fbpx

حکومت اور ریاستی ادارے محض طفل تسلیوں سے کام چلا رہے ہیں : علامہ باقر عباس زیدی

مجلس وحدت مسلمین سندھ کے صوبائی سیکرٹری جنرل علامہ باقرعباس زیدی نے کہا کہ جبری گمشدہ افراد کی بازیابی کے لیے جوائنٹ ایکشن کمیٹی فار شیعہ مسنگ پرسنز کا دھرنا اٹھارویں روز میں داخل ہو چکا ہے۔قوم کے بزرگ بچے اور خواتین کھلے آسمان تلے بیٹھے داد رسی کے منتظر ہیں۔حکومت اور ریاستی ادارے محض طفل تسلیوں سے کام چلا رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ شیعہ قوم کو نظر انداز کرنے کی یہ پالیسی کسی طور قابل قبول نہیں۔ہمارے حوصلے کبھی پسپا نہیں ہوں گے۔اگر حکومت یہ سمجھتی ہے کہ وہ ہمیں اعصابی جنگ میں الجھا کر پسپا کر لے گی تو یہ اس کی بھول ہے۔ ملت تشیع اپے نظریات پر اٹل ہے۔ہم حق کے لیے آواز بلند کرنا نہیں چھوڑ سکتے۔
جب تک ہمارے مطالبات تسلیم نہیں کیے جاتے ہم اپنی جگہ سے نہیں ہٹیں گے۔انہوں نے کہا کہ مزار قائد کے باہر دھرنے میں نامور سیاسی و مذہبی شخصیات کی آمد اور اظہار یکجہتی کا سلسلہ جاری ہے۔ پوری شیعہ قوم ایکشن کمیٹی کے ساتھ ہے۔دھرنے کے مرکزی قائدین کی طرف سے جو بھی اعلان کیا جائے گا مجلس وحدت مسلمین اس کی مکمل حمایت کرے گی۔انہوں نے کہا اگر ہمارے مطالبات تسلیم نہ کیے گئے تو ملک کے دیگر شہروں میں بھی دھرنے دیے جائیں گے۔ کراچی میں صدر پاکستان کی رہائش گاہ کے باہر بھی احتجاج پر غور کیا جا رہا ہے۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.