fbpx

ہم نے طالبان حکومت کو تسلیم نہیں کیا،امریکہ میں پاکستان کے سفیر اسد مجید خان کا امریکی اخبار کو انٹرویو

ہم نے طالبان حکومت کو تسلیم نہیں کیا،امریکہ میں پاکستان کے سفیر اسد مجید خان کا امریکی اخبار کو انٹرویو

امریکہ میں پاکستان کے سفیر اسد مجید خان نے امریکی اخبار دی واشنگٹن ڈپلومیٹ کو انٹرویومیں کہا ہے کہ وقت آ گیا ہے کہ ہم ماضی سے سبق سیکھیں

امریکہ میں پاکستانی سفیر اسد مجید خان کا کہنا تھا کہ نائن الیو ن کے متاثرین اور انکے لواحقین کے ساتھ ہمدردی ہیں،پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ کی بھاری قیمت ادا کی ہے ،ہماری 80 ہزار شہادتیں ہوئیں اور 150 بلین ڈالرز سے زائد کا مالی نقصان ہوا،پاکستان اور امریکہ افغانستان کے بارے میں یکساں موقف رکھتے ہیں، پاکستان کا یہ موقف رہا ہے کہ افغان تنازع کا کوئی فوجی حل نہیں ہے،پاکستان نے ہمیشہ سیاسی تصفیہ پر مبنی مذاکرات کی ضرورت پر زور دیا،ہم نےافغانستان سے ذمہ دارانہ امریکی انخلا کی بات کی،حقائق سے پتہ چل رہا ہے افغانستان میں سیکیورٹی صورتحال کنٹرول میں ہے،یہ حقیقت ہے کہ افغانستان میں ایک حکومت موجود ہے

اسد مجید خان کا مزید کہنا تھا کہ عالمی برادری افغانستان میں حکومت سے چاہے تو بات کرے یا تنہا چھوڑ دے ہم نے طالبان حکومت کو تسلیم نہیں کیا،کسی بھی ملک نے طالبان حکومت کوبا ضابطہ طور پر تسلیم نہیں کیا .چاہتے ہیں کہ افغان سرزمین پاکستان سمیت کسی ملک کے خلاف استعمال نہ ہو،بین الاقوامی برادری کو چاہیے کہ وہ حقائق کو زیادہ گہرائی سے دیکھیں دہشت گردی کے خلاف ہماری قربانیاں اور کوششیں لازوال ہیں،

یہ سوچ بھی کیسے سکتے ہیں کہ کشمیر پر کسی قسم کی کوئی ڈیل ہوئی، ڈی جی آئی ایس پی آر

کشمیر کے لیے ‏‎آخری گولی،آخری سپاہی،آخری حد تک جائیں گے،ترجمان پاک فوج

بھارت سن لے، جنگیں اسلحہ سے نہیں جذبہ حب الوطنی سے لڑی جاتی ہیں، ترجمان پاک فوج

کشمیریوں کے ساتھ کھڑے تھے ،ہیں اور رہیں گے، پاک فوج کا کشمیریوں‌ کو پیغام

‏اسرائیل کو تسلیم کرنے سے متعلق باتیں پروپیگنڈا ہے. ڈی جی آئی ایس پی آر

پاک فوج میں مائیں اپنے بچوں کوشہادت کے جذبےسے بھیجتی ہیں،ترجمان پاک فوج

بھارت کے ساتھ تعلقات کے حوالہ سے اسد مجید خان کا کہنا تھا کہ عمران خان نے حکومت میں آتے ہی مودی سے دوستی کا ہاتھ بڑھایا ،بدقسمتی سے مودی حکومت امن کی دشمن ہے بھارتی حکومت کا مقبوضہ کشمیر میں ظلم و ستم جاری ہے .ہمارے دونوں ممالک کے پاس امن کے سوا کوئی اور حل نہیں ہے پاک امریکہ تعلقات کو کسی تیسرے ملک کے تناظر میں نہیں دیکھا جانا چاہیے پاک امریکہ تعلقات کو افغانستان ،بھارت یا چین کے تناظر میں نہیں دیکھا جانا چاہیے امریکہ پاکستان کے لیے سب سے بڑا برآمدی مقام ہے