اگرکچھ نہ کیا تو دنیا کی ایک چوتھائی آبادی کی آنکھیں جواب دے جائیں گی: عالمی ادارہ صحت کی پھروارننگ

0
53

نیویارک :عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے مطابق پوری دنیا میں اس وقت 2.2 ارب سے زیادہ افراد آنکھوں کی بیماریوں میں مبتلا ہیں جبکہ ترقی پذیر ممالک میں ان کی تعداد، ترقی یافتہ ممالک کے مقابلے میں چار گنا زیادہ ہے۔ متاثرہ افراد میں سے 50 فیصد کا مرض قابل علاج ہے۔

اگر مناسب اقدامات نہ کیے گئے تو پوری دنیا میں نابینا افراد کی تعداد 2050 تک 11 کروڑ 50 لاکھ کا ہندسہ عبور کرسکتی ہے جو موجودہ تعداد کے مقابلے میں تقریباً تین گنا ہوگی۔ اس کے سالانہ نقصان کا تخمینہ 410.7 ارب ڈالر لگایا گیا ہے۔

جبکہ پاکستان میں 20 لاکھ سے زائد افراد بینائی سے محروم ہیں۔

اگرکچھ نہ کیا تو دنیا کی ایک چوتھائی آبادی کی آنکھیں جواب دے جائیں گی: عالمی ادارہ صحت کی وارننگ،اطلاعات کے مطابق عالمی ادارہ صحت ایک بار پھر خبردار کیا ہے کہ اگرآنکھوں کی بیماروں سے متعلق احتیاط نہ برتی گئی تودنیا کی چوتھائی آبادی آنکھوں کے خطرناک امراض کی شکار ہوجائے گی جس کا نتیجہ خطرناک نکل سکتا ہے

عالی ادارہ صحت کے مطابق ان میں سے نصف کیسز، یا ایک ارب کے قریب کیسز، روکے جا سکتے ہیں کیونکہ انہیں محض لاپرواہی (یا آگاہی کی کمی) کی وجہ سے نظر انداز کیا گیا تھا۔ڈبلیو ایچ او کی اس رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ دنیا کی بڑھتی ہوئی آبادی کی وجہ سے نابینا پن یا بینائی سے محرومی کے کیسز میں ڈرامائی اضافہ ہو سکتا ہے۔

رپورٹ کے مطابق دنیا میں تقریباً 1.8 بلین لوگ پری بائیوپیا کا شکار ہیں۔ اس بیماری میں لوگ آس پاس کی چیزیں نہیں دیکھ پاتے۔ یہ بیماری بڑھتی عمر کے ساتھ آتی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ میوپیا (ایک بیماری جس میں لوگ دور کی چیزوں کو نہیں دیکھ سکتے) دنیا میں 2.6 بلین لوگوں میں موجود ہے۔اس میں سے 312 کروڑ مریض 19 سال سے کم عمر کے ہیں۔ اس کے علاوہ دنیا میں موتیا کے مریضوں کی تعداد 65 ملین اور گلوکوما کے مریضوں کی تعداد تقریباً 7 ملین ہے۔

اگرچہ دنیا میں ٹریکوما کے مریضوں کی تعداد 20 لاکھ ہے اور یہ بیکٹیریل انفیکشن کی وجہ سے ہوتا ہے ۔ بصارت کی خرابی سے جڑا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ یہ معیار زندگی کو متاثر کرتا ہے۔ اس کا اثر زیادہ ترمعمرافراد پر پڑتا ہے۔نابینا پن نہ صرف معاشی انحصار کو بڑھاتا ہے اور پیداواری صلاحیت کو کم کرتا ہے بلکہ یہ معیشت کو بھی نقصان پہنچاتا ہے۔ عالمی ادارہ صحت کی دستاویز میں لکھا گیا ہے کہ بصارت کے نقصان اور علاج نہ کیے جانے والے مایوپیا سے عالمی معیشت کو 244 بلین ڈالر اور پریس بائیوپیا کو 25.4 بلین ڈالر کی پیداواری نقصان کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔

اس رپورٹ میں لکھا گیا ہے کہ بصارت کی کمزوریوں کے کیسز زیادہ آمدنی والے طبقے کی نسبت کم اور درمیانی آمدنی والے طبقے میں زیادہ ہیں۔ دنیا کے کل بصارت سے محروم افراد (217 ملین) میں سے 62 فیصد صرف ایشیا میں ہیں۔ ان میں سے زیادہ تر جنوبی ایشیا، مشرقی ایشیا اور جنوب مشرقی ایشیا میں ہیں۔

عالمی ادارہ صحت نے واضح طور پر کہا ہے کہ ان کا مرد یا عورت ہونے کے درمیان کوئی براہ راست تعلق نہیں ہے۔ لیکن رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ موتیا بند اور trachomatous بیماریاں خواتین میں زیادہ پائی جاتی ہیں اور یہ بیماری کم اور درمیانی آمدنی والے گروپوں میں زیادہ دیکھی جاتی ہے۔اس معاملے میں دیہی اور شہری فرق بھی ہے۔ یہ کوئی تعجب کی بات نہیں ہے کہ ملک کے دیہی علاقوں میں موتیا بند کے زیادہ کیسز ہیں اور ان کے آپریشن کی کوریج بھی کم ہے۔

یاد رہے کہ بڑھتی عمر کے ساتھ، آنکھوں کی مناسب دیکھ بھال انتہائی ضروری ہے،یہ بھی یاد رہےکہ انہیں حقائق کی حساسیت سے متعلق ڈبلیو ایچ او نے دو سال قبل اپنی پہلی ورلڈ ویژن رپورٹ میں متنبہ کیا تھا کہ دنیا میں بڑھتی ہوئی آبادی کا مطلب نابیناپن میں بے اضافہ ہونا ہے۔اب تازہ رپورٹ میں عالمی ادارہ صحت نے خبردارکرتے ہوئے عالمی قوتوں کواس پرفی الفور کام کرنے پر زور دیا ہے ،

Leave a reply