرکٹرز کی سن لی گئی، پیر سے بقایاجات کی ادائیگی کا کام شروع
قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس آج پھر ہوگا،ہوں گے بڑے فیصلے
پولیس مقابلے میں اے ایس آئی اور کانسٹیبل کو شہید کرنے والا ڈاکو ہلاک
بھارت میں بے روزگاری 16 ماہ کی بلند ترین سطح پہنچ گئی
رکن قومی اسمبلی ناصر موسی زئی کا تحریک انصاف چھوڑنے کا فیصلہ
عورت کو امپریس کیا جانا چاہیے یا نہیں ؟ شاہ رخ خان نے بتا دیا

دوسری جانب گورنر سندھ کامران ٹیسوری نے کہا ہے کہ پیپلزپارٹی کو حلقہ بندیوں پر فیصلہ کرنا پڑے گا یہ ان کا وعدہ بھی تھا اور اگر حلقہ بندیاں نہیں ہوتیں تو کراچی والوں کا حق مارا جائےگا۔ لاہور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے گورنر سندھ کامران ٹیسوری نے کہا کہ لاپتا افراد ہماری پارٹی کا بہت بڑا مطالبہ ہے ، پچھلی حکومت کے ساتھ بھی اسی معاملے پر الحاق کیا تھا اور موجودہ حکومت سے بھی یہی امید ہے کہ لاپتا افراد پر ہمیں ناامید نہیں کرے گی۔