fbpx

حکومت کی کوششیں رنگ لانے لگیں، ملکی معیشت میں بہتری، ڈالر کے مقابلے روپیہ مزید مستحکم

انٹربینک مارکیٹ میں ڈالر مسلسل گراوٹ کے بعد 17 پیسے مزید سستا ہو گیا ہے۔حکومت کی کوششیں رنگ لانے لگیں، ملکی معیشت میں بہتری اور کرنٹ اکاونٹ خسارے میں کمی کے بعد ڈالر کے مقابلے روپیہ کی قدر مزید مستحکم ہو رہی ہے، جس کے باعث امریکی ڈالر مزید سستا ہوکر بائیس ماہ کی کم ترین سطح پر آگیا ہے۔فاریکس ڈیلرز کے مطابق آج بھی انٹر بینک ڈالر 17 پیسے سستا ہوا، جس کے بعد ڈالر153.02 سےکم ہوکر152.85 روپے کاہوگیا ہے۔فاریکس ڈیلرز کا موقف ہے کہ کرونا وبا کے باوجود ملکی معیشت میں بہتری اور کرنٹ اکاونٹ خسارے میں کمی کے بعد ڈالر کی قدر میں گراوٹ کا سلسلہ جاری ہے۔اس کے ساتھ ساتھ معاشی ماہرین پاکستانی روپے کی مضبوطی کا سبب ملکی زرمبادلہ ذخائر میں اڑھائی ارب ڈالرکا اضافہ قرار دے رہے ہیں۔ماہر معاشیات مزمل اسلم نے ڈالرکی گراوٹ اور روپے کی قدر میں بہتری کو خوشآئند قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ ڈالر کی گراوٹ کی سب سے بڑی وجہ آئی ایم ایف کا پروگرام بحال ہونا ہے۔
واضح رہے کہ گذشتہ روز پاکستان کو یورو بانڈز کی مد میں اڑھائی ارب ڈالر موصول ہوئے جس کے بعد ملک کے زر مبادلہ کے ذخائر تین سال کی بلند ترین سطح پر پہنچے تھے۔اقتصادی ماہرین کے مطابق ترسیلات اور برآمدات میں اضافے کے ساتھ روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹس میں ڈالر آنے کے بعد روپے کی قدر میں بہتری دیکھی جارہی ہے۔گذشتہ روز اسٹیٹ بینک کے گورنر نے وزیراعظم کو بتایا کہ روشن ڈیجیٹل اکاؤ نٹ کے ذریعے منتقل ہونے والی رقوم اسی کروڑ ڈالر کی سطح کو عبور کر سکتی ہیں جوملکی ترقی کے لیے خوش آئند ہے۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.