پاکستان میں کس طرح قانون کی آڑمیں منی لانڈرنگ کی جاتی ہے:مبشرلقمان نے بتادیا

لاہور:پاکستان میں کس طرح قانون کی آڑمیں منی لانڈرنگ کی جاتی ہے:مبشرلقمان نے بتادیا ،اطلاعات کے مطابق سنیئرصحافی مبشرلقمان نے پاکستان میں قانون کی آڑ میں ہونے والی منی لانڈرنگ کے متعلق بہت ہوشربا انکشافات کیئے ہیںں‌،

مبشرلقمان کہتے ہیں کہ میں آپ کو منی لانڈرنگ کرنے والوں کی ایک ایسی کاروائی بتاوں گا جو کہ ہو تو بہت عرصے سے رہی ہے لیکن اس طریقہ کار پر ہمارے انویسٹی گیشن کرنے والے اداروں کی طرف سے زیادہ فوکس نہیں کیا جاتا حالانکہ یہ وہ طریقہ ہے جس کے زریعے Money laundererسب سے زیادہ پیسہ بناتے ہیں۔ اور یہ طریقہ چھوٹے سے چھوٹے بزنس سے لے کر بڑے سے بڑے بزنس تک میں استعمال کیا جاتا ہے۔ اور وہ طریقہ ہےover invoiceingکا۔اس حوالے سے ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل نے بھی ایف آئی اے سے مطالبہ کیا ہے کہover invoiceingکے ذریعے جو منی لانڈرنگ کی جا رہی ہیں ان کی تحقیقات کی جائیں۔ اور یہ کوئی حالیہ واقع نہیں ہے جس پر یہ مطالبہ کیا جارہا ہے یہ شکایت ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل پاکستان نے 2013 میں ایف آئی اے کو بھجوائی تھی کہ کوئلے کی درآمد میںover invoiceingکے ذریعے اربوں روپے کی منی لانڈرنگ کی جا رہی ہے۔

 

مبشرلقمان کہتے ہیں کہ اب میں آپ کو اس شکایت کے بارے میں کچھ تفصیلات بتاتا ہوں کہ کہانی کیا ہے۔۔ جس سے آپ کو یہ بھی سمجھ آجائے گی کہ یہ تمام کاروائی ہوتی کیسے ہے۔

 

 

وہ کہتے ہیں کہ وائس چیئرمین ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل پاکستان جسٹس (ر) ڈاکٹر غوث محمد نے ڈائریکٹر جنرل ایف آئی اے کو ایک خط میں یونس برادر گروپ وائی بی جی کی ایک کمپنی کے ذریعہ اربوں روپے کی منی لانڈرنگ کے سلسلے میں شکایت سے آگاہ کیا اور انھیں بتایا کہ پچھلے سات سال سے یہ منی لانڈرنگ کی جا رہی ہے۔Lucky Commodities (Pvt.) Limited Pakistanکوئلےکی ایک کمرشل امپورٹر ہے یہ کمپنی 2013 کے شروع سے کوئلے کی تجارت کررہی ہے اور یہ کمپنی یونس برادر گروپ وائی بی جی کی بہت سی کمپنیوں میں سے صرف ایک کمپنی ہے۔طاہر احمد خانLucky Commoditiesکے چیف ایگزیکٹو آفیسر اور شیئر ہولڈر ہیں جبکہ ساتھ ہی یہGlobal Commodities Limited Dubaiکے چیف ایگزیکٹو آفیسر اور شیئر ہولڈر بھی ہیں۔اور اب جوinterestingکام ہوا ہے وہ یہ ہے کہ جون 2019 میں طاہر احمد خان نےGlobal Commodities Limited Dubaiکے سی ای او کی حیثیت سےLucky Commodities (Pvt.) LimitedPakistanکے سی ای او طاہر احمد خان کے ساتھ 37،215 ٹن کوئلہ فروخت کرنے کا معاہدہ کیا۔

