fbpx

اپنی آئینی ذمہ داریاں پوری کروں گا:اسد قیصرکااعلان:آئینی ذمہ داریوں کاسُن کراپوزیشن پریشان

لاہور: اپنی آئینی ذمہ داریاں پوری کروں گا: اسد قیصرنے اعلان کیا تو دوسری طرف اپوزیشن والے گھبرا گئے اور یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ پریشانی کے عالم میں ایک دوسرے سے رابطے بھی کررہےہیں ، متحدہ اپوزیشن کی طرف سے وزیراعظم عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد آنے کے بعد سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے کہا ہے کہ اپنی آئینی ذمہ داریاں پوری کروں گا۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر اپنے ایک بیان میں انہوں نے لکھا کہ میں ملکی قومی اسمبلی کا نگراں ہونے کے ناطے اپنی آئینی ذمہ داریاں پوری کروں گا اور آئین کے آرٹیکل95 اور قومی اسمبلی کے رولز آف بزنس 2007 کے رول 37 کے تحت کارروائی ہو گی۔

خیال رہے کہ ان دنوں ملکی سیاسی صورتحال میں گہما گہمی ہے کیونکہ اپوزیشن ارکان نے وزیرِ اعظم عمران خان کے خلاف قومی اسمبلی سیکریٹریٹ میں تحریکِ عدم اعتماد جمع کرائی ہے۔

 

 

تحریکِ عدم اعتماد پر ن لیگ، پیپلز پارٹی، اے این پی سمیت 86 اراکین کے دستخط ہیں۔ تحریکِ عدم اعتماد قومی اسمبلی سیکریٹریٹ کے سٹاف نے وصول کی۔

اس حوالے سے جہاں وزیراعظم عمران خان کے مخالفین سامنے آرہے ہیں تو وہیں اُن کے حمایتی خوب اُن کا ساتھ دیتے نظر آرہے ہیں۔ اب دیکھنا یہ ہے کیا وزیرِاعظم عمران خان کے خلاف اپوزیشن کی جانب سے قومی اسمبلی سیکریٹریٹ میں جمع کروائی گئی تحریکِ عدم اعتماد کامیاب ہوسکے گی یا نہیں۔

واضح رہے کہ 8 مارچ کو اپوزیشن ارکان نے اسپیکر آفس میں وزیراعظم کیخلاف تحریک جمع کرائی ہے۔ تحریک قومی اسمبلی کی کل رکنیت کی اکثریت سے منظور ہو جانے پر وزیر اعظم اپنے عہدے پر فائز نہیں رہ سکیں گے۔ اس وقت قومی اسمبلی میں تحریک عدم اعتماد کی کامیابی کے لیے 172 ووٹ درکار ہیں۔

متحدہ اپوزیشن نے تحریک عدم اعتماد کو کامیاب بنانے کے لیے اتحادی جماعتوں کے ممبران اسمبلی کونشانے پر رکھے ہوئے ہیں۔ اگر اپوزیشن حکومتی اتحادیوں جماعتوں کے 10 ارکان لینے میں کامیاب ہو جاتی ہے تو تحریک کامیاب ہو جائے گی۔

قومی اسمبلی میں حکمران جماعت پی ٹی آئی کو اتحادیوں سمیت 178 اراکین کی حمایت حاصل ہے۔ ان اراکین میں پاکستان تحریک انصاف کے 155 اراکین، ایم کیو ایم کے 7، بی اے پی کے 5، مسلم لیگ ق کے بھی 5 اراکین، جی ڈی اے کے 3 اور عوامی مسلم لیگ کے ایک رکن حکومتی اتحاد کا حصہ ہیں۔

حزب اختلاف کے کل اراکین کی تعداد 162 ہے۔ ان میں اپوزیشن کی سب سے بڑی جماعت مسلم لیگ ن کے 84، پاکستان پیپلز پارٹی کے 57 اراکین، متحدہ مجلس عمل کے 15، بی این پی کے 4 جبکہ عوامی نیشنل پارٹی کا ایک رکن شامل ہے۔ اس کے علاوہ 2 آزاد اراکین بھی اس اتحاد کا حصہ ہیں۔