fbpx

ہم نے پل بھر میں نصیبوں کو بدلتے دیکھا تحریر: قاسم ظہیر

آج سے کم و بیش دو دہائیوں پہلے کی بات ہے کہ ایک گروہ کو دنیا کی سپر پاور نے دہشت گرد قرار دے کر اس ملک پر چڑھائی کر دی اور وہ کوئی اور ملک نے ہمارا ہمسایہ اور پڑوسی افغانستان ہے.تاریخ کے تناظر میں دیکھا جائے یہ کوئی دہشتگردوں پر حملہ نہیں بلکہ دنیایک بہت بڑے کھیل کا حصہ تھا جو کافی صدیوں سے جاری ہے. گریٹ گیم یا پھر دینی و گریٹ گیم کا نام اس کو دیا گیا ہے اس کا مین مقصد سینٹرل ایشین سٹیٹ پر قابض ہو کر روس کو قابو کرنا ہے.سینٹرل ایشین اسٹیٹس پر قابض ہوکر نہ صرف روس کا اثر ختم کیا جاسکتا ہے بلکہ خطے کے دیگر ممالک کے لئے بھی تجارتی مشکلات پیدا کی جا سکتی ہیں.جو ایشیا کے حق میں تو بہتر ہے لیکن مغرب کو کسی طور بھی منظور نہیں.
اسی صدی کے شروع میں جب امریکہ نے افغانستان پر حملہ کرنے کا سوچا تو اس کے جنرل متکبر انداز میں یہ بیان دیا کہ افغانستان ہمارے لئے کچھ ماہ کا کھیل ہے لیکن شاید وہ یہ بات بھول چکا تھا کہ افغانستان نے دنیا کی دو سپر پاور کو ناکوں چنے چبوا کر مٹی میں ملا دیا ہے.
9 11 کے بعد جب امریکہ نے جب افغانستان پر حملہ کرنے کا سوچا تو اقوام متحدہ نے بھی اس کی تائید کی اور پوری دنیا نے اپنا منہ پھیر کر طالبانوں کو دہشت گرد قرار دے دیا . دنیا میں ان سے منہ پھیر کر ان کو تن تنہا چھوڑ دیا یہ وہی طالبان ہیں جن کو دس سے بیس سال پہلے امریکہ کے ایما پر کچھ قوتوں نے تیار کیا تھا تاکہ وہ سوویت یونین سے لڑ سکیں اور اس کا اثر رسوخ ختم کر سکیں
وہ کہتے ہیں نہ ارادے جن کے پختہ ہوں نظر جن کی خدا پر ہو تو یہی حال یہاں پر آپ کو طالبانوں کا بھی نظر آئے گا پوری دنیا کے منہ کرنے کے باوجود ان کے حوصلے ایک پل کے لئے بھی متزلزل نہ ہوئے اور انہوں نے اپنی کوششیں اور جنگ جاری رکھیں.انہوں نے دشمن کی اجارہ داری اپنی سرزمین پر ماننے سے صاف انکار کر دیا انہوں نے دنیا پر واضح کردیا کہ جن کے حوصلے اور عزم سے لڑی جاتی ہے نہ کہ ہتھیاروں اور ٹینکوں سے.بالآخر انہوں نے ایک سپر پاور کو پھر سے گھٹنے ٹیکا دیے اور وہ اس بات پر مجبور ہو گیا کہ اسے ان کے آگے درخواست کرنا پڑی کہ آؤ بیٹھو اور ہم سے بات کرو ہم اس مسئلہ کا کوئی حل بیٹھ کر نکالنا چاہتے ہیں بالآخر گھٹنے ٹیکنے کے بعد اس کو افغانستان سے نکلنے کی اجازت مل ہی گئی
امریکہ نے ستمر 2021 میں افغانستان سے نکلنے کا اعلان کردیا ہے جس کے بعد افغانستان میں میں فتوحات کا سلسلہ تیزی سے جاری ہے اور طالبان نے پچاس فیصد سے زائد رقبے پر قبضہ کرلیا ہے اور ان کے قبضے کے بعد دنیا کی بڑی قوتیں روس ا برطانیہ چائنا پاکستان سعودیہ اور بہت سے ممالک ان کو مدعو کر رہے ہیں.یہ وہی طالبان ہے جن کو دو دہائیاں پہلے دنیا دہشتگرد انتہاپسند اور قابل مذمت قرار دے چکی تھی اور ان کے خلاف ہر وہ کاروائی جائز سمجھی جا رہی تھی جس کا انسانیت اور انسانی اقدار سے کوئی لینا دینا نہیں.اور ان سے حوالوں کی طرح برتاؤ کیا گیا اور جنگی قیدیوں کے ساتھ وہ سلوک کیا گیا جس کی دنیا میں کوئی اور مثال نہیں ملتی لیکن پھر بھی انہوں نے اپنے حوصلوں کو متزلزل نہیں ہونے دیا اور آج وہی دنیا ان کو ویلکم فرینڈ اور ہمارے گہرے دوست اور بھائیوں کے نام سے پکار رہی ہے کیونکہ انہوں نے دنیا میں اپنا سکہ اپنے نظریات اور اپنے حوصلے کی بنیاد پر منوا دیا انہوں نے دنیا کو بتادیا کہ جنگ لڑنی ہو تو ہم سے سیکھو کہ جنگ کسے لڑی جاتی ہے جنگ لڑنے کے لیے ایسا مال ہتھیار اور جائیداد کی ضرورت نہیں اس کے لیے حوصلہ اور سچی لگن ہونی چاہیے
طالبان نے دنیا پر یہ واضح کر دیا کہ کوئی بھی آنکھ جو افغانستان کی طرف اٹھے گی اسے نکال لیں گے کوئی بھی قدم افغانستان کی طرف بڑھے گا تو اسے توڑ دیں گے کوئی بھی ہاتھ افغانستان کی طرف اٹھے گا تو اسے کاٹ دیں گے انہوں نے دنیا پر یہ واضح کر دیا کہ ہم آپ سے برابری کا سلوک چاہتے ہیں ہم پر امن قوم ہیں ہم امن سے رہنا چاہتا ہے لیکن اگر جنگ لازمی ہے تو پھر جنگ بھی ہم کر سکتے ہیں
ہم امن چاہتے ہیں مگر ظلم کے خلاف
گر جنگ لازمی ہے تو پھر جنگ ہی سہی
یہ زر کی جنگ ہے نہ زمینوں کی جنگ ہے
یہ جنگ ہے بقا کے اصولوں کے واسطے
جو خون ہم نے نذر کیا تھا زمین کو
وہ خون ہے چمن کے پھولوں کے واسطے
پھوٹے گی صبح امن لہو رنگ ہی سہی
گر جنگ لازمی ہے تو پھر جنگ ہی سہی

@QasimZaheer3