 

مبشرلقمان انکشاف کرتے ہوئے بتاتے ہیں کہ اسی مہینے طاہر احمد خان نےGlobal Commodities Limited Dubaiکے سی ای او کی حیثیت سےMercuria Singaporeکے ساتھ55،000 MTکوئلہ خریدنے کا معاہدہ بھی کیا جس میں قیمت 66.10 امریکی ڈالر فی ایم ٹی کے حساب سے رکھی گئی۔ جبکہ اس طرح کے کوئلے کی قیمت 5،814 بتائی جاتی ہے۔اب قیمتوں کے فرق کو اس لئےignorنہیں کیا جا سکتا کیونکہ دونوں کمپنیوں کے سی ای او بھی ایک ہی ہیں اور وہ کوئلہ جس کی خریدوفروخت یہ کمپنیز کرتی ہیں ان کے کوئلے کا بھی ایک ہی معیار ہے اور یہ تمام کام ایک ساتھ ہونا محض کوئی اتفاق نہیں ہوسکتا۔اور دونوں کمپینوں کے سی ای او ایک ہونا اس لئے بھی کنفرم ہے کہGlobal Commodities DubaiنےMercuria Singaporeکے ساتھ اپنے معاہدے میںcommunicationکے لئے جوای میل ایڈریس دیا گیا تھا وہ بھی لکی کموڈٹیز لمیٹڈ پاکستان کا ہی تھا۔ اور روٹین میں باقی تمام معاملات کے لئے بھی ایسا ہی ہے گلوبل کموڈٹیز کے لئے لکی کموڈیٹیز کا ہی ای میل ایڈریس استعمال ہوتا ہے۔ اور طاہر احمد یہاں کراچی میں بیٹھ کر گلوبل کموڈٹیز دبئی کے سی ای او کی حیثیت سے تمام کمپنیز سے ڈیل کرکے ان کے ساتھ تمام معاہدوں پر دستخط کرتے ہیں۔اور کیا یہ جاتا ہے کہ پوری کھیپ کوTanjung Sabau Anchorage, South Kalimantan and Indonesiaسےکراچی ایک ہیvesselجس کا نامSB/ Taurusہے

 

 

 

مبشرلقمان کہتے ہیں کہ اس کے زریعے بھیجا جاتا ہے۔ جبکہ لکی کموڈٹیز لمیٹڈ پاکستان کو جی سی ایل دبئی کی طرف سے پانچ اورMercuria Singaporeکے ذریعہ جی سی ایل دبئی کو پانچ کمرشل رسید جاری کی گئیں تھیں۔ یہ رسیدیں اس بات کو ثابت کرتی ہیں کہ جی سی ایل کے ذریعہ خریدا گیا کوئلہ کبھی دبئی نہیں جانا تھا جہاں جی سی ایل کمپنی واقع ہے۔ اور یہ بات بھی بالکل واضح ہے کہ جی سی ایل دبئی کا تعلق لکی کموڈٹیز لمیٹڈ پاکستان سے ہے اور وہ فرنٹ اینڈ شیل کمپنی کے طور پر کام کررہی ہے جس کے ذریعے لکی کموڈٹیز لمیٹڈ پاکستان اپنے ہی کوئلے کو امپورٹ کرکے پاکستان منتقل کرتا ہے۔بعد میں لکی کموڈٹیز لمیٹڈ پاکستان نے جی سی ایل دبئی کے ساتھ کوئلہ خریدنے کا معاہدہ کیا۔ جی سی ایل دبئی کی جانب سے لکی کموڈٹیز لمیٹڈ پاکستان کو فروخت کیا جانے والا کوئلہ وہی کوئلہ تھا جو جی سی ایل نے Mercuriaسے خریدا تھا۔ اور یہ معاہدہ 76.05امریکی ڈالر پر کیا گیا تھا جو کہ اصل قیمت سے زیادہ تھی اورفریٹ چارج کا معاملہ الگ ہے۔

