fbpx

عدلیہ پرتنقید:عدالت نے اےآروائی کے بیوروچیف کو طلب کرلیا

اسلام آباد :عدلیہ پرتنقید :عدالت نے اےآروائی کے بیوروچیف کو طلب کرلیا ،اطلاعات کے مطابق اسلام آباد ہائی کورٹ میں نجی ٹی وی چینل اے آر وائی نیوز کے سینیئر اینکر ارشد شریف کو ہراساں کرنے کے خلاف کیس کی سماعت کے حوالے سے عدالت نے اے آر وائی کے بیوروچیف کو طلب کرلیا ہے ، اور کہا ہے کہ وہ آئین کے آرٹیکل 19 اے کی کے استعمال کے حوالے سے اپنے ادارے کی پالیسی وضح کریں

اس سے پہلے جمعے کے روز اس کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ نے ریمارکس دیے کہ ’ایک بیانیہ بنا دیا گیا کہ عدالتیں کھلیں، عدالتیں کھلیں گی اور کسی کو آئین کی خلاف ورزی کی اجازت نہیں دیں گے۔‘

چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ جسٹس اطہر من اللہ نے یہ بھی کہا کہ ’ارشد شریف کی پٹیشن کاغذ کا ایک ٹکڑا تھی مگر ہم نے سنا۔ آپ کہتے ہیں اس رات عدالت کیوں کھلی، کیا آپ کا چینل آئین کو عدالت سے بہتر سمجھتا ہے۔‘چیف جسٹس اطہر من اللہ نے یہ بھی کہا کہ معاملہ آئین یا کسی پسے ہوئے طبقے کا ہو تو عدالتیں رات تین بجے بھی کھلیں گی۔

واضح رہے کہ جمعرات کو صحافی ارشد شریف کی طرف سے دائر کردہ درخواست پر سماعت کے دوران چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ جسٹس اطہر من اللہ نے ایف آئی اے کو ارشد شریف سمیت کسی بھی صحافی کے خلاف کارروائی سے روکتے ہوئے ڈی جی ایف اے اور آئی جی اسلام آباد کو نوٹسز جاری کیے تھے۔

جمعے کو دوران سماعت ایف آئی اے نے عدالت کو بتایا کہ انھوں نے ارشد شریف کے خلاف نہ تو کوئی ایکشن لیا اور نہ ہی کوئی انکوائری کی ہے جبکہ اس حوالے سے تحریری وضاحت بھی جاری کر دی گئی ہے۔’معاملہ آئین یا کسی پسے ہوئے طبقے کا ہو تو عدالتیں رات تین بجے بھی کھلیں گی‘

دوران سماعت چیف جسٹس اطہر من اللہ نے اے آر وائی نیوز پر کاشف عباسی کے پروگرام کا حوالہ دیتے ہوئے ارشد شریف کے وکیل فیصل چوہدری سے پوچھا کہ ’کیا آپ نے کاشف عباسی کا پروگرام دیکھا؟‘’پروگرام میں حقائق کی تصدیق کے بغیر کیا کچھ کہا گیا، انھوں نے کہا کہ عدالت رات کو کیوں کھلی؟ عدالت سے عوام کا اعتماد اٹھانے کی کوشش کی گئی۔‘

چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ نے یہ ریمارکس بھی دیے کہ ’ایک بیانیہ بنا دیا گیا کہ عدالتیں کھلیں، عدالتیں کھلیں گی اور کسی کو آئین کی خلاف ورزی کی اجازت نہیں دیں گے۔‘