ہیومن رائٹس واچ کا فلسطینی، اردنی شہریوں کے حوالے سے سعودی عرب پرشدید تحفظات کا اظہار

نیویارک:ہیومن رائٹس واچ کا فلسطینی، اردنی شہریوں کے حوالے سے سعودی عرب پرشدید تحفظات کا اظہار،اطلاعات کےمطابق دنیا بھر میں انسانی حقوق کی نگرانی کرنے والی عالمی تنظیم ہومن رائٹس واچ نے سعودی عرب میں قید فلسطینی اور اردنی شہریوں کے بڑے پیمانے پر مقدموں اور استحصال کے الزامات پر سخت تحفظات کا اظہار کیا ہے۔

ہیومن رائٹس واچ نیوز کی رپورٹ کے مطابق مارچ 2018 میں سعودی حکام نے نامعلوم ’دہشت گرد تنظیم‘ سے تعلق کے الزام میں ملک میں فلسطینی اور اردنی رہائشیوں کے گروہ کو ہدف بناتے ہوئے بڑے پیمانے پر گرفتاریاں کیں۔رپورٹ میں کہا گیا کہ قیدیوں کو 2 سال تک بغیر کسی الزام کے زیر حراست رکھنے کے بعد سعودی حکام نے گزشتہ ماہ ریاض کی خصوصی کرمنل کورٹ میں بند دروازوں کے پیچھے بڑے پیمانے پر مقدمے چلانے شروع کیے۔

ایچ آر ڈبلیو کے مطابق ان قیدیوں کے اہلِ خانہ نے چارج شیٹ کے کچھ حصے دیکھے جس میں ’دہشت گرد تنظیم‘ سے ’تعلق‘ یا حمایت کا الزام ہے لیکن تنظیم کا نام شامل نہیں۔اس ضمن میں ہیومن رائٹس واچ مشرق وسطیٰ کے ڈپٹی ڈائریکٹر مائیکل پیج نے کہا کہ ’سعودی عرب کے غیر منصفانہ ٹرائل ریکارڈ سے اس بات کا خدشہ ہے کہ اردنی اور فسطینیوں کو سنگین الزامات اور سخت سزاؤں کا سامنا ہو گا حالانکہ کچھ نے سنگین استحصال کا الزام بھی عائد کیا ہے‘۔

ایچ آر ڈبلیو نے مطالبہ کیا کہ ’ایک ایسے وقت کہ جب کورونا وائرس کی وبا قیدیوں کے لیے خطرناک ہے سعودی عرب کو حراست کے متبادل پر غور کرنا چاہیے بالخصوص ان کے لیے جو مقدمے سے قبل قید کیےگئے‘۔ہیومن رائٹس واچ نے 7 قیدیوں میں سے 6 کے اہلِخانہ سے بات کی جن میں سے ہر ایک نے اپنے یا زیر حراست رشتہ داروں کے خلاف انتقامی کاروائی کے خوف سے نام نہ ظاہر کرنے کی درخواست کی۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.