 

مبشرلقمان کہتےہیں کہ  ایک ہی مال کو ایک کمپنی نے اصل سے زیادہ قیمت پر اپنی ہی دوسری کمپنی کو فروخت کیا۔ مال اپنی جگہ پر ہی موجود رہا لیکن صرف پیسے پاکستان سے باہر بھیجے گئے اور وہ بھی اصل قیمت سے کئی گنا زیادہ۔ اوراس کے بعد اس سے بھی زیادہ قیمت پر تیسری کمپنی کووہ مال فروخت کیا جاتا ہے۔ یعنی کاغذات میں ہی صرف تمام کاروائی کی جاتی رہی۔ اصل قیمت کے علاوہ ٹرانسپورٹ چارجز بھی ڈالے جاتے ہیں جبکہ مال کہیں گیا بھی نہیں ہوتا۔ صرف کاغذات میں ہی سب ادھر ادھر کیا جاتا رہا۔
جبکہ فی ٹن 5.05 امریکی ڈالر کے حساب سے 2.5 ملین ٹن کوئلے پرover invoicingکرکے تقریبا 126 ملین امریکی ڈالر کمائے گئے۔ اور یہ صرف ایک کیس ہے جس کی شکایت 2013 میں سامنے آئی تھی اس کے بعد سے اب تک لکی کموڈٹیز لمیٹڈ پاکستان کے ذریعہ جو کاروبار ہوتا رہا ہے اگر اس کے ریکارڈز کی جانچ پڑتال کی جائے تو اس سے بھی کہیں زیادہ رسیدوں کا معاملہ بھی سامنے آسکتا ہے۔

 

 

اس طرح کیover invoicingکرکے پاکستان سے غیرقانونی طور پر فنڈز ٹرانسفر کئے جاتے ہیں اور تاثر یہ دیا جاتا ہے کہ یہ فنڈز imported commoditiesکے لئے استعمال ہوتے ہیں۔اور قانونی طور پر اس معاملے کو اس طرح سے تحفظ دیا جاتا ہےکہ یہ تمام کمپنیز اورtransactionsسیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی) ، اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) اور فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے ریکارڈ میں شامل ہیں۔

 

 

وہ کہتے ہیں کہ اس طرح تجارت پر مبنی منی لانڈرنگ کو مختلف مقاصد کے لئے استعمال کیا جاتا ہے جس میں خدشہ یہ ہوتا ہے کہ کہیں یہ رقم دہشت گردوں کی مالی مدد میں بھی استعمال ہو سکتی ہے۔

 

 

مبشرلقمان کہتے ہیں کہ اس لئے جو مالی بے ضابطگیاں اسمگلنگ اور ڈرگز کی صورت میں سر عام کی جاتی ہیں ان کے ساتھ ساتھ اس طرح کی منی لانڈرنگ پر بھی نظر رکھنے کی ضرورت ہے جو کہ تجارت کی آڑ میں کی جاتی ہے۔ اور یہ تمام طریقے ابھی تک ہمارے تحقیقاتی اداروں کی آنکھ سے بھی اوجھل ہیں جس کا فائدہ اٹھاتے ہوئے بہت سے سرمایہ کار مال بنانے میں مصروف ہیں۔

 

 

سنیئر صحافی کہتے ہین کہ ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل پاکستان کی ایف آئی اے سے درخواست کا مقصد بھی یہی ہے کہ فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی 1974 ایکٹ کے تحت ایف آئی اے کو مختلف جرائم کی جانچ پڑتال کرنی چاہیے تاکہ اس طرح کی منی لانڈرنگ کو روکا جا سکے ورنہ سات سالوں سے جاری یہ سلسلہ آگے بھی کَی سالوں تک ایسے ہی چلتا رہے گا۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.