fbpx

چھوٹی سوچ والےقومی لیڈرکیسے؟ تجزیہ:۔شہزاد قریشی

ملک میں سیاسی بحران اور انتشار کی سیاست پر جب سیاستدان باتیں کرتے ہیں اس کے ذمہ دار بھی خود اہل سیاست ہی ہیں جو بڑی بڑی غلطیاں کرتے ہیں مسئلہ صرف اتنا ہے کہ ہم اپنی غلطیوں کا اعتراف نہیں کرتے اور نہ ہی ماضی کی غلطیوں سے سبق حاصل کرتے ہیں۔ ایک دوسرے پر الزام تراشی کرنا پارلیمنٹ ہائوس کو جہاں قانون سازی ہوتی ہے وہاں بیٹھ کر ایک دوسرے کو غدار اور نہ جانے کیا کیا الزامات لگائے جاتے ہیں۔ ریاستی اداروں کو متنازعہ بنانے کا فریضہ بھی سرانجام دیتے ہیں۔ عوامی مفادات کو پس پشت ڈال کر ذاتی مفاد اور اقتدار حاصل کرنے اقتدار کو طول دینے کی خاطر ملکی سرحدوں کی حفاظت کرنے والوں کو بھی متنازعہ بنانے کی کوشش کرتے ہیں۔

الزام تراشیوں کی سیاست نے ملک کو کھنڈرات میں تبدیل کردیا ہے ملک کو بین الاقوامی مالیاتی اداروں کا مقروض بنادیا۔ مہنگائی، غربت، بیروزگاری کی بڑھتی ہوئی لہر کی وجہ سے چوریوں، ڈکیتیوں اور دیگر معاشرتی برائیوں میں اضافہ ہو رہا ہے۔ جن پولیس افسران نے ان بڑھتے ہوئے جرائم پر قابو پانا تھا ان کو بھی متنازعہ بنا دیا گیا پولیس کے محکمہ میں سیاسی مداخلت نے تباہی پھیر دی ہے نواب آف کالاباغ کے دور اقتدار سے شروع ہونیوالی سیاسی مداخلت نے پولیس نظام کو تباہ کر دیا ہے کسی بھی حکومت میں پولیس ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھنے والے اس نظام کی اصلاح کی توجہ دینے کے بجائے سیاستدانوں نے ان کو استعمال کیا۔ جب تک پولیس مداخلت سے آزاد نہیں ہوتی پولیس کا نظام ٹھیک نہیں ہو سکتا۔

میں ایسے کئی پولیس افسران کو جانتا ہوں جو اپنی زندگی اپنے اصولوں کے مطابق گزارنے پر اصرار کرتے ہیں کئی ایسے پولیس افسران پنجاب میں موجود ہیں جو نرم دل اور فرض شناس ہیں جن افسران کو فیلڈ نہیں ہونا چاہئے ان کو کھڈے لائن لگا دیا گیا ہے۔ مرکز اور صوبے کی لڑائی نے پولیس کو نشانہ بنایا جا رہا ہے جو کسی طرح بھی درست قرار نہیں دیا جا سکتا۔ پنجاب میں تعینات اعلیٰ پولیس افسران کا مورال بلند نہیں ہو رہا ملکی سیاستدان فوج سمیت ان دوسرے ریاستی اداروں کو متنازعہ بنا کر کون سا قومی فریضہ ادا کر رہے ہیں؟ آئین کے مطابق ریاستی ادارے آزاد ہوتے ہیں وہ آزادی سے اپنا فریضہ ادا کرتے ہیں

بدقسمتی سے ہمارے سیاستدانوں کا جاہ و جلال شاید ان ہی ریاستی اداروں کے مرہون منت ہے اور اسی لئے وہ ان اداروں کو قانون کے مطابق کام کرنے نہیں دیتے۔ جو سیاستدان یہ میرا پولیس افسر یہ تیرا پولیس افسر کے گرد گھوم رہا ہے اس کو قومی لیڈر کیسے کہا جا سکتا ہے؟