fbpx

ہائپرسونک میزائل کا تجربہ نہیں کیا،بلکہ اس سے بھی طاقتورچیزکا تجربہ کیا ہے:چین

بیجنگ : ہائپرسونک میزائل کا تجربہ نہیں کیا،بلکہ اس سے بھی طاقتورچیزکا تجربہ کیا ہے:اطلاعات کے مطابق چین نے حال ہی میں ہائپرسونک میزائل کے تجربے سے متعلق رپورٹ کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے اس نے خلائی جہاز کا تجربہ کیا تھا تاکہ دوبارہ استعمال کے قابل ٹیکنالوجیز کا ٹرائل کیا جاسکے۔

اسی حوالے سے ’فنانشل ٹائمز’ نے رپورٹ کیا تھا کہ بیجنگ نے اگست میں جوہری صلاحیت کے حامل میزائل کا تجربہ کیا تھا جس نے ’لو اوربٹ‘ میں دنیا کے گرد چکر لگایا اور اپنے ہدف سے کچھ دور جاگرا۔

جریدے کے ذرائع کا کہنا تھا کہ ہائپرسونک میزائل لانگ مارچ راکٹ کے ذریعے چلایا گیا اور اس کا تجربہ خفیہ رکھا گیا۔

تاہم چین نے ان اطلاعات کو غلط قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ مشق دوبارہ استعمال کے قابل ٹیکنالوجی کی تھی جس سے خلائی جہاز کے لانچنگ اخراجات کم کر سکتی ہے۔

چینی وزارت خارجہ کے ترجمان ژاؤ لیجیان نے صحافیوں کو بتایا کہ ’میری معلومات کے مطابق یہ تجریہ معمول کے خلائی طیارے کا تھا جس سے دوبارہ استعمال کے قابل خلائی طیاروں کی ٹیکنالوجی آزمائی جاتی ہے’۔

چینی وزارت خارجہ کے ترجمان ژاؤ لیجیان نے نے کہا کہ یہ عمل انسانوں کی جانب سے خلا کو پُرامن انسانی مقاصد کے لیے استعمال کرنے میں آسانی فراہم کرے گا’۔

چینی وزارت خارجہ کے ترجمان ژاؤ لیجیان نے کہا کہ ایف ٹی کی خبر غلط ہونے سے متعلق ایک سوال کے جواب میں ژاؤ لیجیان کا کہنا تھا کہ ’جی، یہ خبر غلط ہے‘۔چین کے ساتھ ساتھ امریکا، روس اور دیگر پانچ ممالک ہائپرسونک ٹیکنالوجی پر کام کر رہے ہیں۔

ہائپر سونک میزائل آواز کی رفتار سے 5 گنا سے زائد سے فاصلہ طے کر سکتے ہیں اور بیلسٹک میزائل کی طرح جوہری وارہیڈز لے جانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

تاہم بیلسٹک میزائل سطح سے بہت بلند ہونے کے بعد گھوم کر ہدف پر پہنچتے ہیں جبکہ ہائپرسونک میزائل نچلی سطح پر تیز رفتار سے اڑتے ہیں اور بہت تیزی سے ہدف تک پہنچتے ہیں۔قابل ذکر بات یہ ہے کہ ہائپرسونک میزائل حرکت پذیر ہیں جن کا پیچھا کرنا اور ان سے بچنا مشکل ہے۔

امریکا سمیت دیگر ممالک کروز اور بیلسٹک میزائل کے خلاف دفاع کا نظام تشکیل دے چکے ہیں ہائپرسونک میزائل کا پیچھا کرنے اور گرانے سے متعلق ان کی صلاحیت تاحال سوالیہ نشان ہے۔

Facebook Notice for EU! You need to login to view and post FB Comments!