سیاست میں شرافت کے پیکرچوہدری شجاعت حسین بیمارہیں،اللہ ان کوجلد صحت کاملہ عطافرمائے ،مبشرلقمان

لاہور:سیاست میں شرافت کے پیکرچوہدری شجاعت حسین بیمارہیں،اللہ ان کو صحت کاملہ عطافرمائے ،اطلاعات کے مطابق معروف صحافی مبشرلقمان نے دعائے صحت کرتے ہوئے بتایا ہے کہ پاکستان کے بزرگ سیاستدان ، جنہیں سیاست میں شرافت کی علامات کہا جاتا ہے اورجنہیں دنیا چوہدری شجاعات حسین کے نام سے یاد کرتی ہے سخت بیمار ہیں ،

باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق اس سے قبل پچھلے سال چوہدری شجاعت حسین علاج معالجہ کے لیے کچھ عرصہ سے جرمنی میں مقیم تھے ۔ وہاں بھی ان کا علاج معالجہ کیا گیا

معروف صحافی مبشرلقمان نے اپنے ٹویٹ پیغام میں دعائے صحت کرتے ہوئے کہا ہےکہ چوہدری شجاعت پاکستان کی سیاست کے ایک روشن باب ہیں اورہمیشہ پاکستان کی سیاست کی ہے ، مبشرلقمان نے ان کے لیے دعا کرتے ہوئے کہا کہ اللہ تعالٰی چوہدری شجاعت حسین کو جلد صحت کاملہ عاجلہ عطا فرمائے ،

چودھری شجاعت اپنی سیاسی ذہانت ، روادار رویہ اور کنبہ اور دوستوں کے ساتھ وفاداری کے لئے جانے جاتے ہیں اور ان کی بیماری کی خبروں نے ان کے چاہنے والوں کو غمگین کردیا ہے۔ دوسری طرف باغی کی ٹیم ان کی جلد اور مکمل صحت یابی کے لئے دعا گو ہے ۔

یاد رہے کہ چودھری شجاعت حسین 1946ءمیں پیدا ہوئے ۔ ان کا تعلق گجرات کے جاٹ خاندان سے ہے جو تقریباً پچیس سال قومی سیاست میں سرگرم ہیں۔ ان کے والد چودھری ظہور الٰہی متوسط طبقہ سے تھا۔ وہ ایوب دور میں سرکاری جماعت کنوینشن مسلم لیگ کے سیکرٹری جنرل رہے اور ایوب کی فوجی حکومت کی سرپرستی میں پنجاب میں جاٹ برادری کے ایک نمایاں سیاست دان کے طور پر جانے لگے۔

چوہدری ظہور الٰہی نے ذو الفقار علی بھٹو کی سخت مخالفت کی اور 1977کے انتخابات کے وقت وہ جیل میں تھے۔ جنرل ضیاءالحق کے مارشل لا دور میں ظہور الٰہی وفاقی وزیر رہے ۔ ظہور الہی کو 25ستمبر1981کو لاہور میں قتل کر دیا گیا ۔

شجاعت حسین نے اپنے والد کی وفات کے بعد سیاست میں قدم رکھا اور ضیاءالحق کی مجلس شورٰی کے رکن رہے۔ 1985 کے انتخابات میں وہ پہلی مرتبہ قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے اور وزیر اعظم محمد خان جونیجو کی کابینہ میں وزیر صنعت رہے۔چودھری شجاعت 1988، 1990 اور 1997 کے عام انتخابات میں بھی رکن قومی اسمبلی منتخب ہوئے۔

1986 میں چودھری خاندان نے پنجاب کی وزارت اعلیٰ کے لیے اس وقت کے وزیراعلیٰ نواز شریف کے خلاف بغاوت کی لیکن اسے ناکامی کا ہوا۔شجاعت حسین نواز شریف کے دور میں وفاقی وزیر داخلہ بھی رہے ۔
چوہدری شجاعت حسین 2003ءمیں میاں اظہر کے مستعفی ہونے کے بعد مسلم لیگ ق کے صدر منتخب ہوئے۔ جب 2004ءمیں میر ظفراللہ جمالی نے وزیراعظم کے عہدے سے استعفیٰ دیا تو ان کو ملک کا وزیراعظم منتخب کیا گیا۔ وہ دو ماہ تک ملک کے وزیراعظم رہے۔

چوہدری شجاعت کے کزن چوہدری پرویز الہی ا س وقت پنجاب اسمبلی کے سپیکر ہیں۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.