ورلڈ ہیڈر ایڈ

ہوتا ہے شب و روز اک تماشا میرے آگے..از.محمد نعیم شہزاد

وطن عزیز پاکستان میں سابق صدر پرویز مشرف کے دور اقتدار میں میڈیا کو آزادی دی گئی اور ان گنت چینلز کھل گئے جن کی مشہور زمانے سوغات بحرف دیگر واحیات ٹاک شوز اور برائے نام تجزیے ہوا کرتے تھے اور تا حال یہ روش چلی آتی ہے۔ ان ٹاک شوز اور تجزیوں سے قوم کو نفرت و منافرت کی آگ کے سوا کچھ حاصل نہ ہوا اور میڈیا ہاؤسز کی تو جیسے چاندی ہو گئی۔ یعنی بغیر کسی جانفشانی کے محض چند مہمانوں کو بلا کر جھگڑا کرا دیا اور اس جھگڑے کو طول دے کر اپنے شو اور چینل کی ریٹنگ بڑھا لی۔ اور قوم کو ٹھٹھے اور مذاق کا عادی بنا دیا۔ دوسروں کی پگڑیاں اچھالنا اور تحقیر تذلیل کرنا ان پروگراموں کا بنیادی مقصد اور ماحصل نظر آتا ہے۔

کیا ملک میں الیکشن اس لیے کرائے جاتے ہیں کہ ان ٹاک شوز میں بیٹھ کر جھک مارنے کو مہمان منتخب کیے جائیں؟
کیا سرکاری خزانے سے ان حکومتی عہدیداروں کو تنخواہ میڈیا ہاؤسز کے شوز کی رونق بننے کے لیے دی جاتی ہے؟
کیا میڈیا کا مقصد یہی رہ گیا ہے کہ قوم کو دوراہے پر لا کھڑا کرے اور غلط، درست کی تمیز بھلا دے؟

ان جیسے بیسیوں سوال ہیں جن کا کوئی معقول جواب دستیاب نہیں ہے۔ پہلے تو بات کریں ان عوامی نمائندوں کی کہ ان کو ان کے حلقوں کے عوام اس لیے منتخب کرتے ہیں کہ یہ ان کی نمائندگی اسمبلی میں کر سکیں نہ کہ اس لیے کہ ٹی وی شو میں بیٹھ کر اپنی سیاسی پارٹی کا دفاع کرتے رہیں اور دوسروں پر کیچڑ اچھالتے رہیں۔ پھر بدلتی رتوں کی طرح پارٹیاں تبدیل کرنے والے اراکین اسمبلی کا احوال بھی ملاحظہ ہو کہ جس پارٹی کی مخالفت میں ایک مدت تک ٹاک شوز میں لمبی لمبی تقریریں کرتے رہے اب ان ہی کی تعریف و توصیف کرتے نظر آتے ہیں گویا

ہیں کواکب کچھ نظر آتے ہیں کچھ
دھوکہ دیتے ہیں یہ بازی گر کھلا

اور کس قدر تحقیر آمیز بات ہے کہ ایک معمولی اینکر عوام کے منتخب نمائندوں سے مرضی کے سوال پر تبصرہ کی مانگ کرتا ہے اور اپنی رائے کے اظہار سے روک دیتا ہے۔

پیمرا کو اس حوالے سے سنجیدگی سے قانون سازی کرنا ہو گی۔ اور پارلیمنٹ کا تقدس بھی یہی ہو گا کہ منتخب نمائندے یوں دوبدو نہ ہوتے رہیں۔ میڈیا ہاؤسز کو پابند کیا جائے کہ ٹاک شوز پر مستند تجزیہ کاروں کو بطور مہمان مدعو کریں اور جو بات بھی ہو پورے وثوق اور ثبوت سے کریں۔ کسی وزیر، مشیر یا رکن اسمبلی کا کوئی خصوصی انٹرویو اسی صورت نشر ہو جب وہ کوئی قومی یا عوامی سطح کے پراجیکٹ بارے آگاہی دینا چاہتے ہوں۔ اس کے علاوہ کسی بھی شو میں بحث و مباحثہ کے لیے ہر گز نہ جائیں اور نہ ہی بلائے جائیں۔ مقتدر حلقوں سے دست بستہ اپیل ہے کہ اس مسئلہ کو سنجیدگی سے لیا جائے ورنہ کارِ ریاست بھی ایک ورائٹی شو ہی بن کر رہ جائے گا۔

ہوتا ہے شب و روز اک تماشا میرے آگے..از.محمد نعیم شہزاد

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.