ہماری مسکراہٹ پر نہ جانا ،دیا تو قبر پر بھی جل رہا ہے

0
37

تمہارے نام کے نیچے کھینچی ہوئی ہے لکیر
کتاب زیست ہے سادہ اس اندراج کے بعد

آنس معین

آنس معین، 29 نومبر 1960ء میں پیدا ہوئے ۔ آنس معین کے والد کا نام ”فخر الدین بلے“ تھا۔ آنس معین نے 17 سال کی عمر میں 1977 میں شعری دنیا میں قدم رکھا۔ وادیِ ادب کو سونا کرنے والے نے صرف 9 سال شاعری کی 05 فروری 1986ء کو 26 سال کی عمر میں خودکشی کر کے اس دنیا کو ہمیشہ کے لیے خیرباد کہہ گیا۔

آنس معین کا تعلق ایک مذہبی گھرانے سے تھا۔ اُن کا رحجان صوفی ازم کی طرف زیادہ تھاکہیں سے نہیں لگتا تھا کہ وہ خودکشی کر سکتے ہیں اُن کی خودکشی سےمتعلق کئی وجوہات بیان کی جاتی ہیں پہلی یہ کہ اُن کےایک صوفی دوست نےکہاموت کےبعد زندگی اتنی خوبصورت ہے کہ اگر لوگوں کو پتہ چل جائے تو دنیا کی آدھی آبادی خودکشی کر لے۔

دوسری یہ کہ وہ اپنی کولیگ سے شادی کرنا چاہتے تھے مگر خاندان والوں نے اس رشتے سے منع کر دیا۔ تیسری وجہ یہ بیان کی جاتی ہے جس بنک میں وہ کام کرتےتھے وہاں ایک فراڈ ہوا اور انچارج کے طورپروہ خود کو اس کا ذمہ دار سمجھ رہے تھے۔ ان تمام حالات نے انہیں خودکشی پر مجبور کر دیا۔ انہوں نے 5 فروری 1985 کو ملتان میں ٹرین کے نیچے آ کر خودکشی کر لی۔

اشعار
۔۔۔۔۔۔
انجام کو پہنچوں گا میں انجام سے پہلے
خود میری کہانی بھی سنائے گا کوئی اور

ہماری مسکراہٹ پر نہ جانا
دیا تو قبر پر بھی جل رہا ہے

حیرت سے جو یوں میری طرف دیکھ رہے ہو
لگتا ہے کبھی تم نے سمندر نہیں دیکھا

ممکن ہے کہ صدیوں بھی نظر آئے نہ سورج
اس بار اندھیرا مرے اندر سے اٹھا ہے

اک ڈوبتی دھڑکن کی صدا لوگ نہ سن لیں
کچھ دیر کو بجنے دو یہ شہنائی ذرا اور

عجب انداز سے یہ گھر گرا ہے
مرا ملبہ مرے اوپر گرا ہے

گونجتا ہے بدن میں سناٹا
کوئی خالی مکان ہو جیسے

وہ جو پیاسا لگتا تھا سیلاب زدہ تھا
پانی پانی کہتے کہتے ڈوب گیا ہے

اندر کی دنیا سے ربط بڑھاؤ آنسؔ
باہر کھلنے والی کھڑکی بند پڑی ہے

یہ انتظار سحر کا تھا یا تمھارا تھا
دیا جلایا بھی میں نے دیا بجھایا بھی

یاد ہے آنسؔ پہلے تم خود بکھرے تھے
آئینے نے تم سے بکھرنا سیکھا تھا

گہری سوچیں لمبے دن اور چھوٹی راتیں
وقت سے پہلے دھوپ سروں پہ آ پہنچی

کیوں کھل گئے لوگوں پہ مری ذات کے اسرار
اے کاش کہ ہوتی مری گہرائی ذرا اور

عجب تلاشِ مسلسل کا اختتام ہوا
حصولِ رزق ہوا بھی تو زیرِ دام ہوا

آخر کو روح توڑ ہی دے گی حصارِ جسم
کب تک اسیرِ خوشبو رہے گی گلاب میں

گئے زمانے کی چاپ جن کو سمجھ رہے ہو
وہ آنے والے اداس لمحوں کی سسکیاں ہیں

نہ جانے باہر بھی کتنے آسیب منتظر ہوں
ابھی میں اندر کے آدمی سے ڈرا ہوا ہوں

آج ذرا سی دیر کو اپنے اندر جھانک کر دیکھا تھا
آج مرا اور اک وحشی کا ساتھ رہا پل دو پل کا

اک کربِ مسلسل کی سزا دیں تو کسے دیں
مقتل میں ہیں جینے کی دعا دیں تو کسے دیں

بکھر کے پھول فضاؤں میں باس چھوڑ گیا
تمام رنگ یہیں آس پاس چھوڑ گیا

نہ تھی زمین میں وسعت مری نظر جیسی
بدن تھکا بھی نہیں اور سفر تمام ہوا

اتارا دل کے ورق پر تو کتنا پچھتایا
وہ انتساب جو پہلے بس اک کتاب پہ تھا

گیا تھا مانگنے خوشبو میں پھول سے لیکن
پھٹے لباس میں وہ بھی گدا لگا مجھ کو

کب بارِ تبسم مرے ہونٹوں سے اٹھے گا
یہ بوجھ بھی لگتا ہے اٹھائے گا کوئی اور

درکار تحفظ ہے پہ سانس بھی لینا ہے
دیوار بناؤ تو دیوار میں در رکھنا

میں اپنی ذات کی تنہائی میں مقید تھا
پھر اس چٹان میں اک پھول نے شگاف کیا

تمہارے نام کے نیچے کھنچی ہوئی ہے لکیر
کتابِ زیست ہے سادہ اس اندراج کے بعد

یہ اور بات کہ رنگِ بہار کم ہوگا
نئی رتوں میں درختوں کا بار کم ہوگا

یہ قرض تو میرا ہے چکائے گا کوئی اور
دکھ مجھ کو ہے اور نیر بہائے گا کوئی اور

وہ میرے حال پہ رویا بھی مسکرایا بھی
عجیب شخص ہے اپنا بھی ہے پرایا بھی

اک ڈوبتی دھڑکن کی صدا لوگ نہ سن لیں
کچھ دیر کو بجنے دو یہ شہنائی ذرا اور

Leave a reply