fbpx

اداروں کیخلاف وال چاکنگ کرنے والا ملزم گرفتار

اداروں کیخلاف وال چاکنگ کرنے والا ملزم گرفتار

باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق قومی سلامتی اداروں کے خلاف وال چاکنگ پر پولیس نے کاروائی کی ہے اور ملزم کو گرفتار کر لیا ہے

واقعہ راولپنڈی کا ہے، پولیس نے قومی سلامتی اداروں کے خلاف دیوار پر تحریر لکھنے پر ملزم کے خلاف مقدمہ درج کے ملزم کو حوالات منتقل کر دیا ہے، پولیس کے مطابق تھانہ روات پولیس نے کاروائی کی ہے، پولیس کو اطلاع ملی تھی کہ تھانے کی حدود میں قومی سلامتی اداروں کے خلاف جملے درج کئے گئے ہیں جس پر پولیس نے ایکشن لیاہے اور ملزم کو گرفتار کیا ہے،

پولیس حکام کے مطابق روات پولیس نے دیوار پر اشتعال انگیز الفاظ کی تحریر سامنے آنے پرمقدمہ درج کیا اور ملزم سلیمان خالد کو ٹریس کرکے گرفتارکرلیا ،ملزم کو سی سی ٹی وی فوٹیج کی مدد سے پہچانا گیا ہے، ملزم کومیرٹ پر تفتیش کرتے ہوئے ٹھوس شواہدکے ساتھ چالان عدالت کیا جائے گا۔

واضح رہے کہ قومی سلامتی اداروں کے خلاف سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر بھی مہم چلانے والوں کو گرفتار کیا گیا ہے، اہم شخصیات اور اداروں کے‌خلاف سوشل میڈیاپر ٹرینڈ چلانے والوں کی فہرستیں تیار ہو گئی ہیں سوشل میڈیا پر اداروں کے خلاف سرگرم عمل صارفین کو نہ صرف گرفتار کیا جائے گا بلکہ دہشت گردی ایکٹ کے تحت مقدمات درج کئے جائیں گے ، اس ضمن میں پنجاب کے تمام شہروں میں اداروں پر تنقید کرنے والوں کی لسٹیں فراہم کر دی گئی ہیں، قانون نافذ کرنے والے ادارے متحرک ہو چکے ہیں،دوسری جانب اداروں پر تنقید کرنے والے تحریک انصاف کے کئی سوشل میڈیا کارکنان روپوش ہو چکے ہیں لاہور کے اندر کئی کارکنان نے ٹویٹر کا استعمال چھوڑ دیا ہے اور گرفتاری کے ڈر سے گھروں سے روپوش ہیں،پولیس مسلسل چھاپے مار رہی ہے تا ہم گرفتاریاں کئی افراد کی روپوشی کی وجہ سے نہیں ہو سکیں

بھارت ، سال کے ابتدائی چار ماہ میں کی 808 کسانوں نے خودکشی

سال 2020 کا پہلا چائلڈ پورنوگرافی کیس رجسٹرڈ،ملزم لڑکی کی آواز میں لڑکیوں سے کرتا تھا بات

فیس بک، ٹویٹر پاکستان کو جواب کیوں نہیں دیتے؟ ڈائریکٹر سائبر کرائم نے بریفنگ میں کیا انکشاف

ٹویٹر پر جعلی اکاؤنٹ، قائمہ کمیٹی اجلاس میں اراکین برہم،بھارت نے کتنے سائبر حملے کئے؟

ہمارا سوشل میڈیا کا کوئی کارکن یا زمہ دار گرفتار نہیں،ترجمان تحریک لبیک پاکستان

اداروں پر تنقید کرنیوالے گرفتاری کے خوف سے روپوش ہو گئے

سوشل میڈیا ایکٹیوسٹ کو ہراساں کرنے پر عدالت کا بڑا حکم