fbpx

ہم مجموعی طور پر ایک شدت پسند معاشرے کا حصہ ہیں۔ تحریر: ماسٹر محمد فہیم امتیاز

۔۔ شدت پسندی ہمارے خمیر کا حصہ بن چکی ہے،ہمارے نظریات میں رچ بس چکی، جو کہ اب کھرچے نہیں جاتی۔۔۔!!
ایسی شدت پسندی اور ایسی نفرت ہماری رگوں میں دوڑ رہی ہے جو ہمیں بنیادی انسانی احساسات سے بھی عاری کیے دیتی ہے۔۔۔!!

نور مقدم کیس پر میرے لکھے گئے ارٹیکل پر بھی کئی احباب عجب تاویلات و توجیہات لیے آن وارد ہوئے جس پر بندہ حق دق رہ جاتا۔۔۔!!

لوگوں کے نزدیک نور مقدم کا یہ بہیمانہ قتل کچھ برا نہیں۔۔کیوں۔۔؟ کیونکہ وہ فیمینسٹ یا لبرل تھی۔۔!! ایسا قتل جو رونگھٹے کھڑے کر دینے والا ہو جس کے اثرات معاشرے کی مجموعی نفسیات کو مسخ کر کے رکھ دینے والے ہوں۔۔۔ایسا قتل بھی درست ٹھہرا اگر آپکے مخالف نظریے والے کا ہوا ہے۔۔۔۔

اچھا یہاں پر ایک بات واضح کر دوں۔۔یہ اس نور مقدم والے کیسں کے حوالے سے تحریر نہیں۔۔یہاں مدعا وہ اپروچ ہے وہ سوچ ہے وہ رویہ ہے جو بطور قوم ہم اپنائے ہوئے ہیں بطور معاشرہ جو ہم رکھتے ہیں۔۔۔!!
اسی سوچ یا ذہنیت کی چند مثالیں مزید دوں تو

ایسے ہی چند اذہان مذہبی فرقہ واریت اور اختلاف میں مخالف فرقے پر کفر اور گستاخی کے فتوے لگانے اور دوسرے فرقے کے سر تن سے جدا کرنے انہیں قتل کر دینے کے متمنی ہوتے ہیں ۔۔۔

ایسے ہی ذہن کے لوگ بھارت میں کورونا کی صورتحال بگڑنے پر خوشیاں منا رہے تھے۔۔۔کہ چونکہ ہمارا دشمن ملک لہذا وہاں کی بے گناہ عوام بھی اگر کسی قدرتی آفت میں ایڈیاں رگڑ رگڑ کر مرتی ہے تو ٹھیک ہے اچھا ہے۔۔۔!!

ایسے ہی متشدد اذہان ہوتے جو آنر کلنگ کی تاویلات کرتے کہ جب کوئی بھائی کسی بہن کو غیرت کے نام پر قتل کر دے۔۔تو کہتے چونکہ اس بہن نے یہ کیا لہذاء اس کا قتل ٹھیک ہے اچھا ہوا صحیح انجام۔۔!!

ایسی ہی ذہنیت ہوتی کہ کوئی آپکے سیاسی یا مذہبی نظریے کی مخالفت کرے تو اسے ماردو۔۔ کاٹ دو۔۔دبا دو ۔۔ اگر خود نہیں بھی۔۔۔ تو یہ خواہش ذہن میں ہو کہ اس کی نسلیں ختم ہو جائیں اس پر بہیمانہ تشدد ہو۔۔
اسے اذیت ناک موت دے دی جائے وغیرہ وغیرہ

یہ سب کیوں۔۔؟ کیونکہ اپ ان سے اختلاف رکھتے ہیں۔۔
یا وہ مجرم ہیں۔۔۔
یا وہ گناہگار ہیں۔۔۔۔
لہٰذا انہیں انسان سمجھنے کی ضرورت نہیں۔۔
لہذا ان کے ساتھ جو بھی غلط ہو وہ صحیح ہے۔۔۔
لہٰذا دین و قانون کی حدود بھی پس پشت سہی۔۔۔
لہذا ان کا قتل بھی درست بس ان کے کرتوتوں کی سزا کہہ کر پلو جھاڑ لو۔۔۔
لہذا ان کی مال،جان، اور عزت کی کوئی ہی توقیر نہیں۔۔۔۔

اسے کہتے کم ظرفی،اسے کہتے اخلاقی گراوٹ، اسے کہتی ہیں ذہنی پستی۔۔۔
رب تعالیٰ ہمیں کم ظرف دشمنوں سے بچائے۔۔۔!!

ہم غلط کو ٹھیک کرنے کی پوٹینشل نہیں رکھتے اور نہ ہی کسی غلط کو ٹھیک کرنا چاہتے بلکہ ہم اسے ختم کر دینا چاہتے۔۔۔اسے مار دینا چاہتے۔۔۔دبا دینا چاہتے۔۔۔!!

دین نے گناہگار کے لیے بھی توبہ کا دروازہ رکھا۔۔۔
قانون نے مجرم کو بھی قانونی استحقاق دیا۔۔۔
لیکن ہم نے۔۔ مجرم اور گنہگار تو کجا اختلاف کرنے والے کے لیے بھی کوئی گنجائش نہ چھوڑی۔۔کبھی سوچا ہے جو ایسے متشدد اذہان والے بااختیار ہو جائیں تو معاشرے کا کیا حشر ہو۔۔؟؟ جسٹ امیجن۔۔!!

پھر ذہن میں رہے۔۔!! یہ معاملہ نور مقدم کا نہیں،قتل کا بھی نہیں،لبرل اور ملاں کا بھی نہیں،حتی کہ انصاف کا بھی نہیں۔۔۔یہ معاملہ سوچ کا ہے۔۔۔
دا وے ہاو آ نیشن تھنک۔۔!

یہ نفرت، یہ وائلنٹ اپروچ، یہ شدت پسندانہ رویہ، ہمیں بنیادی انسانی احساسات تک سے عاری کر چکا ہے۔۔۔اور ایک بات تو طے ہے کہ بنیادی احساسات سے بھی عاری معاشرہ انسانوں کا معاشرہ کبھی نہیں، قطعاً نہیں کہلا سکتا۔۔۔!!