fbpx

جنیوا کانفرنس: اسلامی ترقیاتی بینک کا پاکستان کو4 ارب 20 کروڑ ڈالر دینے کا اعلان

اسلامی ترقیاتی بینک نے سیلاب سے متاثرہ پاکستانی علاقوں میں تعمیر نو اور بحالی کے لیے 4 ارب 20 کروڑ ڈالر دینے کا اعلان کیا ہے۔

باغی ٹی وی :پاکستان کی سربراہی میں سوئٹزرلینڈ کے شہر جنیوا میں موسمیاتی تباہ کاریوں کے باعث ہونے والے نقصان کے ازالے اور مدد کے لیے کانفرنس جاری ہے۔

اسلامی ترقیاتی بینک کے صدر نے جنیوا میں پاکستان میں سیلاب سے متاثرہ علاقوں کی تعمیرنو اور بحالی کے حوالے سے جاری کانفرنس کے دوران پاکستان کے لیے بڑا اعلان کیا۔

اسلامی ترقیاتی بینک کے صدر کا کہنا تھا کہ پاکستان کو 3 سال میں 4 ارب 20 کروڑ ڈالر فراہم کیے جائیں گے۔

اس کے علاوہ عالمی بینک نے بھی متاثرہ علاقوں میں 2 ارب ڈالر کے ترقیاتی منصوبے مکمل کرنے کا اعلان کیا ہے۔

اس سے قبل فرانس کے صدر ایمانوئیل میکرون نے بھی پاکستان کے لیے ایک کروڑ ڈالر امداد کا اعلان کیا جنیوا کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے فرانسیسی صدر میکرون نے امداد کا اعلان کیا ۔

انہوں نے کہا کہ ہم مالیاتی اداروں کے ساتھ مذاکرات میں پاکستان کی حمایت کرناچاہیں گے، فرانس طویل مدت میں پاکستان کی ضرورت کے مطابق مہارت اور مالی امداد فراہم کرتارہےگا۔

ایمانوئیل میکرون کا کہنا تھا فرانسیسی عوام اور حکومت کی جانب سے پاکستانی عوام سے ہمدردی کا اظہار کرتے ہیں، پاکستان کے عوام نے بہادری سے سیلاب سے ہونے والی تباہی کا مقابلہ کیا۔

یو این سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس کا کہنا تھا میں نے خود پاکستان جا کر سیلاب سے متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا، پاکستان میں سیلاب کے باعث بہت بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی ہے، سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں تعمیر نو کے لیے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کی ضرورت ہے۔

یو این سیکرٹری جنرل کا کہنا تھا پاکستان میں سیلاب سے متاثرہ علاقوں کا حال دیکھ کر دل ٹوٹ گیا لیکن مشکل حالات میں بھی پاکستانی عوام کا جذبہ دیکھ کر حیران ہوا۔

ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوان کا کہنا تھا پاکستان کو تاریخ کے بدترین سیلاب کا سامنا کرنا پڑا، مشکل کی اس گھڑی میں پاکستان کی حکومت اور عوام کے ساتھ کھڑے ہیں پرامید ہوں کہ کانفرنس کےانعقاد سےپاکستان کو سیلابی تباہی سے بحالی میں مدد ملے گی۔

وزیراعظم شہباز شریف نے پاکستان کے لیے امداد کا اعلان کرنے پر تمام ممالک کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ پاکستان مشکل وقت میں تعاون کرنے والے ممالک کو ہمیشہ یاد رکھے گا۔

قبل ازیں وزیر اعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ سیلاب سے متاثرہ علاقوں کی بحالی کا تخمینہ 30 ارب ڈالرز سے زائد ہے اور پاکستان کو فوری طور پر تعمیر نو اور بحالی کے لیے 16 اعشاریہ 3 بلین ڈالرز کی ضرورت ہے۔

وزیراعظم شہباز شریف کا تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہنا تھا سیلاب سے پاکستان میں بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی، پاکستان میں سیلاب نے متاثرین کی زندگی بدل کر رکھ دی ہے، آج ہم تاریخ کے اہم موڑ پر کھڑے ہیں، گزشتہ برس ستمبر میں یو این سیکرٹری جنرل کے ہمراہ سیلاب سے متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا، پاکستان کے عوام یو این سیکرٹری جنرل کے تعاون کو ہمیشہ یاد رکھیں گے، عالمی برادری کے بھی تعاون پر مشکور ہیں، مشکل وقت میں مدد کرنے والے ممالک کو پاکستان نہیں بھولے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ سیلاب سے کاشتکاری کو شدید نقصان پہنچا جس سے غذائی قلت نے جنم لیا، تعمیر نو کے ساتھ ملکی معیشت کی بحالی ہمارے لیے بڑا چیلنج ہے، سیلاب سے نقصان کا تخمینہ 30 ارب ڈالرز سے زیادہ ہے جو پاکستان کی جی ڈی پی کا 8 فیصد ہے پاکستان میں آنے والے حالیہ سیلاب سے 33 ملین لوگ متاثر ہوئے، انفرا اسٹرکچر کی تباہی سے معیشت بری طرح متاثر ہوئی، سیلاب سے مکانات، تعلیمی ادارے، زراعت کے شعبے کو نقصان پہنچا۔

شہباز شریف کا کہنا تھا سندھ اور بلوچستان کے کئی علاقوں میں تاحال سیلاب کا پانی موجود ہے، سیلاب متاثرین کو دوبارہ بحال کر کے اچھا مستقبل دینا ہے، سیلاب متاثرین کی بحالی اور تعمیر نو کے لیے فریم ورک تیار کیا ہے، فریم ورک پر کام کرنے کے لیے 16.3 بلین ڈالرز کی ضرورت ہے۔

قبل ازیں وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری نے افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کانفرنس کے شرکا کو خوش آمدید کہتا ہوں۔

بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ پاکستان میں گزشتہ برس تباہ کن سیلاب آیا، پاکستان میں سیلاب سے تباہ کاریوں کا حجم بہت بڑا ہے، سیلاب سے 3 کروڑ 30 لاکھ سے زائد افراد متاثرہ ہوئے۔

ان کا کہنا تھا کہ سیلاب کے 5 ماہ بعد بھی کئی علاقے زیر آب ہیں، سیلاب سے متاثر ہ علاقوں میں تعمیر نو کے اقدامات جاری ہیں، سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں لچکدار انفرا اسٹرکچر کی تعمیر اولین ترجیح ہے، متاثرہ علاقوں میں تعمیر نو کے لیے اگلے کئی سالوں تک ہمیں اپنے شراکت داروں سے خاطر خواہ مدد کی ضرورت ہو گی۔

اجلاس میں وزیراعظم پاکستان شہباز شریف کے علاوہ وفاقی وزراء بھی شریک ہیں جبکہ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس اور دیگر عالمی رہنما بھی اجلاس میں شرکت کر رہے ہیں۔