fbpx

ترک الفت کو نبھائیں تو نبھائیں کیسے؟ تجزیہ::-شہزاد قریشی

موجودہ دور کی سیاست میں منہ پھٹ اور سیاسی بدتمیز لوگوں کی اکثریت آچکی ہے۔ سیاستدانوں کی لڑائی نے اس ملک کو کنگال کرکے رکھ دیا ہے آج کے سیاستدانوں کی جنگ نے ملک اور عام آدمی کی زندگی کو بنیادی ضروریات زندگی سے محروم کردیا۔ ملکی اور قومی مفادات کو پس پشت ڈال کر ذاتی مفادات کی سیاست کو پروان چڑھایا جا رہا ہے ۔

اگر عمران خان کے دور اقتدار میں عام آدمی کی زندگی میں تبدیلی نہیں دیکھی تو کیا پی ڈی ایم کی 4 ماہ کی کارکردگی میں عام آدمی کی زندگی بدل گئی ؟ ہرگز نہیں عوام کے سامنے ایک ناٹک کیا جارہا ہے ایک سیاسی طبقہ عمران خان کو سلیکٹڈ کہتا رہا اور اب موجودہ حکومت کو کٹھ پتلی کا نام دیا جا رہا ہے ۔ قصہ مختصر دونوں طرف سے اسٹیبلشمنٹ پر تنقید کی جاتی رہی اور کی جا رہی ہے ۔ یعنی ہماری اسٹیبلشمنٹ کا حال ان سیاستدانوں نے یہ کردیا ہے بقول ایک پرانے گیت کے ۔

ترک الفت کو نبھائیں تو نبھائیں کیسے
ہر طرف آگ لگی ہے دامن کو بچائیں کیسے

یوں تو وطن عزیز کراچی سے لے کر خیبر تک ۔ ڈاکوئوں ،لینڈ مافیا ۔ قبضہ مافیا ، اغوا برائے تاوان کے قبضے میں ہے ۔ اسلام آباد راولپنڈی کے شہری محفوظ تھے سابق وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان کے دور میں ان جڑواں شہروں کے شہری سکھ کاسانس لیتے تھے آج راولپنڈی ، اسلام آباد میں قبرستانوں ، عام آدمی کی زرعی زمینوں ، ریلوے کی زمینوں ،دیہہ شاملات اور دیگر شہری مکانوں پر قبضے کے ساتھ ساتھ جعلی ہائوسنگ سوسائٹیز کی بھر مار ہے ۔

چوہدری نثارعلی خان کی سیاست پر اُن کے سیاسی مخالفین تنقید کر سکتے ہیں لیکن اُن کے کردار پر انگلی کھڑی کرنا ممکن نہیں بلکہ ناممکن ہے۔ ایک قومی سیاست میں کردار ادا کرنے والے کیوں خاموش ہیں اس کا جواب تو چوہدری نثارعلی خان ہی دے سکتے ہیں تاہم اسلام آباد راولپنڈی میں بڑھتے ہوئے جرائم کودیکھ کر عام آدمی چوہدری نثارعلی خان کو یاد کرتا نظر آرہا ہے ۔

راولپنڈی اسلام آباد کی سیاست میںسیاسی راہنمائوں کی بڑی تعداد موجود ہے لیکن چوہدری نثارعلی خان کے قومی سیاست میں کردار اور ذاتی کردار والا ایک بھی نظر نہیں آتا۔ قومی سیاست جس نہج پر پہنچ چکی ملک وقوم کو چوہدری نثار علی خان جیسے باکردار شخصیات کی ضرورت ہے ۔ ان جیسے دوسرے لوگوں کو آگے آکر اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