fbpx

سیاستدانوں کی سیاست سےاُکتاگیاہوں:تجزیہ:-شہزادقریشی

پاکستان بطورریاست اور عام آدمی کے مسائل کو دیکھ کر سیاستدانوں کی سیاست سے اُکتا گیا ہوں۔ جھوٹ، نفرت ، الزام در الزام کی سیاست کی رونقیں عروج پرہیں۔ خود سیاستدان اوچھی حرکتوں سے خبروں میں ہیں۔ اوچھی حرکتوں سے ان سیاستدانوں نے 75سالوں سے اس ریاست کے ساتھ ایسے ایسے کھیل کھیلے کہ آج پاکستان بطور ہر لحاظ سے کنگال ہو چکی یا اسے کنگال کردیا گیا ہے۔ فوجی حکمرانوں نے بھی اقتدار کے مزے لوٹے آج پاکستان کے جو حالات ہیں۔ اس کار خیر مین سب کا حصہ ہے۔ ایک دوسرے کی آڈیو ویڈیو کی سیاست کا دور آچکا ہے۔ پردہ سکرین کے پیچھے کی خبروں سے عوام بے خبر نہیں باخبر ہو چکے ہیں۔

پیپلزپارٹی کسی زمانے میں نظریاتی جماعت تھی جب سے جناب آصف علی زرداری نے پیپلزپارٹی کی کمانڈ سنبھالی ہے نظریات دفن ہو چکے ہیں مفادات کو سامنے رکھ کر پیپلزپارٹی والے سیاست کررہے ہیں تاہم پیپلزپارٹی کو انہوں نے سندھ تک محدود کردیا ہے۔ اقتدار کی سودے بازی میں بھرپور حصہ لے رہے ہیں اپنی زندگی میں اپنے بیٹے بلاول بھٹو کو وزارت عظمی کی کرسی پر دیکھنا چاہتے ہیں۔ا س سلسلے میں بلاول بھٹو نے بطور وزیر خارجہ ریہرسل شروع کردی ہے۔ دوسری طرف پاکستان مسلم لیگ (ن) کے قائد میاں محمد نواز شریف واقعی ایک شریف آدمی ہیں نواز شریف فوج کے خلاف نہیں وہ آئین نے جو حدیں مقرر کیں اپنی اپنی حدود میں رہ کر ملک و قوم کی خدمت کرنے کا نعرہ بلند کرتے ہیں ان کی جماعت ہی کے کچھ افراد کی عادات آصف علی زرداری سے ملتی جلتی ہیں انہوں نے نواز شریف اور اُن کی بیٹی مریم نواز کی مقبولیت کو دیکھ کر ایسی سیاست کا انتخاب کیا جس سے اُن کو اقتدار تو مل گیا مگر مسلم لیگ (ن) کے بڑھتے ہوئے گراف کو نقصان پہنچا دیا

آج اقتدار توپی ڈی ایم جماعتوں کا ہے مگر عوام کی اکثریت(ن) لیگ پر الزام لگاتی نظر آرہی ہے ۔نواز شریف کو بے غرض اور بے لوث مشورے دینے والے بہت کم تعداد میں ہیں۔ کہا جارہا ہے کہ عمران خان کی زندگی کو خطرہ ہے ۔ میر ے نزدیک اُن کی جماعت تحریک انصاف بھی خطرے میں ہے آگے چل کر یہ جماعت بھی ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہونے والی ہے شکاریوں نے جال پھینک دیا ہے۔ فوج کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں فوج اپنے شاندار قومی سلامتی ملکی بقا کے فریضہ کو چھوڑ کر خود غرض اور لالچی سیاستدانوں کی سیاست میںکیسے دخل دے سکتی ہے ۔ مہنگائی ،بجلی کی لوڈ شیڈنگ نے عام آدمی سے جینے کا حق چھین لیا ہے ۔ بجلی جس کی نایابی کے لیے عوام فریادی ہیں ۔ بجلی نہ ہوئی قہر خداوندی ہوا دنیا کہاں سے کہاں پہنچ گئیں ہم آجتک بجلی کی لوڈ شیڈنگ کا رونا رو رہے ہیں خدا کی پناہ لوگوں کے کاروبار بھی بند کررہے ہیں۔

 

 

 

سیاستدانوں کی سیاست سے اکتا گیا ہوں:

(تجزیہ شہزاد قریشی)