fbpx

ہوشیار، کرونا ویکسین کا گھن چکر شروع،ویکسین نہ لگوائی تو زندگی رک جائے گی

باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ اس وقت ہمارا ملک کرونا وائرس کی چوتھی لہر چل رہی ہے جس کی وجہ سے نہ صرف لاک ڈاون دن بہ دن سخت ہوتا جا رہا ہے بلکہ ویکسین کو لیکر بھی سخت پابندیوں کا اعلان کیا گیا ہے۔ یہاں تک بھی سننےمیں آ رہا ہے کہ یہ پورا مہینہ ہی لاک ڈاون کی نظر ہو سکتا ہے۔حکومت کی طرف سے صاف کہہ دیا گیا ہے کہ بڑے شہروں میں 15 سال سے زائد عمر کی 40 فیصد آبادی ہے جسے مکمل طور پرvaccinateکرنا ہے اور جب یہ ہدف حاصل کرلیں گے تو ستمبر کے آخر میں پانبدیوں میں کمی ہو گی۔ اور 30 ستمبر تک جن لوگوں نے دونوں ڈوز نہیں لگوائیں ہوں گی ان پر سخت پابندیاں لگائی جائیں گی۔فضائی سفر پر پابندی ہوگی، شاپنگ مالز میں دکانداروں اور گاہکوں دونوں کے داخلے پر پابندی ہوگی، ہوٹلز اور گیسٹ ہاؤسز میں بکنگ بند کردی جائے گی، انڈور آؤٹ ڈور ڈائننگ اور شادیوں میں شرکت نہیں کرسکیں گے، تعلیمی اداروں میں ویکسین نہ لگوانے والا عملہ اپنا کام جاری نہیں رکھ سکے گا۔

مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ ٹھیک ہے یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ کرونا وائرس بہت خطر ناک ہے ہمیں اس سے بچاو کے لئے ہر صورت احتیاط کرنی چاہیے۔ لیکن میرا سوال یہ ہے کہ کرونا اور اس سے بچاو کی ویکسین کو لیکر مختلف ممالک اور مختلف حکومتوں کے رویے اتنے دوغلے کیوں ہیں؟پابندیوں کے معیار مختلف کیوں ہیں؟جس کام میں حکومت کی مرضی ہو اس کام پر چھوٹ کیسے مل جاتی ہے؟صرف چند چیزوں کو ٹارگٹ کیوں کیا جا رہا ہے؟کورونا وائرس جب پھیلنا شروع ہوا تو ہم نے دیکھا کے بہت سے ممالک میں بہت سخت لاک ڈاون لگایا گیا جبکہ کچھ ممالک میں بغیر لاک ڈاون کے بھی اس پر قابو پا لیا گیا۔ اور اگر ہم پاکستان کی بات کریں تو عجیب ہی صورتحال ہے جب گزشتہ سال کورونا وبا کی شروعات تھی توپاکستان میں سخت ترین لاک ڈاؤن لگایا گیا۔ عوام کو گھروں میں بند کردیا گیا اور پبلک ٹرانسپورٹ پر بھی مکمل پابندی لگا دی گئی۔ اب ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ اس سخت لاک ڈاون کے بعد کرونا وائرس کا پاکستان سے خاتمہ ہو جاتا اور اب ہم سکون میں ہوتے لیکن بد قسمتی سے ایسا نہیں ہو سکا اور وقت کے ساتھ ساتھ یہ وائرس شدید سے شدید ہی ہوتا گیا۔ کیونکہ جن ممالک سے یہ وائرس یہاں آ رہا تھا ان کی فلائٹس بند کرکے ہم اپنے تعلقات خراب نہیں کرنا چاہتے تھے۔ ہم نے اپنے بچاو کے لئے فلائٹس بند نہیں کیں لیکن خود پر پابندیاں لگوا کر ریڈ لسٹ میں ضرور آ گئے۔ اور اب جیسے جیسے ویکسین کو لیکر حکومت عوام پر دباو بڑھا رہی ہے تو لوگوں کی طرف سے اس پر تنقید بڑھتی جا رہی ہے۔

مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ دراصل لوگوں کا ماننا ہے کہ ان کو اس فیصلے کی آزادی ہونی چاہیے کہ وہ ویکسین لگوائیں یا نہ لگوائیں یا ابھی نہ لگوائیں اور کچھ عرصہ بعد لگوائیں لیکن حکومت بضد ہے کہ اگر ویکسین نہ لگوائی تو سرکاری ملازمین کو تنخواہ نہیں ملے گی، ہم سم بند کر دیں گے، شناختی کارڈ بلاک کردیں گے۔ کسی دفتر میں داخل نہیں ہونے دیں گے۔ جسے عوام حکومت کی بدمعاشی کہہ رہی ہے۔ اور یہ بھی سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ کس قانون اور اتھارٹی کے تحت یہ دھمکیاں پاکستانیوں کو دی جارہی ہیں اور ان کی پرسنل لائف میں دخل دیا جارہا ہے؟
اب سوال یہ اٹھتا ہے کہ آج جب اس وائرس کے پھیلاو کو شروع ہوئے تقریبا دو سال ہونے والے ہیں اور ویکسین کا عمل شروع ہوئے بھی کئی ماہ گزر چکے ہیں تو عوام ابھی تک اسے قبول کیوں نہیں کررہی عوام اتنیConfuseاور ڈری ہوئی کیوں ہے؟دراصل اس کی وجہ دنیا کے کئی ممالک اور ان کی حکومتوں کا دوغلا پن ہے۔سب سے پہلے اگر ہم پاکستان کی ہی بات کر لیں تو حکومت کی طرف سے شادی ہالز میں تین سو لوگوں کی اجازت ہے۔ پارکس میں پانچ سو لوگوں کو داخلے کی اجازت ہے۔ لوکل بس میں ستر لوگ سفر کر سکتے ہیں۔ بازاروں میں رات آٹھ بجے تک خوب ہجوم ہوتا ہے۔ لیکن سکولز بند ہیں۔۔ میٹرک اور انٹر میڈیٹ کے طلبہ کو پاس کرنے کا فیصلہ کر لیا گیا۔ یہاں تک کہ فیل ہونے والے طلبہ کو بھی رعایتی 33 نمبر دے کر پاس کیا جائے گا اور آئندہ تعلیمی سال 22 اگست سے شروع ہوگا۔اور اگر کہیں پابندیوں میں نرمی بھی کر دی جائے تو تعلیمی ادارے 50 فیصد حاضری کے ساتھ کھولے جاتے ہیں Alternate daysمیں کلاسز ہوتی ہیں۔جب کہ آپ کو یاد ہو گا کہ جب یہ وائرس پھیلنا شروع ہوا تھا تو سب ماہرین نے خود ہمیں یہ بتایا تھا کہ بچوں کے لئے یہ وائرس خطرناک نہیں ہے بچے صرف اس وائرس کے
Carrier ہوتے ہیں۔ تو اب جب بڑوں کو ویکسین لگ چکی ہے اور بچوں کا اس وائرس سے کوئی خطرہ نہیں ہوتا تو سکولز ابھی تک کیوں بند ہیں؟ اگر کھولے بھی جا رہے ہیں تو پچاس فیصد حاضری کیوں؟ ایک بس میں ستر لوگ سفر کر سکتے ہیں تو کلاس میں پچیس بچے کیوں نہیں بیٹھ سکتے؟ اور بھی بہت سے ممالک ہیں جہاں بہت سخت لاک ڈاون لگائے گئے تھے لیکن جب لاک ڈاون ہٹایا گیا تو سب سے پہلے سکولوں کو ترجیحی بنیادوں پر کھولا گیا اور اس کے بعد سے اب تک وہاں سکول کھلے ہوئے ہیں اس کے بعد سکولز بند نہیں کئے گئے۔تو جب باقی ممالک میں سکولز کھولے جا سکتے ہیں تو پاکستان میں کیوں نہیں۔ پاکستان میں جب لاک ڈاون میں نرمی کی بات آتی ہے تو سکولز کا نمبر سب سے آخر میں کیوں؟ کیا پاکستان میں وائرس کی کوئی خاص قسم ہے جو سکولز میں زیادہ ایکٹیو ہے؟اور ساتھ ہی پندرہ سال اور اس سے کم عمر بچوں کو بھی ویکسین لگائی جا رہی ہے۔ حیرت کی بات ہے کہ صرف اس بنیاد پر کہ وہ
Carrier ہیں آپ نے ان کو ویکسین لگانی شروع کر دی حالانکہ کوئی بھی ویکسین کیوں نہ ہوBioNTech, Pfizer CanSino CoronaVac Moderna Oxford, AstraZeneca
Sinopharm Sputnik V ان کے بارے میں ہم سب جانتے ہیں کہ یہ ویکسینز کرونا سے بچاو میں کارگر نہیں ہیں یہ کرونا کا علاج نہیں ہیں۔ ان کا رول صرف اتنا ہے کہ اگر آپ کو کرونا ہو جائے تو یہ آپ کی حالت کو زیادہ بگڑنے نہیں دیتیں کہ کسی انسان کو ventilator کی ضرورت پڑے یا خدانخواستہ کسی کی موت ہو جائے۔ صرف اس بنیاد پر ہم خود بچوں کے اندر ویکسین کی صورت میں وائرس والا جراثیم ڈال رہے ہیں تاکہ ان کی Immunityبڑھ جائے۔اور جبکہ ان ویکسینز کے بہت سے Side effectsکے کیسسز بھی سامنے آئے ہیں۔ کیونکہ یہ بہت جلدی میں بنائیں گئیں ہیں آج تک تاریخ میں کوئی ویکسین بھی تیار کرکے اتنی جلدی سب انسانوں کو نہیں لگائی گئی جتنی جلدی اس ویکسین کو تمام دنیا کے انسانوں کے لئے لازمی قرار دے کر زبر دستی کی جا رہی ہے۔ ساتھ ہی جن کو کرونا ہو چکا اور ان کے جسم میں اینٹی باڈیز بن چکی ہیں ان کے لئے بھی لازم ہے کہ وہ ویکسین ضرور لگوائیں۔

مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ سکولز کے ساتھ ساتھ یہی حال مساجد کا بھی ہے اور یہی دوغلاپن آپ کو سیاسی سرگرمیوں میں بھی نظر آئے گا۔ جب بھی جس سیاسی جماعت کا دل کرتا ہے وہ جلسے جلوس کرنا شروع کر دیتے ہیں جہاں کوئی ایس او پیز فالو نہیں کی جاتیں اور اتنی بڑی تعداد میں عوام کا ہجوم اکھٹا کر لیا جاتا ہے۔ اور تو اور آپ خود دیکھ لیں کرونا کی وجہ سے سب کچھ بند کر دیا گیا لیکن الیکشنز بند نہیں ہوئے لوگ پولنگ بوتھ پر اکھٹے ہو رہے ہیں ایک بیلٹ پیپر کتنے ہاتھوں سے گزر رہا ہے ایک ہی سٹیمپ سے کتنے لوگ ٹھپا لگا رہے ہیں لیکن وہاں کچھ فرق نہیں پڑتا کیونکہ وہ سیاسی جماعتوں کی اپنی سیاست مضبوط کرنے کے لئے ہیں۔اور یہ دوغلا پن صرف پاکستان میں نہیں ہے اور بھی کئی ممالک میں ہے آپ سعودیہ عرب کی ہی مثال لے لیں۔ سعودیہ عرب میں حرم خالی ہے حج تقریبا معطل ہے۔ عمرہ بھی بند ہے۔ لیکن 5 جولائی 2021 کو شائع ایک رپورٹ کے مطابق حج مقامات پر جانے پر 20 ہزار ریال کا جرمانہ عائد کیا جا رہا ہے۔ جبکہ سینما ہالز کھلے ہیں فلم فیسٹیول ہو رہے ہیں۔ کورونا کے ‏دوران 20 نئے سینما کھل گئے۔ آخری 2 سینما 19 اگست 2021 کو ریاض اور طائف میں کھولے گئے۔ دو ہزار بیس میں پوری دنیا کی فلمی صنعت زبوں حالی کا شکار رہی لیکن سعودیہ میں 2020 میں 73 ملین سے زائد مووی ٹکٹس فروخت ہوئے تھے۔ سعودی عرب کے 13 میں سے 9 صوبوں میں سینما کھل چکے ہیں جن میں سے 21 ریاض، 9 مکہ مکرمہ ریجن اور 8 مشرقی ریجن میں کھولے گئے ہیں۔ 2019 میں سعودی عرب میں سینما گھروں کی تعداد 12 تھی جو 2020 میں بڑھ کر 33 تک پہنچی اور اب 44 ہوگئی ہے اور یہ وہ وقت ہے جب کرونا اپنے عروج پر رہا ہے۔ جدہ اورریاض میں بڑے میوزیکل ‏کنسرٹ ہوئے ہیں فٹ بال میچز بھی ہو رہے ہیں۔ لیکن لوگ حرم شریف میں نہیں آ سکتے؟
وہاں جانے کے لئے تو ابھی تک کوئی ویکسین بھی فائنل نہیں کی جا رہی کہ لوگوں کو پتہ ہو کہ اگر ہم یہ ویکسین لگوا لیں تو اس کے بعد حج یا عمرہ کے لئے جا سکتے ہیں لیکن نہیں صرف اپنی مرضی کی جگہیں کھولنی ہیں اور جہاں مرضی نہیں ہے وہاں سب بند ہے۔

مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ کہنے کا مقصد یہ ہے کہ حکومتوں کی ان دوغلی پالیسیز کی وجہ سے عوام ابھی تک اس وائرس کو لیکر کنفیوز ہے۔ جس طرح زبردستی ویکسین لگائی جا رہی ہے عوام اس سے ڈری ہوئی ہے۔ اگر پوری دنیا میں یہ وائرس ہے تو پوری دنیا کا اس سے نمٹنے کا طریقہ کار بھی ایک ہی ہونا چاہیے۔ یہ غلط ہے کہ سیاسی ہجوم کی اجازت ہے الیکشنز کی اجازت ہے لیکن سکولز اور مساجد پر پابندی ہے۔ ایک پالیسی بنائیں اور اس کو ہرجگہ لاگو کریں اور جہاں تک بات ویکسین کی ہے تو پہلے لوگوں کا اس پر اعتماد بحال کریں پھر ویکسین لگائیں تاکہ لوگوں میں بے چینی ختم ہو عوامی رائے کو نظر انداز کرتے ہوئے اپنی ہی چلانے کا وتیرہ مت اپنائیں اس میں سب کا نقصان ہے۔

Facebook Notice for EU! You need to login to view and post FB Comments!